ہفتہ، 25 اگست، 2012

وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ


الواقعۃ شمارہ نمبر 2


 محمدجاویداقبال


وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ


وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ
اقبال کا یہ مصرع وطن عزیز کی صورتِحال دیکھ کر یاد آیا۔ جس ذہنی مرعوبیت اور نقالی کاذکر اکبر الہ آبادی نے کیا تھا اور جس کی مذمت اقبال تمام عمر کرتے رہے وہ اب ہمارے رگ و پے میںسرایت کرچکی ہے۔ اس لیے کہ نہ صرف ہمارا تعلیمی نصاب بلکہ میڈیا بھی سو فی صد مغرب کی عکاسی کررہا ہے۔ لہٰذا ہماری نئی نسل اور خواتین جو زیادہ تر وقت ٹی وی کے سامنے گذارتی ہیںایک سیلِ بے پناہ کی زد میں ہیں۔دور غلامی میںایک آدھ نواب یا رئیس کا بچہ تعلیم حاصل کرنے انگلینڈجاتاتھا۔ آج پاکستانی بچے اس کثرت سے آکسفورڈ اور کیمبرج پڑھنے جارہے ہیں کہ برطانیہ کی قومی آمدنی کا ٣٨ فیصد پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم دینے سے آتا ہے۔ اگر یہ مدرسے ہم خود قائم کرتے تو ہمارے کتنے ٹیچرز کو روزگار ملتا اور ہم انھیں اپنے دین اور عقائد کے مطابق تعلیم دیتے۔ لیکن آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہماری ذہنی غلامی نہیں گئی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیںکہ وہاں و ہ جس بے راہ روی کے ماحول میںتعلیم حاصل کرتے ہیںوہ انہیں اسلامی اقدار سے بیگانہ کردیتی ہے۔ خود پاکستان میںجن اداروں میں برطانوی تعلیم دی جارہی ہے وہاں اسی طرح کو ایجوکیشن ہے اور وہی اخلاق باختہ ماحول ہے جہاں لڑکے لڑکیاںایک دوسرے کو ہگ کرتے ہیںاور کِس کرنے میں بھی تکلف نہیںکرتے۔

اِسی طرح ہمارا میڈیاخود ہمارے خرچ پر ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو بے غیرت بنارہا ہے۔ مثلا ً موبائل کا اشتہار ہی دیکھ لیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس سہولت کی بدولت ایک الکٹریشین یا پلمبرکو کام میںآسانی ہوئی ہو اور اس کا بزنس بڑھ گیا ہو۔ یا کسی سیلزمین کو زیاد ہ آڈر مل سکے ہوں۔ موبائل فون کا پہلا اور آخری کام یہ ہے کہ وہ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو آپس میںدوستی کرنے میںبہترین معاون بن سکتاہے۔ ہر اشتہار کا زور اسی ایک سہولت پر ہے۔ آج پاکستان کے ہر گلی کوچے میں کوئی نہ کوئی فرد موبائل اٹھائے بات کرتا نظر آتا ہے۔ہم نے ضرورت سے کہیں زیادہ موبائل امپورٹ کرلیے ہیںاور نہ ان کی ٹکنولوجی حاصل کی ہے اور نہ مقامی مینوفیکچرنگ کے حقوق۔جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ اخلاق باختگی اور بے راہ روی ہے۔ نوجوانی کا زمانہ تعلیم وتربیت حاصل کرنے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ مگر جہاںصنفی اختلاط کو فروغ دیاجارہا ہووہاںپڑھنے کی فرصت کس کافر کو ہے؟ اقبال اور اکبر کو عرصہ ہوا تعلیم سے دیس نکالا دیا جاچکا ہے۔ پس کوئی نہیں ہے جو انہیںیاد دلاسکے:
کبھی اے جوانِ مسلم تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے پالا ہے اس قوم نے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاجِ سرِدارا
لہٰذا ہمارا تعلیمی نظام اور میڈیا نہ صرف ہمیں حقائق سے بے خبر رکھ رہے ہیں بلکہ ہم سے ہماری اخلاقی اور روحانی اقدار بھی چھین رہے ہیں۔تاکہ ہم ایک روبوٹ کی طرح نیو ورلڈ آڈر پر عمل کرسکیں۔ لیکن میڈیا کی مضرتیں یہیں تک محدود نہیں ہیں۔امریکی محاور ہ ہے کہ ایک برا نام دو اور اسے آسانی سے ہلاک کردو۔ بین الاقوامی میڈیا اسی کام میںمحو ہے۔وہ ہر مسلمان کو بنیاد پرست، قرانِ کریم کو جنگ پر اکسانے والی کتاب اور رسول ِمقبول ۖ کو ایک جنگجو رسول بناکر پیش کررہے ہیں۔وہ دینی جماعتیں جو اسلامی نظام کااحیاء چاہتی ہیں بنیاد پرست ہیں۔ جو جماعتیں کشمیر میں رائے شماری اور اس کی آزادی کے لیے کام کررہی ہیںوہ انتہا پسند اور جنگجو جماعتیں ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں امریکہ نے جماعت الدعوة کے امیر پر وفیسر حافظ سعیدکے سر کی قیمت مقرر کی ہے۔ بہت سے پاکستانی نہیںجانتے کہ دنیا کا ٩٦ فیصد میڈیاصرف ٦ یہودی میڈیا کمپنیز کی ملکیت ہے۔ جن کے ذمے یہ مشن ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کو فروغ دو۔ ہمارے کالم نگاروں، مدیروں اور اینکرز پرسنز نے جس سرعت سے امریکی نکتہ نظر کو اپنایا ہے اس کی داد نہ دینا ظلم ہوگا۔ محض چند ٹکڑوں کے لیے انھوں نے حب الوطنی اور خدا پرستی کو ترک کرکے امریکہ سے وفاداری اختیار کرلی اور اپنی روح شیطان کو فروخت کردی اور یہ ہمارا سب سے ذہین طبقہ تھا۔ ہمارے میڈیا کی یہی چالاکی ملاحظہ ہو کہ امریکہ ایک درجن سے زیادہ مسلم ممالک پر حملہ آور ہوچکا ہے اور فقط افغانستان اور عراق میںوہ تیس لاکھ کے قریب مرد و زن کو ہلاک اور لاکھوں کو معذور بنا چکا ہے۔ لیکن ہمارا میڈیا اسے اسلام کے خلاف جنگ کا نام نہیںدیتا۔ بلکہ اسے مسلمانوں کی انتہا پسندی قرار دیتا ہے کہ کیوں خوامخوہ اپنی جانیںگنوا رہے ہیں اور چپکے سے ہتھیا ر ڈال کیوں نہیں دیتے۔

