جریدہ "الواقۃ" کراچی،
شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013
ایک خط۔ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہکا ایک پُر از معارف مکتوب بنام شاہ محمد سلیمان پھلواروی رحمۃ اللہ
تاریخ
و ادب میں خطوط کی بڑی اہمیت ہے ، پھر اگر کوئی خط ایسا ہو جس کا لکھنے والا اور
جس کو لکھا گیا ہو، دونوں تاریخ کی اہم شخصیتیں رہی ہوں تو وہ اور زیادہ گراں قیمت
ہو جاتا ہے ۔ یہ خط برعظیم کے مشہور و معروف بزرگ حضرت میاں صاحب مولانا سیّد نذیر
حسین محدث کا ہے ۔ 1857ء کی تباہی کے بعد جو چند نادر الوجود عظیم المرتبت شخصیتیں
مرکزِ علوم و فنون کی حیثیت سے باقی رہ گئی تھیں ان میں ایک میاں صاحب بھی تھے ۔
1857ء کا ہنگامہ ختم ہونے کے بعد انگریزوں نے بچے کھچے علماء و زعماء پر کئی
مقدمات بغاوت چلائے تھے، پھر ان کو پھانسیاں دیں یا عبور دریائے شور کی سزا دی، تو
میاں صاحب بھی ماخوذ ہوئے اور ان پر مقدمہ چلا کوئی جرم تو ثابت نہ ہو سکا لیکن
سال بھر تک راولپنڈی جیل خانے میں انہوں نے بھی سزائے قید کاٹی اور رہائی کے بعد
ساری عمر اجڑی ہوئی دلی میں اپنی مسندِ علم بچھائے بیٹھے رہے اور ایک عالم کو فیض
پہنچاتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ برعظیم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں کچھ شاگرد
میاں صاحب کے موجود نہ رہے ہوں۔ اصل وطن ان کا چوارہ ضلع مونگیر ( بہار ) تھا لیکن
ایک مدت سے دلی میں رہ پڑے تھے آخر تک وہیں رہے اور وہیں پیوندِ خاک ہوئے۔ یہ خط
حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے نام ہے۔ شاہ صاحب ان کے شاگرد تھے اور اپنے
عہد کے مشہور و معروف عالم و خطیب، اسلامی ہند کے مقتدر رہنما اور مصلح۔