منگل، 29 جولائی، 2014

امن عالم اور قرآن کریم

ربیع الاول و ربیع الثانی 1435ھ جنوری، فروری 2014، شمارہ 22 اور 23


قرآنیات

امن عالم اور قرآن کریم

حافظ عبد الرب سرہندی



شادی کے بعد خواتین کے نام کی تبدیلی

ربیع الاول و ربیع الثانی 1435ھ جنوری، فروری 2014، شمارہ 22 اور 23
سماجیات شادی کے بعد خواتین کے نام کی تبدیلی

سماجیات

شادی کے بعد خواتین کے نام کی تبدیلی

ابو عمار سلیم

ہمارے موجودہ معاشرہ میں اور بالخصوص پاکستان کے شہری علاقوں کے لوگوں میں جہاں اور بہت ساری  مغربی تہذیب کے رسم و رواج نے راہ  پالی ہے وہاں ایک معاملہ شادی کے بعد خواتین کے نام میں شوہر کے نام کا اضافہ بھی ہے۔ عام طور سے یہ دیکھا گیا ہے کہ شادی کے فوراً بعد ہی لڑکیوں کی اپنی شناخت مرد کے ساتھ متصل ہو جاتی ہے ۔  بظاہر یہ ایک سیدھا سادہ اور بے ضرر سا معاملہ نظر آتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ اتنا ہی معمولی سا واقعہ ہے جس کے بارے میں سوچنا کچھ ایسا اہم  کام نہیں ہے ۔ ہم اس مسئلہ کو ذرا سا زیادہ تفصیل میں جا کر دیکھیں گے اور جائزہ لیں گے کہ کیا واقعی ایسا کرنا درست ہے اور یہ بھی کہ آیا  اس عمل کی کوئی تائید اور گنجائش ہمارے مذہبی احکامات سے ملتی ہے ؟ 
دنیا بھر میں عام طور سے نام کے دو حصے ہوتے ہیں ۔ پہلا حصہ ذاتی نام کا ہوتا ہے جب کہ دوسرا نسب کو یا ولدیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کبھی کبھی ولدیت اور نسب دونوں ہی شامل کر لیے جاتے ہیں ۔ جہاں تک نام رکھنے کا تعلق ہے دنیا بھر میں والدین اپنے نومولود لڑکے اور لڑکیوں کے نام بڑے پیار سے اور بڑی چاہ سے رکھتے ہیں ۔ کہیں ایسا ہوتا ہے کہ نو مولود کا نام اپنے کسی بزرگ کے نام پر رکھ لیتے ہیں اور ان سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر لیتے ہیں ۔ مغربی ممالک میں اپنے باپ کے نام پر یا اپنے ہی نام پر نو مولود کا نام رکھ لینا بہت ہی عام ہے پھر اس کی تخصیص اور پہچان کے لیے ان ناموں کے آگے سینئر اور جونیر کا اضافہ کرکے پہچان درست کر لیتے ہیں ۔  مذہبی  رجحانات سے مغلوب ہونے کی وجہ  سے  مغربی معاشرے میں بھی اور ہمارے مسلم معاشرے میں بھی مذہبی شخصیات ، بزرگوں اور پیغمبروں کے نام پر نام رکھنا بھی بہت عام ہے ۔ اپنے پاکستان میں تو جدید فیشن یہ ہوگیا ہے کہ ہمارے بچے کا نام ایسا ہونا چاہئے جو بالکل منفرد اور اچھوتا ہو ، ایسا یکتا ہوجس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہ ہو ۔ اب خواہ اس نام کا کوئی اچھا مطلب نکلتا ہو یا نہ ہو ۔  بیشتر اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو نام اچھا لگا وہ رکھ لیا گیا مگر اس کا مطلب نہ رکھنے والے کو آتا ہے اور نہ ہی اس کو جس کا یہ  نام ہوتا ہے ۔ مغرب میں تو اوٹ پٹانگ ناموں مثلا بلیک ، براؤن ، ڈاگ ، فوکس وغیرہ وغیرہ تو بہت دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں مگر ہم  مشرقی مسلمانوں میں ابھی ایسے بے تکے ناموں کا آغاز نہیں ہوا ہے ۔ ہم پاکستانی مسلمانوں کے یہاں اپنے آقا و مولا سیدنا و سید المرسلین حضرت محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کا نام نامی  بچوں کے  نام کے ایک حصے کے طور پر ضرور لگایا جاتا ہے ۔  