پس چہ باید کرد۔ اتنی تاخیرہوجانے کے بعد کیا کیا جاسکتا ہے؟میری ناچیز رائے میں ہمیںسب سے پہلے اپنامتبادل پریس قائم کرنا چاہیے۔ خواہ وہ فوٹو اسٹیٹ کیے جانے والے چند صفحات پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو۔انٹرنیٹ کی چند سائٹس اور بلاگز عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ صرف نوجوانوں کو حالاتِ حاضرہ سے باخبر رکھنا ہوگا۔ پھر وہ اپنا لائحہ عمل خود بنالیں گے۔ مگریہ کام فوراً سے پیش تر کرنا ہوگا۔اس لیے کہ وقت بالکل نہیں رہا ہے۔



یہ مضمون جریدہ "الواقۃ" کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

مولانا عبد الحلیم شرر اور ان کی کتبِ سیرت

الواقعۃ شمارہ نمبر 2

محمد ساجد صدیقی 


مولانا عبدالحلیم شرر ١٨٦٠ء میں مشہورادبی شہر لکھنؤ کے محلہ جھنوائی ٹولہ میں پیدا ہوئے ۔آپ کا سلسلہ نسب عباسی خلیفہ امین الرشید سے جا ملتا ہے ۔یعنی آپ ہاشمی و عباسی ہیں ۔ [تراجم علمائے حدیث ہنداز ابو یحیٰ امام خان نوشہری : ٥٢٢]۔ مختصر شجرہ نسب یوں ہے۔عبدالحلیم شرر بن تفضل حسن (عبدالرحیم ) بن مولوی محمد بن مولوی نظام الدین۔

غیر مسلم ممالک میں سکونت: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ

الواقعۃ شمارہ نمبر ٢ 

ابو موحد عبید الرحمن


تاریخِ اسلامی کے اوراق اس فطری حقیقت پر شاہد ہیں کہ اس کے باسیوں نے بغرضِ معاش دیارِ اسلامی کو ترک کرکے دیارِ کفر میں کبھی دائمی سکونت اختیار نہیں کی ۔ لیکن عصرِ جدید کی جدت کے جہاں اور غیر فطری عجائب ہیں ، وہیں یہ عجوبہ بھی گاہے بگاہے مشاہدہ میں آتا رہتا ہے کہ تلاشِ معاش کے لیے لوگ اپنا خطہ چھوڑنے پربخوشی راضی ہیں ، جو کہ ایک غیر معمولی امرِ واقعہ ہے ۔ اس غیر معمولی امرِ واقعہ کا سبب ہمیں اسلامی تاریخ میں ایک غیر معمولی '' فکری تغیر '' ملتا ہے اور یہ فکری تغیر اسلامی تصورِ علم کا مغربی تصورِ علم سے تبدیل ہوجانا ہے۔

حسینہ واجد کے نام ایک سینئر سعودی سفارتکار ڈاکٹر علی الغامدی کا کھلا خط

الواقعۃ شمارہ نمبر 2

قابل احترام!


