جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012
خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟
سیّد خالد جامعی ( کراچی یونی ورسٹی ،کراچی )
عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل
ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے بھوکا رہنا پڑتا
ہے اپنا معیار زندگی کم کرنا پڑتا ہے اور مسلسل کم کرنے پر راضی رہنا ہوتا ہے۔ بھوکا رہنا،خالی پیٹ ہونا کوئی عیب نہیں یہ اللہ کے مقربین
کی صفت ہے کم کھانے کم سونے، کم بولنے دنیا سے کم سے کم تمتع کرنے کے باعث اہل اللہ
پر اسرار کھلنے اور ان کے درجات بلند ہوتے ہیں، کھاتے رہنے سے بھوک نہیں مٹتی بھوک
کم کھانے اور کھانا ترک کرنے سے مٹتی ہے، مستقل کھاتے رہنے والا ہمیشہ بھوکا ہی رہتا
ہے جو بھوک کو قبول کرے اس کی بھوک مٹ جاتی ہے نفس قانع ہوجاتا ہے اس لیے صحابہ و صلحائے
امت کثرت سے روزے رکھتے تھے۔