ہفتہ، 29 جون، 2013

سیّد ابو تراب رشد اللہ راشدی سندھی۔ حیات و خدمات

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

سیّد ابو تراب رشد اللہ راشدی سندھی۔ حیات  و  خدمات

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اقلیم سندھ کے سادات کی ایک شاخ خانوادہ راشدی اپنی دینی خدمات ،علمی عظمت ، روحانی بر کات اور مجاہدانہ قربانیوں کے اعتبار سے ممتاز اقران وامثل رہا ہے ۔اس خانوادہ علم و فضل میں ہر دور میں کبار اصحاب رشد و ہدایت و حاملین علم و فضیلت گزرے ہیں ۔ جنہوں نے اپنی علم پروری سے دین و علم کی بہتیری خدمات انجام دیں ۔
خانوادہ راشدی کے موسس اعلیٰ حضرت پیر محمد راشد شاہ المعروف بہ روضہ دھنی (1170ھ / 1757ء- 1223ھ / 1818ء) کا سلسلہ نسب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے جا ملتا ہے ۔ پیر محمد راشد شاہ کے چار صاحبزادے تھے ۔ اوّل الذکر پیر سید صبغت اللہ شاہ پیر پگاڑا مشہور بہ تجر د دھنی (1183ھ / 1779ء - 1246ھ/ 1831ء) نہ صرف صاحب علم و فضل تھے بلکہ مجاہدانہ عادات و خصائل کے مالک بھی تھے ۔ سید احمد شہید رائے بریلوی کے ہم مسلک و رفیق خاص تھے ۔ان کی تحریک جہاد کے ایک اہم رکن اور" حروں" کے روحانی پیشوا تھے ، بلاشبہ ان کے لاکھوں مرید تھے ، جو ان پر اپنی جان نچھاور کر نے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے ۔

خون ناحق

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

خون ناحق

محمد جاوید اقبال

سورہ روم میں رب تعالیٰ کا فرمان ہے:
( ظَھَرَ الْفَسَادُ فیْ الْبَرّ وَ الْبَحْر بمَا کَسَبَتْ أَیْدی النَّاس لیُذیْقَھُم بَعْضَ الَّذیْ عَملُوا )
“ زمین اور سمندر میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اعمال کے باعث تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اپنے  اعمال کا مزہ چکھائے ۔“ (الروم :41)
 اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو زمین میں اپنا نائب بنایا تھا اور اس کی ہدایت کے لیے ہردور اور ہرملک میں رسول اور نبی بھیجے۔ اس کے باوجود انسانوں کی بڑی تعداد اچھے انسان کی طرح رہنے پر تیار نہ ہوئی اور جانوروں کی سطح پر زندگی بسر کرتی رہی ۔ اس کاسبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم کے سبب لوگوں کو ان کے گناہوں پر فوراً گرفت نہ کرتے تھے۔ بلکہ انہیں سنبھلنے کے لیے کافی وقت دیتے تھے۔لیکن مغرور انسان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی گرفت کبھی ہوگی ہی نہیں۔سورہ شوریٰ کی تیسویں آیت کا مفہوم ہے:
“ تم پر جو مصیبت آتی ہے ، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور کتنے گناہ تو ہم معاف ہی کر دیتے ہیں۔"

غَلَبَةِ الدَّ یِن

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

غَلَبَةِ الدَّ یِن

ابو عمار سلیم

ہمارے آقا و مولا سید المرسلین خاتم النبین صادق الوعد و الامین حضرت احمد مجتبےٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی ایک بہت اہم دعا ہے جو آپ نے اپنی امت کو تعلیم کی ہے اور جو اکثر و بیشتر نمازوں کے بعد دہرائی بھی جاتی ہے۔ ہم میں سے اکثر کو یہ دعا یقینا زبانی یاد بھی ہوگی اور ہم اس کو دہراتے بھی ہونگے ۔اس دعا کا ایک حصہ کچھ اس طرح ہے “ اَللّٰھُمَّ اِنّی اَعُو ذُ بِکَ مِن غَلَبَة الدَّیِنِ وَ قَھرُ الرّجَال” مگر ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمیں عربی زبان سے کوئی واقفیت نہیں ہے اس لیے ہمارے ہاتھوں اس دعا کا حال بھی و ہی ہے جیسا کہ ہم دیگر قرآنی آیات کا کرتے ہیں۔