پہلے میں اپنا تعارف کرادوں کہ بنگلہ دیش کی آزادی سے قبل میں بحیثیت سعودی ڈپلومیٹ ڈھاکا کا دورہ کرچکا ہوں۔١٩٦٠ ء میں عازمین حج کو ویزا کے اجرا کے لیے سعودی حکومت نے مجھے چٹاگانگ میں متعین کیا تھا۔ ١٩٨٠ء میں ، میں دارالحکومت ڈھاکا میں سعودی سفارتخانہ میں پورے اختیارات کے ساتھ واپس آیا۔

کون ہوتا ہے حریف مئے مردافگن عشق

الواقعۃ شمارہ نمبر 2

محمد آفتاب احمد

بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت ''وار کرائم ٹریبونل '' نے بالآخر چار ماہ بعد جماعت اسلامی کے سابق سربراہ پروفیسر غلام اعظم پر ١٩٧١ء کی جنگ کے دوران نسل کشی، انسانیت مخالف جرائم اور قتل کے الزامات میں فرد جرم عائد کر دی ۔ ٩٠سالہ پروفیسر غلام اعظم کو١٢جنوری٢٠١٢ء کو گرفتار کیا گیا ۔ گرفتاری اور فرد جرم عائد ہونے کے بیچ ان پر ظلم و ستم، میڈیا کے ذریعے ان کی کردار کشی اور اہل خانہ کو حراساں کرنے کے واقعات ایک الگ داستان ہیں مگر ان سب کے باوجود عوامی لیگ حکومت پروفیسر غلام اعظم کو اپنے قدموں پر نہیں جھکا سکی۔

کیا وہابیت خارجیت کا نقشِ ثانی ہے ؟

الواقعۃ شمارہ نمبر 2

ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر 

سب سے پہلے گب نے خارجیت کا تعلق وہابیت میں تلاش کیا ہے۔ اس حوالے سے اس کا تجزیہ ہے کہ خوارج مذہبی انتہاپسند تھے، جو صرف خود کو سچا اور حقیقی مسلم سمجھتے تھے دیگر مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے۔ ان کے اس اصول پر تلوار مستزاد تھی، جو انہوں نے مسلم امت کے خلاف اٹھائی اور خود کو امت سے جدا کرلیا، جو راسخ العقیدہ (Orthodox) سمجھی جاتی تھی۔ بعد میں خوارج کے متعلق اعتدال پسند علماء نے ایک ایسا نظام وضع کرلیا جس نے ان کو جنوبی الجیریا، عمان اور زنجبار میں چھوٹی چھوٹی آبادیوں کی شکل میں زندہ رکھا۔

اسلام کا سیاسی نظام

الواقعۃ شمارہ نمبر ٢

مولانا صفدر زبیر ندوی

اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا ) کے زیر اہتمام سیمینار کی رودادبمقام : علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ( علی گڑھ ) بتاریخ : ٢٨ -٢٩ اپریل ٢٠١٢ء



اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) جہاں ایک طرف امت مسلمہ ہندیہ کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، وہیں مختلف تازہ موضوعات پر سمینار کر کے اور اس کے ذریعہ لوگوں تک معلومات منتقل کر کے انھیں غور وفکر کا رخ بھی بتا رہی ہے، اور انھیں ایک باشعور شہری بنانے میں مدد اور تعاون کرتی ہے، چنانچہ پوری دنیا خصوصا عرب دنیا میں آئی بیداری کے پس منظر میں اکیڈمی نے سب سے پہلے ''اسلام کا سیاسی نظام'' کے عنوان سے ایک سمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا

جمعہ، 24 اگست، 2012

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش

الواقعۃ شمارہ  ٢

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمارسلیم

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر 3 کا مطالعہ کیجئے

قسط 1

یہ مختصر تجزیہ بطور خاص صرف مسلمانوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ ان مسلمانوں کے لیے جو مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں، کسی کو اذیت نہیں دیتے ۔ ان مسلمانوں کے لیے جن کو یہ دلی اطمینان حاصل ہے کہ اسلام بذات خود ایک مکمل اور کامل دین ہے اور اس کو کسی دوسرے مذہب، دیو مالائی کہانیوں، فلسفہ اور ما بعدالطبیعیاتی نظریوں کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور ان مسلمانوں کے لیے جو نہ تو کسی دوسرے طریق زندگی کی سرپرستی کرتے ہیں اور نہ ہی یہ پسند کرتے ہیں ان کی سرپرستی کی جائے۔

