اداریہ الواقعۃ کے مقصد اجراء مضمون نگاروں کی فہرست
تبصرہ کتب اردو فونٹ انسٹال کریں

ہفتہ، 3 نومبر، 2012

المغراف فی تفسیر سورہ ق


جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/  اگست ، ستمبر 2012

المغراف فی تفسیر سورہ  ق




مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی



قسط نمبر 4

(١) جو خدا ایسی عظیم الجثہ کثیر المنافع چیز کے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے ، وہ مردوں کو بھی زندہ کرنا اپنی قدرت میں رکھتا ہے ۔

(٢) زمین اس کا ملک ہے ، اور سارے مخلوقات اس کی رعایا اپنے ملک کی آراستگی و انتظام و رعایا کی تعلیم و تربیت کی غرض سے کسی بشر کو اپنا قانون لے کر بھیجنا اور تعلیم گاہیں کھولنا کتابیں متعین کرنا کچھ بھی جائے تعجب و اعتراض نہیں ۔

(٣) زمین باوجود اس کے کہ زمین ہونے میں ہر جگہ یکساں ہے مگر کہیں پیداوار کی صلاحیت اور معدنی ہونے کی حیثیت سے قابل قدر ہے ، اور دوسری جگہ بسبب شور و سنگلاخ ہونے کے ناقابل ۔

(٤) زمین میں سیکڑوں شہر اور دیہات آباد ہیں ، چھوٹے سے چھوٹاکوئی شہر لو اور دیکھو تو ایک حاکم، کچہری، بازار ، جیلخانہ ، شفا خانہ ، باغات ضرور اس میں ہوگا ۔

کچہری میں مختلف قسم کے آدمی ہوتے ہیں کوئی سرکاری ملازم ، کوئی مدعی ، کوئی مدعا علیہ ، کوئی گواہ ، کوئی مقدمہ جیت کر خوش خوش ہر ایک کو اپنے متعلقِ فیصلہ کی نقل سناتا پھر تا ہے ۔ کوئی ہار کر افسردہ دلگیر چلا جاتا ہے ، کوئی پاداش جرم میں پابہ زنجیر کشاں کشاں حاکم کے روبرو دلایا جاتا ہے ، اور مارے ہراس و ندامت کے حواس باختہ ہے ، کوئی بڑے اعزاز کے ساتھ سواریوں پر لباس فاخرہ پہنے چلا آتا ہے ۔ حاکم کسی کے صلۂ خدمت میں انعام کا پروانہ دے رہا ہے اور کسی کو پاداش جرم میں سزائے موت یا جیل یا جلائے وطن ہونے کا حکم سنا رہا ہے ۔

پھر بازار میں آئو کہیں نقود پرکھے جارہے ہیں کہ کھرے ہیں یا کھوٹے ، کوئی اپنے محاصل کے جانچنے کو بھی کھاتا کھولے حساب و کتاب میں مشغول ہے ، کہیں ترازونصب ہیں اور کہیں ناپ جوکھ جاری ہے ، کوئی خریدار ہے ، کوئی بیچنے والا۔
بیمارستان (ہسپتال) میں آؤ تو کتنے قسم کے آزار دہ امراض میں مبتلا پڑے نظر آتے ہیں ۔ کوئی سسک رہا ہے کوئی مارے تکلیف کے غش میں ہے ، کوئی جاں بلب آہیں کھینچ رہا ہے ۔

جیل خانے میں دیکھئے تو مختلف جرائم کے مختلف میعادی محبوس ہیں اور ذلت و خواری میں پڑے غم کھاتے ہیں ۔

امراء اور خوشحال اپنے باغوں اور محلوں میں پری جمالوں کے ساتھ عیش و عشرت میں مصروف اور خوش وقت ہیں ۔

بروزِ حشر یہی زمین کھینچ کر نہایت وسیع بنادی جائے گی اور یہی واقعات بیع و شرا جنت و نار کے اعمال سے ۔ اور فصلِ خصومات ۔ اور وزنِ اعمال اور مخفیات کی جانچ اور حساب و کتاب ہوں گے ۔ اور یہ ممکن ہے اس لیے کہ جو کام سیکڑوں برس سے ہورہا ہے ، وہی کام بہت دیر تک بہت زیادہ کرکے آسانی سے کیا جاسکتا ہے ، جیسا ارشاد ہوا کہ 
(وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ   Ǽ۝ۙ) (الانشقاق: ٣)  "جب زمین کھینچ کر پھیلائی 

جائے۔" اور فرمایا 
(يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ) (ابراہیم: ٤٨) 

"جس دن زمین اور آسمان کی موجودہ حالت بدل دی جائے گی اور سب لوگ 

اللہ کے حضور میں حاضر ہوں گے ۔" 
اور فرمایا : 
(وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ 

وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ       69؀) )الزمر:٦٩( 

زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔
غرض زمین میں بھی دلائل توحید و حشر و نشر واضح طور پر موجود ہیں ، جیسا کہ ارشاد ہوا :)   وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ       20؀ۙ) (الذاریات:٢٠) "یقین لانے والوں کے لیے زمین میں بہیتری نشانیاں موجود ہیں ۔" اگر اس سے بھی نہ سمجھیں تو دیکھیں کہ ( وَ أَلْقَیْْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ ) "اور ہم نے ڈال رکھے ہیں اس میں اونچے اونچے پہاڑ" جو زمین کو ہلنے سے اور بعض بلادِ معمورہ پر سمندر کو بہ نکلنے سے روکے ہوئے ہیں ۔
(١) پہاڑ بھی مخلوقاتِ ارضیہ میں سے ایک مخلوق ہے مگر تمام مخلوقات ارضی کو ہلاکت سے روکے ہوئے ہے ۔ اس لیے اس کا رُتبہ بلند ہے ۔ اسی طرح سے منجملہ انسانوں کے ایک انسان ایسا پیدا کیا جا سکتا ہے جو اپنے تمام بنی نوع کو ہلاکتِ ابدی سے بچارکھے اور اس سبب سے تمام بنی نوع سے اس کا پایہ بلند ہو ۔

(٢)باوجود اس کے کہ پہاڑ بھی مخلوقات ارضیہ سے ہے مگر سب سے ارفع ، سخت ، انفع اور اٹل ہے ۔ اسی طرح سے اپنے تمام جنس میں سے ایک فرد انسان ارفع و اعلیٰ اونچی شان والا ہوسکتا ہے اور وہ انبیاء ہیں ۔

(٣) پہاڑوں میں سے بعض بعض پتھر جو منجملۂ اجزائے کوہ ہیں ، تاثیرات علوی سے جواہر بیش بَہا مثلاً لعل و یاقوت و الماس وغیرہا بن جاتے ہیں ۔ اور درحقیقت ہیں تو پتھر ہی ، اور انہیں پہاڑوں کے اجزاء مگر من حیث بہا (قیمت) و رونق و قدر و قیمت کوئی نسبت اپنے ہم جنسوں سے نہیں رکھتے ۔ اسی طرح کسی بشر میں تاثیرات علوی سے نبوت کا پایا جانا اور اس سبب سے اپنے تمام ہم چشموں سے بہا (قیمت) و رونق و قدر و منزلت میں فائق ہوجانا کوئی جائے تعجب نہیں ۔
(٤) پہاڑوں میں اکثر معدنیات ودیعت (پوشیدہ) رکھے ہوتے ہیں اور انسان بہیترے آثار و قرائن سے ان کا پتا لگا کر نکالتے ہیں ۔ نکلنے کے وقت تھکے اور ڈھیلے ہوتے ہیں ۔ بعد استخراج ( علیحدہ کرنا) کے مختلف اشکال و اوضاع (صورت) میں لائے جاتے ہیں ۔ کوئی ظروف (برتن) ، زیور و مضروب سکے بنتے ہیں ۔ کوئی آلات حراست و حرب بنائے جاتے ہیں ۔ پھر جب چاہتے ہیں گلا کر مثل سابق تھکّا (مائع ) بنا ڈالتے ہیں ۔ پس جو خدا اپنے مخلوقات کو آثار و علامات کی حس بخشتا ہے اور معدنیات کے مقام کی شناخت کی قدرت دیتا ہے ۔ جس کے سبب سے مدت ہائے دراز کے مودّع (پوشیدہ) چیزوں کو استخراج ( علیحدہ کرنا) کرکے کام میں لاتے ہیں ، وہ خدا کیا اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ انسان کو جو خاک میں مل گئے پھر واپس لائے ؟ اور اجزائے متفرق انسان کے مقام و محل کو پہنچا دے اور دوبارہ ان کو اصلی صورت و شکل پر لوٹا لائے 
(وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ        Ċ۝ۙ (١)  ) (سورہ ق :٧) "اور میں نے اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں ۔" 
جن کے رنگا رنگ پھول ، پتے ، ڈالیاں خود بھی دل لبھالینے والے ہیں اور اس تختہ زمیں کو جس پر اگتے ہیں ، خوشنما اور دلفریب بنا دیتے ہیں ۔

(١) جو خدا خود رو گھانس پات کے تخم  (بیج )کو زمین میں سڑ گل جانے اور انقلابات عظیم کے بعد طرح طرح کے شگوفے بنا کر نکالتا ہے ، وہ خدا انسان کو بھی زمین میں ایک مدت تک رہنے اور سڑ گل جانے کے بعد از سر نو پیدا کر سکتا ہے ۔

(٢) جس طرح عموماً نباتات بیچ سے سڑ گل کر درخت اور درخت سے پھول اورپھول سے پھل ہوتے ہیں ۔ اور پھر پھل میں وہی بیج موجود ہوتے ہیں ، جو زمین میں سونپے گئے تھے ، علیٰ ہٰذا القیاس خدا کی قدرت میں ہے کہ جو کچھ زمین کو سونپے بعد ایک مدت کے ہزاروں انقلاب اس میں ہوجائیں ۔ جب چاہے بعینہ جیسا سونپا تھا واپس لے ۔

(٣) جس طرح ہر نبات کا خلاصہ اور اس کی زینت و بہجت (خوشی) اس نبات کا پھول ہوتا ہے یا پھل، اور وہ درخت کا ایک جز ہی ہوتا ہے مگر خوشنمائی اور زینت و تر و تازگی و بو ولذت میں تمام اجزائے درخت سے فائق و ممتاز ہوتا ہے ۔ اسی طرح سے تمام بنی نوع انسان میں سے ایک شخص بسبب نبوت ممتاز و فائق ہوسکتا ہے ۔ جس کے سبب سے تمام بنی آدم کی رونق و بہا (قیمت) و زینت بڑھ جاتی ہے ۔

(٤) جس طرح درخت جڑ سے سر تک مختلف اجزاء سے مرکب ہوتا ہے جڑ کی پرورش در پردہ اجزائے ارضی سے ہوتی ہے ۔ جڑ تمام اجزائے ارضی سے غذا لے کر ہر اجزائے درخت کو پہنچاتا ہے ۔ جس کے سبب سے درخت کی زندگی اور ترو تازگی بحال رہتی ہے ۔ اسی طرح سے تمام بنی آدم کے مختلف المزاج اور مختلف الحالت افراد کے اصل اور باعثِ بقا وحیٰوةابدی --انبیاء --ہیں ۔ جن کی پرورشِ روحانی کا ذریعہ وحی و الہام ہے ، جو درپردہ اور مخفی ہوتا ہے اور وہ سارے بنی نوع کو اس سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔

تبصرہ
ان کاموں سے اور بنی آدم کے روبرو اس کارخانۂ عالم کے کھولنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سے ان کی ظاہری آنکھیں ان عجائبات کے نظارے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں ، اسی طرح ان کی قلبی آنکھیں بھی روشن ہوں اور جس طرح ظاہری آنکھ سے دیکھ کر ہر شے کی نسبت موسم و آب و ہوا کی تاثیرات کی جانب کرتے ہیں ۔یا کسان و مالکِ زمین اور مزدوروں کی حسن تدبیر و انتظام و جانفشانی کی طرف کرتے ہیں ۔ دلی آنکھ سے غور کریں اور ہر چیز کے بونے اور اُگانے اور پھیلانے اور مِلک و مُلک کی نسبت اصل مالک اور بونے والے اور اگانے والے اور پھیلانے والے کی طرف کریں اور راہِ صواب و قول حق کے اوپر آجائیں ، اور ظاہری اسباب کے پیچ میں پھنس کر اصل مسبب الاسباب (اسباب کو پیدا کرنے والا)کو نہ بھول بیٹھیں ۔ جیساکہ ارشاد ہوا 
( فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ  حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ  ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَهَا    ) (النمل:٦٠) 
''میں نے پانی کے ذریعہ سے خوشنما باغ اگائے ۔ تمہاری مجال نہ تھی کہ ان کے درختوں کو اگالیتے ۔''
( وَ ذِکْریٰ ) اور اس لیے کہ کارخانۂ عالم کی ہر چھوٹی بڑی چیزوں کو آسمان ہو یا اس کی فراخی و زینت ، زمین ہو یا اس کے نباتات کی خوبی و خوشنمائی ۔پہاڑ ہو یا اس کی رفعت و سختی دیکھ کرخدا یاد آئے اور اس کی خالقیت و حکمت و تدبیر و لطف و ترحم کا یقین بڑھے ۔
حواشی
(١)     ( زَوْجٍ ) بعض ائمہ مفسرین جن میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ بھی شامل ہیں ، نے زوج کے معنی جوڑا کیے ہیں ۔ یعنی قدرت الٰہیہ نے ہر صنفِ اشیاء و نباتات کو جوڑا جوڑا ( نر و مادہ ) بنایا ہے ۔قرآنی و حی و تنزیل کی صداقت کا یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ کائنات عالم کے جس اسرار کا انکشاف قرآن نے بغیر کسی مادّی وسائل کے چودہ صدی قبل کیا تھا آج سائنسی تحقیق بھی اسے درست تسلیم کرتی ہے ۔ ( بَہِیْجٍ ) کے معنی ہیں خوش منظر و خوش نما ، حسین و دلفریب ۔


[جاري ہے۔۔۔۔۔]

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنی رائے دیجئے