اتوار، 16 فروری، 2014

جمال الدین افغانی ۔ تصویر کا دوسرا رُخ

رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

جمال الدین افغانی ۔ تصویر  کا  دوسرا  رُخ

Sayyid Jamal ad Din al Afghani; The another face

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جمال الدین افغانیSayyid Jamāl ad-Dīn al-Afghānīاسلامی تاریخ کے انتہائی غیر معمولی اور متاثر کن شخصیت رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے دور کے تقریباً ہر بڑے اسلامی خطے میں اپنی جگہ بنائی اور وہاں کی سیاست و معاشرت میں اثرا نداز ہوئے ۔ جس سے ان کی عبقریانہ صلاحیتوں کا بَر ملا اظہار ہوتا ہے ۔ انہوں نے ایران ، افغانستان ، ہندوستان ، مصر اور خلافتِ عثمانیہ میں اپنا وقت گزارا ۔ ہندوستان میں ان کا عرصۂ قیام بہت کم رہا ۔ یہی وجہ رہی کہ یہاں کہ اہلِ علم ان کی شخصیت کے ہَمہ گیر پہلوؤں سے اس قدر واقف نہیں ۔ اسلامی ممالک میں صرف خطۂ حجاز ہی ان کے اثر و نفوذ سے محروم رہا ۔ اسلامی خطوں کے علاوہ جمال الدین افغانی نے یورپ اور روس میں بھی کچھ عرصہ گزارا ۔ وہ ایک متحرک شخصیت کے حامل تھے جہاں بھی گئے تحریک برپا کرتے گئے ۔ان کی شخصیت ہَمہ گیر بھی تھی اور اس کے پہلو ہَمہ جہت بھی ۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمان عام طور پر انہیں ایک مصلح و مجدد کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ اس کے بَر عکس عالم عرب خصوصاً مصر کے راسخ العقیدہ علماء ان کے شدید مخالف ہیں ۔ کیونکہ جمال الدین افغانی کی زندگی کا بیشتر عملی حصہ بھی مصر ہی میں گزرا ہے۔ گو ان کی " پُر اسرار شخصیت " کے " اسرار " اب برصغیر کے اہلِ علم پر بھی کھلتے جا رہے ہیں ۔ مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی نے بھی اپنی کتاب " مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش" میں بھی جمال الدین افغانی کی شخصیت کے اس دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جدید تحقیقات کے نتیجے میں کئی چشم کشا انکشافات ہوئے ہیں ۔ ذیل کے مضمون میں تصویر کے اسی دوسرے رُخ کو دکھانا مقصود ہے ۔

یہودی کون ہے ؟ کیا ہے ؟ 2

رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ 16

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ 2

جناب عنایت اللہ

١٥جولائی ١٠٩٩ء کے روز بیت المقدس پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا ۔

٢ اکتوبر ١١٨٧ء کے روز سلطان صلاح الدین ایوبی (Ṣalāḥ ad-Dīn Yūsuf ibn Ayyūb)  نے عیسائیوں کو شکست دے کر بیت المقدس پر قبضہ کیا ۔ وہ جمعہ کا دن تھا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے مسجدِ اقصیٰ سے صلیبیں اٹھوا کر وہاں نماز پڑھی ۔

فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت ١٩١٧ء تک رہی ۔ فلسطین میں یہودیوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی ۔ وہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ ہر سال بیت المقدس میں زائرین کی حیثیت سے جاتے اور یہ الفاظ دہراتے رہے ---" آئندہ سال یروشلم میں "--- وہ اس عزم کا زبانی اعادہ کرتے رہے کہ وہ ایک نہ ایک دن مسجدِ اقصیٰ کو مسمار کرکے یہاں ہیکلِ سلیمانی تعمیر کریں گے ۔

جمعہ، 7 فروری، 2014

و لا تقربوا الزنا

رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16
(و لا تقربوا الزنا)
And Do Dot Come Near Adultery