مسجدِ اقصیٰ کا حق تولیت : یہود یا مسلمان؟

الواقعۃ شمارہ ٢ 

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زوال پذیر قوموں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے ارباب حل و عقد بھی وقت کی صحیح نباضی سے قاصر ہوجاتے ہیں ۔ '' یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا '' کے مصداق ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسا وقت آیا جب ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے اختیارات سے مسلسل تجاوز کرتے ہوئے سلطنتِ مغلیہ کے استحکام کے لیے ایک چیلنج بن گئی مگرکمال ہے اس عہد کے ارباب کمال پر جو امکانِ کذب باری تعالیٰ جیسے مباحث پر دادِ تحقیق دے رہے تھے ۔ علماء کی یہی روش تھی جس نے بالآخر مسلمانوں کو فرنگی استبداد کی چوکھٹ پر غلام بنادیا ۔ لال قلعہ کی دیواریں

جمعرات، 23 اگست، 2012

المغراف فی تفسیر سورۂ ق

الواقعۃ شمارہ ١، ٢ 

 مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ
تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط ١ اور ٢ 

الحمد للّٰہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نؤمن بہ و نتوکل علیہ و نعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا و من سیأت اعمالنا من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ و من یضللہ فلا ھادی لہ و نشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و نشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ.


اما بعد ! واضح ہوکہ قرآن شریف کے جملہ احکام کی تعمیل مسلمانوں پر لازم ہے ۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اسے سیکھیں ، تلاوت کرتے رہیں ، اور یہ نہ ہوسکے تو سن کر ہی اس پر عمل کریں ۔ پس بعض نمازوں میں جہراً بھی تلاوت واجب کی گئی اور مسلمانوں کے لیے حضوری جماعت لازم و متحتم ہوئی ، اور حضرت رسول اللہ ۖ کو ارشاد ہوا ( اور جو حکم کہ آپ کے لیے مخصوص نہ ہوا اس میں تمام مسلمان شامل ہیں )  :

بدھ، 22 اگست، 2012

کیا سعودی عرب کو تنہا کرنے کی سازش کی جارہی ہے ؟

الواقعۃ شمارہ ١ 

محمد آفتاب احمد


مملکت خادم حرمین و شریفین تاریخ کے ایک نازک اور اہم ترین موڑ سے گزررہا ہے ۔ ایسے میں کسی غیر معمولی واقعہ سے9/11 کی طرح پوری دنیا کی سمت کو بدلنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔حالات کی سنگینی کا ادراک سعودی حکومت کے ١٢ مارچ٢٠١٢ء (١٦ربیع الثانی ١٤٣٣ھ)کے اقدام سے کیا جاسکتا ہے۔جس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی حکومت نے دنیا بھر میں اپنے سفارتکاروں کو قومی لباس پہننے سے روک دیا(سعودی گزٹ)۔عربوں کی تاریخ میںخواہ وہ زمانہ جاہلیت کا دور ہو یا اسلام کے بعد کا آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان کا لباس ہی ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن گیا ہو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ

کیا علامہ تمنّا عمادی منکر حدیث تھے ؟

الواقعۃ شمارہ #1

محمّد تنزیل ا لصدیقی ا لحسینی


کیا علامہ تمنّا عمادی 
منکر حدیث تھے ؟








علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی ماضیِ قریب کی مشہور و معروف علمی شخصیت ہیں ۔ انہیں علم و ادب کی دنیا میں شہرت و مقبولیت بھی ملی اور ان کے افکار و خیالات علمی دنیا کے لیے محلِ نزاع بھی بنے ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کی شخصیت اور افکار پر غیر جانبدارانہ تحقیق کی جاتی تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت غیر متوازن تنقید اورمبالغہ آمیز تعریف کی کشمکش میں مبتلا مظلوم شخصیت ہے ۔ ان پر تنقید کرنے والوں کی نظر میں ان کی خوبیاں بھی خامیاں ہیں اور جو لوگ آج ان کی وراثتِ علمی کے امین ہیں انہوں نے بھی ان کے ساتھ کچھ کم زیادتی نہیں کی ۔ اپنے خیالات پر تمنائی مہر لگا کر طرح طرح کے رطب و یابس کو علامہ سے منسوب کردیا ۔ 

