‏امریکی سیاست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏امریکی سیاست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 4 مارچ، 2013

نکسنیات سے دجالیت تک۔ ایک تحقیقی و تنقیدی اضافہ

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ 10 ربیع الاول 1433ھ/جنوری، فروری 2013

نکسنیات سے دجالیت تک۔ ایک تحقیقی و تنقیدی اضافہ

محمّد احمد

1۔ کرہ ارض پر بسنے والے دو گروہِ جن و انس اپنے ایمان اور عمل کے جواب دہ ہیں۔ ہر مسلمان بھائی سورہ رحمان میں بار بار بیان کی گئی آیت مبارکہ:" تو (اے جنو اور انسانو ) تم اپنے پر ورگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے؟" سے بخوبی واقف ہو گا۔ ہمیں نہ صرف اپنے انفرادی اعمال کی نگہداشت کر نی ہے۔ بلکہ اجتماعی امور میں بھی اپنا حصہ ڈالنا ہو گا تا کہ دنیا میں اچھی زندگی (حیات طیبہ ...النحل 97 ) کے ساتھ آخرت میں حق کی ترازو میں پلڑا بھاری ہو سکے۔

اتوار، 4 نومبر، 2012

نکسنیات سے دجالیات تک۔ پاکستان کس رُخ پر

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
نکسنیات سے دجالیات تک۔ پاکستان کس رُخ پر ؟
محمد احمد

قسط نمبر 2قسط نمبر 1
اس جنگ کی شروعات سے قبل مارشل اسٹالن نے روس کے باشندے مسلمانوں سے مذہبی اور سیاسی آزادی دینے کے بڑے وعدے کیے تھے ۔ مگر اپنی مطلب براری کے بعد سب کچھ طاقِ نسیاں ہوگیا اور حالات کا جبر اسی نہج پر رہا ۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین فولادی پردون کے پیچھے روپوش رہتے ہوئے چور دروازوں سے اشتراکی نظریات کے جراثیم برآمد کرتا رہا ۔ مسلم ممالک میں منافق ٹولہ ایسے اثرات قبول کر لیتا ہے ۔ اس ٹولہ کو پہلے خفیہ طور سے اسلحہ کی کھیپ پہنچائی جاتی ہے ۔ اس طریقۂ کار کو گن رننگ (Gunrunning) سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔افغانستان میں کچھ تبدیلی کے بعد گن رننگ کروائی ۔ بعد میں ظاہر شاہ (کی جائزحکومت ) '' کو '' (Coup) سے بدل دی ۔ اس سے بھی روسی ریچھ کا دل مطمئن نہ ہوا تو طوفانی فوجی یلغار سے سارا نظامِ افغانستان تہہ و بالا ہوگیا۔ '' ماڈرن '' زمانہ میں سوویت یونین نے اپنے اس اقدام کا نیا نام برزنیف حکمت عملی (Brezenev Doctrine) رکھ دیا ۔

بدھ، 19 ستمبر، 2012

نکسنیات سے دجالیات تک; پاکستان کس رُخ پر ؟

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

نکسنیات سے دجالیات تک۔ پاکستان کس رُخ پر ؟

محمد احمد

قسط نمبر 2قسط نمبر 1
١- پاکستان کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ امریکا کے صدر ٹرومین سے بارک حسین اوباما تک یہ ملک کبھی بھی اپنے معاملات مکمل آزادی سے نہ چلا سکا ۔ اس کی اوّلین وجہ ملک کا اسلامی تشخص ، ملک کے پہلے سربراہ کے خصوصی حکم برائے اسلامی غیر سودی معاشی نظام کی نفی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کےسورہ بقرہ کے اختتمامی رکوعات میں وضاحت کردہ معاشی خدوخال کو قابلِ غور نہ سمجھنا رہا ہے ۔ چونکہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افرادِ کار بوقتِ تخلیقِ پاکستان برٹش انڈیا کی روایت (Legacy)کے اسیر ہوتے ہوئے اپنے آپ کو تبدیل نہ کر پائے ۔ اسی لیے وہ پاکستان کی موجودہ معاشی بے بسی ، تباہ حالی اور بربادی کی ذمہ دارہ سے بچ نہیں سکتے ۔