محمد عالمگیر ( سڈنی ، آسٹریلیا )
ترجمہ : ابو عمار سلیم

آزادیٔ نسواں کی جو عالمگیر تحریک آج ہمیں بڑی شد ومد سے ساری دنیا پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے، وہ صرف صدیوں پر محیط مردوں کی برتری کے رد عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دنیا کے تقریباًتمام معاشروں میں ہزاروں برسوں سے جاری و ساری ناروا ظلم اور زیادتیوں کے احتجاج کا ایک عملی مظاہرہ بھی ہے جو ہر دور کے تہذیبی ادوار میں مختلف اقسام کی نا انصافیوں سے مزین رہا ہے ۔ حقوق آزادیٔ نسواں کی تحاریک جو آج عرف عام میں عورتوں کی آزادی کے نعرے میں تبدیل ہوچکی ہے بڑی حد تک اسی ظلم و ناانصافی کی ہی پیدا وار ہے جسے آج آواز مل گئی ہے اور اسی رویہ کی ایک منطقی توجیہ ہے جو آج کے معاشرہ  کے زندگی گزارنے کے آداب کے اصولوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

جمعرات، 6 فروری، 2014

اسرار ( ا ِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ ِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ )

رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

 اسرار ( ا ِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ ِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ )

امام حافظ ابن قیم الجوزیة رحمہ اللہ
ترجمہ : مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ

خلق و ا مر ، کتب و قوانین ، ثواب و عتاب کا سر چشمہ دو کلمے ہیں (ایاک نعبد و ایاک نستعین ) انہی پر عبودیت  (بندگی) اور تو حید کا دار و مدار ہے ۔ اسی بنا پر کسی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں اتاری ہیں ۔ جن کا خلاصہ تورات، انجیل اور قرآن میں ہے اوران تینوں کے معنیٰ قرآن میں یکجا جمع ہیں اور پھر پورے قرآن کا مضمون مفصل (حجرات تا والناس) موجود ہے ۔ان تمام کے معانی سورہ فاتحہ میں ہیں اور سورہ فاتحہ کالب لباب (ایاک نعبد و ایاک نستعین ) میں آ گیا ہے ۔ یہ دو نوں کلمے رب اور بندے کے در میان منقسم (بٹے ہو ئے ) ہیں ( ایاک نعبد ) رب کے لیے ہے اور ( ایاک نستعین ) بندے کے لیے ۔

منگل، 4 فروری، 2014

عالم اسلام اور عصر حاضر کا چیلنج۔ اداریہ Present day challenge and the Muslim World


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

عالم اسلام اور عصر حاضر کا چیلنج (اداریہ)
Present day challenge and the Muslim World

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اس وقت عالم اسلام بیک وقت دو محاذوں پر نبرد آزما ہے :
(١) پہلے محاذ کا تعلق میدانِ جنگ و حرب سے ہے اور
(٢)دوسرے محاذ کا تعلق میدانِ علم و فکر سے

عالم اسلام پر مسلط جنگ
عالم اسلام کی زمینی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ چارو ناچار اسے حالتِ جنگ کا سامنا ہے ۔ شاید ہی کوئی اسلامی ملک ایسا ہو جسے اندرونی یا بیرونی طور پر اغیار کی سازشوں کا سامنا نہ ہو ۔ یہ جنگ باقاعدہ طور پر میدانِ حرب میں بھی لڑی جا رہی ہے اور بساطِ سیاست پر بھی ۔ اب چونکہ جنگوں کے طریقے بدل چکے ہیں ۔ جنگیں کئی محاذوں پر لڑی جاتی ہیں ۔ میدان حرب میں اسلحہ و بارود کی گھن گرج کے ساتھ بھی لڑی جاتی ہے اور معاشیات کے میدان میں طلبِ زر کی کمی و زیادتی سے بھی یہ بازی جیتی جاتی ہے ۔ بساطِ سیاست پر کیا محض ایک فیصلہ بھی قوموں کی تقدیر بدل کر رکھ دیتا ہے ۔ الغرض عالم اسلام کی سیاسی ابتری اس امر کی شاہد ہے کہ عالم اسلام حالتِ جنگ میں ہے۔ مگر بیک وقت قریباً ٦٠ ممالک کی یہ سیاسی ابتری بھی ان میں احساسِ یکجائیت پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کی واحد وجہ وہ استعمار کے آلۂ کار سیاسی زعماء ہیں جو امت کے جسدِ واحد کو منتشر و متفرق کرنے میں ہَمہ وقت مصروفِ عمل و حرکت ہیں ۔ حتیٰ کہ امت مسلمہ کا حقیقی وجود اب سیاسی منظر نامے سے بالکل غائب ہوچکا ہے ۔ اب سعودی عرب کا مسئلہ سعودی عرب کا مسئلہ ہے اور پاکستان کا مسئلہ صرف پاکستان کا ۔ اب فلسطین کے مظلومین اپنی جدوجہد صرف اپنے بل بوتے پر کریں اور کشمیر کے حریت پسند اپنی جنگ خود لڑیں ۔مسلم دنیا کے حکمران ان کی اخلاقی تائید سے بھی اب قاصر ہیں ۔ "امت مسلمہ" کا تصور عوام الناس میں تو کسی درجے موجود ہے مگر اس کا حقیقی سیاسی وجود سر دست مفقود ہے ۔