عبرانی زبان

الواقعۃ شمارہ #1

پروفیسر محمد طارق


عبرانی زبان




عبرانی Hebrew اور یسوانی زبانیں عربی زبان کی قریبی رشتہ دار ہیں ۔ برصغیر میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ عبرانی و یسوانی زبانیں معدوم ہوچکی ہیں ، لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے ۔

عبرانی ، یسوانی اور لاطینی زبانیں اس اعتبار سے معدوم ہوچکی ہیں کہ ان کو دیگر زبانوں کی طرح بولا نہیں جاتا ہے لیکن ان کا سرمایۂ ادب Litrature موجود ہے اور یورپ میں باقاعدہ

ہزار سال کے قدیم ترین وثائق قرآن کی روشنی میں

الواقعۃ شمارہ #1

مولانا سیّد مناظر احسن گیلانی


ہزار سال کے قدیم ترین وثائق قرآن کی روشنی میں




تمام دینی نوشتے جو خالق کی طرف منسوب تھے ان سب کو ''اساطیر الاوّلین''( بڑھیوں کی کہانیاں) یا میتھالوجی ٹھہرا کر بصدِ بے باکی و گستاخی یورپ نے علم کی جدید الحادی نشاء ة میں اس دعوے کی بدبو سے سارے عالم کو متعفن بنا رکھا تھاکہ مذہب اور دین کے سلسلے میں بنی آدم کا ابتدائی دین شرک تھا ، سمجھایا جاتا تھا کہ کم عقلی کی وجہ سے ہر ایسی چیز جس سے ہیبت و دہشت کے آثار پیدا ہوتے تھے یا جنہیں دیکھ کر لوگ اچنبھے میں مبتلا ہوجاتے تھے

قران مجید میں خفیہ شیطانی تنظیموں کی نشاندہی

خرم سلیم

مترجم : ابو عمار محمد سلیم

 

قرآن مجید میں خفیہ شیطانی تنظیموں کی نشاندہی


جس دم شیطان لعین و رجیم اللہ تبارک و تعالیٰ کے دربار میں اپنی حکم عدولی کی بدولت مردود ہوا اسی دم سے وہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت کا دشمن ہو گیا۔ یہ دشمنی آناً فاناً پیدا ہوئی اور اس قدر شدید ہوئی کہ اس ابلیس لعین نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ قسم کھائی کہ وہ رہتی دنیا تک انسان اور اس کی نسل کو ورغلائے گا اور سیدھے راستے سے بھٹکائے گاتاکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے آگے یہ ثابت کردے کہ اس نے جس مخلوق کو احسن التخلیق کہا ہے وہ اس قابل نہیں ہے کہ اللہ کی خلافت اس کو سونپی جائے اور پھر وقت ضائع کیے بغیر اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے مصروف عمل ہوگیا اور جہاں اس نے اپنی ہی جنس میں سے اپنے حمایتی بنا لیے وہیں اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالنے کے لیے پروگرام ترتیب دیا اور چالیں چلنے لگا۔ کچھ ہی عرصہ میں وہ اپنی شاطرانہ چالوں میں کا میاب ہوااور بھولے بھالے اور اس کے مقابلے میں انتہائی کم عمر اور نا تجربہ کار میاں بیوی کو جنت سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔یہ انسانیت کے خلاف اس کی پہلی کامیابی تھی۔ اس کے بعد سے آج تک اس نے اور اس کے چیلوں نے لمحہ بھر کے لیے بھی چین نہیں لیا ہے۔

ہم قرآن کریم کا مطالعہ کیوں کریں ؟

الواقعۃ شمارہ #1

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی


ہم قرآن کریم کا مطالعہ کیوں کریں ؟


الحمد للّٰہ ربّ العالمین ، والصلوٰة  والسلام علی سیّد المرسلین ، و علی آلِہ  و اصحابہ اجمعین ، و العاقبة للمتقین ۔اما بعد !
اس گلشنِ رنگ وبو میں لا تعداد اصحاب قلم و قرطاس نے اپنے علمی خزینوں کو کتابی شکل میں مدون کیا ۔ سطحِ ارضی کے ہر خطے اور خطے کی ہر ہر زبان میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں ، جنہیں حیطۂ شمار میں نہیں لایا جاسکتا ۔ ان بے شمار کتابوں کی موجودگی میں آخر صرف قرآن ہی وہ کتاب کیوں ہے جس کا پڑھنا اور سمجھنا اور پھر سمجھ کر عمل کرنا ہر فردِ نوع انسانی پر لازم قرار پائے ؟ 
ہم قرآنِ کریم کا مطالعہ کیوں کریں ؟ یہ ایک ایسا فطری سوال