‏عنایت اللہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏عنایت اللہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 22 مئی، 2014

یہودی کون ہے ؟ کیا ہے ؟

شعبان المعظم، رمضان المبارک 1434ھ/ جون، جولائ، اگست 2013، شمارہ  15، 16اور 17
یہودی کون ہے ؟ کیا ہے ؟
جناب عنایت اللہ


اتوار، 16 فروری، 2014

یہودی کون ہے ؟ کیا ہے ؟ 2

رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ 16

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ 2

جناب عنایت اللہ

١٥جولائی ١٠٩٩ء کے روز بیت المقدس پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا ۔

٢ اکتوبر ١١٨٧ء کے روز سلطان صلاح الدین ایوبی (Ṣalāḥ ad-Dīn Yūsuf ibn Ayyūb)  نے عیسائیوں کو شکست دے کر بیت المقدس پر قبضہ کیا ۔ وہ جمعہ کا دن تھا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے مسجدِ اقصیٰ سے صلیبیں اٹھوا کر وہاں نماز پڑھی ۔

فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت ١٩١٧ء تک رہی ۔ فلسطین میں یہودیوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی ۔ وہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ ہر سال بیت المقدس میں زائرین کی حیثیت سے جاتے اور یہ الفاظ دہراتے رہے ---" آئندہ سال یروشلم میں "--- وہ اس عزم کا زبانی اعادہ کرتے رہے کہ وہ ایک نہ ایک دن مسجدِ اقصیٰ کو مسمار کرکے یہاں ہیکلِ سلیمانی تعمیر کریں گے ۔

پیر، 11 نومبر، 2013

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟

مجلہ "الواقعۃ" شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

اللہ کے دھتکارے ہوئے اور خلق کے راندھے ہوئے یہودی کا تاریخی اور نفسیاتی پس منظر.اللہ کا دھتکارا ہوا یہودی آج اللہ کے نام لیواؤں کو دھتکار رہا ہے …کیوں ؟ اسے یہ قوت کس نے دی ؟

یہودی کون ہے ؟ کیا ہے ؟ قسط 1

" حکایت " ڈائجسٹ لاہور کا شمار ملک کے مؤقر رسائل و جرائد میں ہوتا ہے ۔ ذیل کا قیمتی مضمون " حکایت " ( لاہور ) ستمبر ١٩٨٢ء میں طباعت پذیر ہوا ۔ اس کے مضمون نگار  " حکایت " کے بانی و مدیر جناب عنایت اللہ ( ١٩٢٠ء - ١٩٩٩ء ) ہیں ۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی سے تھا ۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے خود کو ہمہ وقت علم و ادب سے منسلک کرلیا ۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے ایک با شعور ادب تخلیق کیا ۔ ان کے متعدد ناول طباعت پذیر ہوئے اور قارئین نے انہیں بے حد سراہا ۔ ان کے یادگار ناولوں میں " داستان ایمان فروشوں کی " ، " اور ایک بت شکن پیدا ہوا " ، " شمشیر بے نیام " ، " دمشق کے قید خانے میں " ، " اور نیل بہتا رہا " ، " حجاز کی آندھی " ، " فردوس ابلیس " ، " طاہرہ " وغیرہا شامل ہیں ۔ ذیل کا مضمون بھی ان کی اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کا مظہر ہے ۔ گو اس عرصے میں گردش لیل و نہار کی کتنی ہی ساعتیں گزر گئیں ۔ مگر اس مضمون کی افادیت آج بھی برقرار ہے ۔ اسی وجہ سے "حکایت " کے شکریے کے ساتھ یہ مضمون قارئینِ " الواقعة " کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ تاہم قارئین دوران مطالعہ پیش نظر رکھیں کہ یہ مضمون ١٩٨٢ء کا تحریر کردہ ہے ۔ ( ادارہ  الواقعۃ)

جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل کی جنگ  (Arab Israel War June 1967) میں اسرائیلیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو ان کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی لیڈروں نے کہا تھا کہ ہم (یہودی ) دو ہزار سال بعد اپنے گھر واپس آگئے ہیں ۔ اسی جنگ میں انہوں نے اسرائیل کے ارد گرد عربوں کے بیشمار علاقے پر قبضہ کرلیا تھا ۔ مسلمان ممالک کی افواج نے اتحاد کے فقدان کی وجہ سے اسرائیلیوں سے بہت بری شکست کھائی ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ  (united nations) میں تقریروں ، قراردادوں اور مذاکرات کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جو چل تو پڑتا ہے مگر کسی انجام کو نہیں پہنچتا ۔