منگل، 12 نومبر، 2013

اے ماؤ ، بہنو ، بیٹیو !

مجلہ "الواقعۃ" شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

اے ماؤ ، بہنو ، بیٹیو !

ابو عمار سلیم

کیا قیامت کی اہم نشانیاں ظاہر ہونے والی ہیں ؟

مجلہ "الواقعۃ" شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

کیا قیامت کی اہم نشانیاں ظاہر ہونے والی ہیں ؟

محمد جاوید اقبال



رسول اللہ صلی علیہ و آلیہ وسلم پردرود و سلام ہو آپ نے قیامت کی نشانیاں اتنی تفصیل اور صراحت سے بتادی ہیں کہ اس کی روشنی میں انسان آثارِ قیامت کی منزلوں کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

پیر، 11 نومبر، 2013

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟

مجلہ "الواقعۃ" شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

اللہ کے دھتکارے ہوئے اور خلق کے راندھے ہوئے یہودی کا تاریخی اور نفسیاتی پس منظر.اللہ کا دھتکارا ہوا یہودی آج اللہ کے نام لیواؤں کو دھتکار رہا ہے …کیوں ؟ اسے یہ قوت کس نے دی ؟

یہودی کون ہے ؟ کیا ہے ؟ قسط 1

" حکایت " ڈائجسٹ لاہور کا شمار ملک کے مؤقر رسائل و جرائد میں ہوتا ہے ۔ ذیل کا قیمتی مضمون " حکایت " ( لاہور ) ستمبر ١٩٨٢ء میں طباعت پذیر ہوا ۔ اس کے مضمون نگار  " حکایت " کے بانی و مدیر جناب عنایت اللہ ( ١٩٢٠ء - ١٩٩٩ء ) ہیں ۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی سے تھا ۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے خود کو ہمہ وقت علم و ادب سے منسلک کرلیا ۔ انہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے ایک با شعور ادب تخلیق کیا ۔ ان کے متعدد ناول طباعت پذیر ہوئے اور قارئین نے انہیں بے حد سراہا ۔ ان کے یادگار ناولوں میں " داستان ایمان فروشوں کی " ، " اور ایک بت شکن پیدا ہوا " ، " شمشیر بے نیام " ، " دمشق کے قید خانے میں " ، " اور نیل بہتا رہا " ، " حجاز کی آندھی " ، " فردوس ابلیس " ، " طاہرہ " وغیرہا شامل ہیں ۔ ذیل کا مضمون بھی ان کی اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کا مظہر ہے ۔ گو اس عرصے میں گردش لیل و نہار کی کتنی ہی ساعتیں گزر گئیں ۔ مگر اس مضمون کی افادیت آج بھی برقرار ہے ۔ اسی وجہ سے "حکایت " کے شکریے کے ساتھ یہ مضمون قارئینِ " الواقعة " کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ تاہم قارئین دوران مطالعہ پیش نظر رکھیں کہ یہ مضمون ١٩٨٢ء کا تحریر کردہ ہے ۔ ( ادارہ  الواقعۃ)

جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل کی جنگ  (Arab Israel War June 1967) میں اسرائیلیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو ان کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی لیڈروں نے کہا تھا کہ ہم (یہودی ) دو ہزار سال بعد اپنے گھر واپس آگئے ہیں ۔ اسی جنگ میں انہوں نے اسرائیل کے ارد گرد عربوں کے بیشمار علاقے پر قبضہ کرلیا تھا ۔ مسلمان ممالک کی افواج نے اتحاد کے فقدان کی وجہ سے اسرائیلیوں سے بہت بری شکست کھائی ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ  (united nations) میں تقریروں ، قراردادوں اور مذاکرات کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جو چل تو پڑتا ہے مگر کسی انجام کو نہیں پہنچتا ۔

دعوت یا تباہی (قسط 2 آخری)

مجلہ "الواقعۃ" شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

دعوت  یا  تباہی (قسط 2 آخری)

ڈاکٹر ذاکر نائیک

تسہیل و حواشی :محمدثاقب صدیقی

ہم دعوة کیسے دیں ؟

اللہ تعالیٰ آپ کو سکھاتے ہیں کہ کس طرح سے دعوة پہنچانی ہے؟ اللہ تعالیٰ آسان طریقہ بتاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں سورة آلِ عمران الآیة :٦٤ میں ارشاد فرماتے ہیں:
  (قل ياهل الکتب)
"کہو اہلِ کتاب ( یہود و نصاریٰ ) سے"
(تعالوا الى کلمة سواء بيننا و بينکم )
"ہم آپس میں اس چیز کے اوپر ، جو چیز آپ میں اور ہم میں مشترک ہے ۔"
(الا نعبد الا الله)
"کہ ہم ایک اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کریں"۔
(و لا نشرک به شيا)
"اور ہم کسی اَور کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کریں"۔
(و لا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله)
"ہم آپس میں کسی کو معبود نہیں بنائیں اللہ کے علاوہ"
(فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون)
"اور اگر تم اس بات کو نہیں مانتے تو کہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں"۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کبھی بھی غیر مسلموں کو دعوة دیں تو سب سے بہترین طریقہ ہے کہ: جو آپ میں اور ہم میں ایک جیسی چیز ہے کم از کم اُس پر عمل کریں ۔ تو سب سے اول اور بہترین چیز ہے کہ ایک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی اور کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کریں۔

منگل، 22 اکتوبر، 2013

تمدن اسلام.مصنفہ جرجی زیدان کی پردہ دری قسط 2

مجلہ "الواقعۃ" شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

تمدن اسلام
مصنفہ جرجی زیدان کی پردہ دری قسط 2

علامہ شبلی نعمانی کے کلک گوہر بار سے

حدیث و روایت کے جس قدر سلسلے ہیں ، ان میں ایک سلسلہ ہے جس کو محدثین کی زبان میں سلسلہ زریں کہتے ہیں، اس سلسلہ کے راوی اول نافع ہیں جو دیلمی غلام تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے جس قدر حدیثیں مروی ہیں ان کا مدار اعظم یہی نافع ہیں ، امام مالک انہی کے شاگرد تھے ۔ انہوں نے ١١٧ھ یعنی ہشام بن عبد الملک کی خلافت کے زمانہ میں وفات پائی ۔
غرض کہاں تک استقصا کیا جائے ۔ بنو امیہ کے زمانہ میں سیکڑوں اہل عجم اور غلام اور غلام زادوں کے نام گنا سکتے ہیں جو عرب کے صدر مقامات یعنی مکہ ، مدینہ ، یمن ، بصرہ ، کوفہ میں مرجع عام تھے ۔ تمام عرب ان کی عزت کرتے تھے اور خود سلطنت ان کا احترام کرتی تھی ۔
اس میں شبہ نہیں کہ عرب کو اس حالت پر غیرت آتی تھی ۔ لیکن یہ رشک و حسد نہ تھا ۔ بلکہ غبطہ تھا اور وہ خود اعتراف کرتے تھے
کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست