‏دجالیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏دجالیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 22 اکتوبر، 2013

Three devils of contemporary in the light of Surat ul Kahaf (The Cave) (اداریہ) عصرِ دجالیّت کے تین طاغوت سورة الکہف کی روشنی میں

مجلہ "الواقعۃ" شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

(اداریہ)
عصرِ دجالیّت کے تین طاغوت
سورة الکہف کی روشنی میں

Three devils of contemporary  in the light of Surat ul Kahaf (The Cave)

    محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سورة الکہف کا تعلق دجال اور دجالیت سے بہت گہرا ہے ۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے اس سورہ مبارکہ کو اگر عصرِ دجالیت سے ایک نسبت خاص دی ہے تو وہ بلا وجہ نہیں ۔ لازم ہے کہ اس سورت کا مطالعہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے انوارِ نبوت کی روشنی میں کیا جائے ۔ دجال ایک فرد بھی ہے اور ایک نظام بھی ۔ سورة الکہف میں اس نظام کے اجزائے ترکیبی کے مظاہر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ وہ نظر چاہیئے جو تعلیماتِ الہامی کی گہرائیوں میں اتر سکے ۔
سورة الکہف میں ہمیں تین طرح کے شرک کا ذکر ملتا ہے ۔

ہفتہ، 19 اکتوبر، 2013

دجّالیات سے ایمانیات تک۔ سودی معیشت غارتگر ایمان و اخلاق کا طوق گردن سے نکالو اور دنیا اور آخرت کے خسارے سے نجات حاصل کرو

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/مئی، جون 2013
دجّالیات سے ایمانیات تک
سودی معیشت غارتگر ایمان و اخلاق کا طوق گردن سے نکالو
 اور دنیا اور آخرت کے خسارے سے نجات حاصل کرو

محمد احمد

1- الحبّ للّٰہ و البغض للّٰہ ۔اسلامی دنیا میں مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ اس لیے جب غیر اسلامی دنیا (فقہاء جسے دار الحرب قرار دیتے ہیں ) کا ایک فر د برضا و رغبت دین اسلا م کی آغوش رحمت میں پناہ گزیں (دنیا نے اسے رفیوجی REFUGEEکا خطاب دیا ہے جبکہ فر مانروائے کائنات کی نظر میں وہ مہاجر کے لقب کا حق دار گردانا جا تا ہے ) ہو تا ہے تو فضاء میں نعرہ توحید اللہ اکبر کا غیر فانی ارتعاش بلند ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ لو گوں کے دلوں میں ایمان کی بالیدگی کا باعث بن جاتا ہے ۔آخر ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فر ما رہے ہوں :
(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ    ) (البقرة : ٢١٨)
“ البتہ ایمان لانے والے ، ہجرت کرنے والے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوارہیں ، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے ۔”