یہ محبت بھی ہے اور عقیدت بھی ۔ عبد القادر ، عبد الباری ، عبد اللہ وغیرہ نام خالصتاً اللہ سبحانہ و تعالی سے اپنا تعلق ظاہر کرنے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بھی رکھا جاتا ہے اور کم و بیش اسی طرح کا معاملہ لڑکیوں کے نام کے ساتھ بھی ہوتا ہے ۔ نام رکھنے کے سلسلہ میں ہمارے پاس بڑی اچھی ہدایات خالق کائنات سے بھی ملتی ہیں اور ہمارے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے ارشادات سے بھی ۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمید میں فرمایا کہ تمام اچھے  نام اللہ کے ہیں اور اس کے بعد اس نے اپنے بہت سارے ذاتی اور صفاتی ناموں کی تفصیل بھی دے دی ۔ ان میں سے جس نام کے اوپر بھی غور کیا جائے تو نہ صرف یہ کہ بڑے حکمت کے موتی ہی نہیں ملتے اس بات کا واضح اشارہ بھی ملتا ہے کہ پیدا کرنے والے نے اپنے نام اچھے رکھے ہیں تو ہمیں بھی ایسے ناموں کا انتخاب کرنا چاہئے جو اچھی صفات  اور اچھے معنی والے ہوں ۔  ایسے نام جو اللہ کے نام کے ساتھ جڑتے ہوں اور اس کی بندگی اور غلامی کے اظہار سے متصف ہوں مثلاً عبد القیوم اور عبد القدوس وغیرہ تو انتہائی با برکت نام ہیں مگر لوگ بسا اوقات غلطی کرتے ہیں اور غلامی کا بندھن کسی اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ لگا لیتے ہیں جو کہ نہ صرف غلط ہے بلکہ بڑی  بھول ہے ۔ حضور نبی اکرم ہادی بر حق صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی کہ نام اچھے رکھو ۔ ایسے نام رکھو جس سے اچھے مطلب نکلتے ہوں ۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی حیات طیبہ سے ایسی ہی بیش بہا مثالیں نکالی جا سکتی ہیں جہاں آپ نے اپنے صحابہ کے ناموں کو  جو جاہلیت کے دور میں رکھے گئے تھے تبدیل کر کے خوبصورت نام رکھ کر یہ ریت ڈالی کہ جب بھی احساس ہو جائے کہ نام ٹھیک نہیں ہے اسے تبدیل کر کے ایک اچھا نام رکھ لینے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔
اب تک ہم نے جو گفتگو کی ، وہ تھی ذاتی نام سے متعلق مگر ہمارا اصل موضوع ذاتی نام نہیں بلکہ ذاتی نام کے ساتھ لگا ہوا وہ نام ہے جو پہچان اور تعارف کے لیے اختیار کیا جاتا ہے ۔ انسان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان نے ہمیشہ اپنے آپ کو اپنے نام کے علاوہ اپنے نسب ، قبیلہ اور ذات سے متعارف کرایا ہے ۔ ذات پات کی تقسیم دنیا کے دیگر علاقوں کے لوگوں نے تو رفتہ رفتہ چھوڑ دی مگر ہمارے برصغیر میں آج بھی لوگ اپنے نام کے ساتھ ایسے لاحقے لگاتے ہیں جو ان کی  ذ ات سے متصف ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے  کلام میں ارشاد فرمایا کہ میں نے تمہیں قبیلوں میں پیدا کیا ہے تاکہ تم آپس میں پہچانے جاؤ مگر تم میں سے افضل وہ ہے جو تقویٰ میں زیادہ ہو ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ کہہ کر اس بات کا مکمل ابطال کر دیا کہ ہماری ذات پات اور ہمارا قبیلہ کسی طرح بھی دوسروں پر فوقیت کا حامل ہے ۔ اب اس کے بعد آپ سید صاحب کے ہاتھ چومتے رہیں یا چودھری صاحب کی چمپی کریں یا ملک صاحب کی کاسہ گری میں مصروف ہو جائیں ، آپ کی اپنی مرضی ۔ اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ ہم اپنے خاندان اور قبیلہ کو نہ چھوڑیں ۔ اپنی شناخت اسی کے ساتھ منسلک رکھیں اور اس میں کوئی برائی نہ سمجھیں اور اس  پہچان سے پیچھا نہ چھڑائیں ۔ ایسے کام کرنے سے بچیں جو خاندان اور قبیلے کی بد نامی کا باعث ہو جائے  بلکہ ایسے اچھے کام کریں جو آپ کے خاندان اور آپ کے قبیلے کے لیے باعث افتخار ہو اور اس کی عزت میں چار چاند لگائے ۔  ہم آج اسی قبیلے اور خاندانی نام کے متعلق بات کر رہے ہیں اور وہ بھی خاص طور سے عورتوں کے حوالے سے۔
مغرب میں بھی اور ہمارے معاشرے میں بھی مردوں اور خواتین دونوں کے نام کے ساتھ نسب کی  خاندانی  پہچان لگی  ہوئی ہوتی ہے ۔ شادی سے پہلے لڑکیاں عائشہ ملک بھی ہوتی ہیں اور عائشہ قریشی بھی ۔ عائشہ خان بھی ہوتی ہیں اور عائشہ بگٹی اور پلیجو بھی ۔ مگر نام کے ساتھ کے یہ  لاحقے ان خواتیں کی شادیوں کے بعد تبدیل ہو جاتے ہیں ۔  مثلاً عائشہ ملک ، عائشہ خان ہو جاتی ہیں۔ دیکھا جائے تو  عائشہ تو وہی عائشہ ہے جو عبد اللہ ملک صاحب کی صاحبزادی ہیں اور رہیں گی خواہ ان کی شادی کسی گھرانے میں ہی کیوں نہ ہو جائے ۔  اگر کہیں خدا نخواستہ عائشہ کے سسرال والے کسی وجہ سے عائشہ کے ساتھ گزارہ نہ کر سکیں تو ان کے والد اُن کو بے یار و مددگار تو نہیں چھوڑیں گے بلکہ واپس اپنی ذمہ داری اور اپنے سایہ میں لے لیں گے ۔ ہم لوگوں نے مغرب کی نقالی میں آ کر شادی کے فوراً بعد دونوں نو بیاہتا جوڑے  ،  یعنی بہو اور بیٹے کو شناختی کارڈ کے دفتر بھیج دیتے ہیں جہاں ان دونوں کی شادی شدہ حیثیت کا اندراج ہوتا ہے وہیں لڑکی کے خاندانی نام کی جگہ اس کے میاں کے نام کا لاحقہ لگا دیا جاتا ہے ( افسوس کہ میں نے بھی یہی کیا ۔ میرا علم جب بھی ناقص تھا اور آج بھی ناقص ہے ۔ اللہ مجھے معاف فرمائیں )۔  اے مسلمانو! ذرا سوچو کہ ہمارے اللہ نے قران پاک میں ہمیں یہ حکم دیا کہ تمہارے لیے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کا اسوہ بہترین نمونہ عمل ہے ۔ سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں کتنے نکاح کیے اور ان میں سے کتنی ازواج مطہرات کے نام تبدیل ہوئے ؟ ام المومنین  حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، خدیجہ بنت خویلد ہی رہیں ، خدیجہ محمد یا خدیجہ ہاشمی نہیں ہو گئیں ۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، عائشہ بنت ابوبکر ہی رہیں ۔ حضرت بی بی حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے باپ کے  نام نامی سے ہی پہچانی گئیں ۔ مصری قبیلے سے آئی ہوئی حضرت بی بی ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قبیلے کے نام سے ہی مشہور رہیں اور آج بھی ایسے ہی جانی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ حضور پر نور  پیغمبر اعظم افضل الانبیا و المرسلین صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کا یہ قول بھی نہیں بھولنا چاہئے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی ولدیت اور اپنے نسب کی شناخت کو مت تبدیل کرو کیونکہ جو ایسا کرے گا  وہ گناہ کا کام کرے گا ۔  آپ کے اپنے منہ بولے بیٹے کو آپ  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے نام کے ساتھ پکارا گیا تو اللہ کو نا پسند ہوا اور احکامات آ گئے کہ لوگوں کو ان کے باپ کے ناموں سے پکارو اور اگر ان کی ولدیت معلوم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ۔ آج ہمارے گردا گرد کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی شناخت تبدیل کر رکھی ہوئی ہے ۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر نقلی طور پر سید ، نقوی ، جعفری ، چودھری، ملک اور نہ جانے کیا کیا بنے ہوئے ہیں ۔ اللہ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے احکامات کی روشنی میں ان تمام لوگوں نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور انہیں چاہئے کہ وہ اپنی روش تبدیل کرلیں۔
انفرادی طور پر دیکھیں کہ نام کی تبدیلی کے ساتھ کس قدر مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ لڑکی کی شادی ہو جائے تواس کے نام کی تبدیلی کے بعد اس کو اپنے تمام تعلیمی اور دیگر سرٹیفیکیٹ اور کاغذات میں نئے نام کا اندراج کرانا پڑتا ہے اور آج کی دنیا میں جہاں سیکیوریٹی کے معاملات انتہائی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں ایسا کوئی کام سرکاری اداروں سے کرانا بڑے جان جوکھم کا کام ہے  اور اگر بالفرض کسی نے ان تمام تکلیفوں اور دشواریوں کو طے کر کے یہ مرحلہ گزار لیا اور پھر  اللہ کی رضا سے اس کی شادی ناکام ہو جائے اور اسے واپس اپنی پرانی جگہ پر آنا پڑے تو اس کے لیے تو یہ مرحلہ دوگنی زحمت کا باعث ہو گیا ۔ ہمارے ملک میں اللہ کا شکر ہے کہ ابھی نوبت یہاں تک نہیں پہنچی مگر مغرب کی خواتین اپنے نام کی اس تبدیلی کی وجہ سے بڑی پریشان ہیں ۔ ان کی سوشل زندگی میں بھی بڑی گڑ بڑ ہو جاتی ہے اور نوکری کے علاوہ ان تمام دیگر دفاتر اور ریکارڈ میں بار بار کی تبدیلی بھی دشواری پیدا کر رہی ہے ۔ ان کے یہاں تو شاذ ہی کوئی شادی چار پانچ سال چلتی ہے ۔ گویا ہر تھوڑے عرصہ کے بعد اس تکلیف دہ عمل سے گزرنا بڑا عذاب بنا ہوا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کے یہاں بھی  اب یہ  تذکرہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ شادی کے بعد نام تبدیل نہ کیا جائے ۔ امریکہ  کے بعض صوبائی علاقوں میں اور دنیا کے کئی دیگر ملکوں میں یہ قانون ہے کہ شادی کے بعد جو خواتین اپنے شوہروں کا نام اپنے نام کے ساتھ اختیار نہیں کرتیں انہیں حکومت سے ملنے والی بہت سی مراعات سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔ ان کے یہاں کوشش ہو رہی ہے کہ اس کالے قانون کو تبدیل کر دیا جائے اور خواتین کو تحفظ دیا جائے اور ان کی شخصی آزادی کو برقرار رکھا جائے۔
اگر ٹھنڈے دل سے اس معاملہ پر غور کیا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب مرد عورتوں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور ان کے سیاہ سفید پر قابض ہو جاتے ہیں تو ان کے ساتھ ہر وہ رویہ استعمال کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو اور نظر آئے کہ ان کی عورتیں ان کی محکوم ہیں اور وہ ان پر حاکم ہیں ۔ اسی سوچ کا شاخسانہ مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے وقتاً فوقتاً آتا رہتا ہے۔ عورتوں کے اوپر ہمارے معاشرہ میں جو ظلم و ستم روا رکھا جاتا ہے وہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر قوام ضرور بنایا ہے مگر اس قوامیت کا غلط ترجمہ کیا گیا ہے اور اس کے ذریعہ مردوں نے عورتوں پر اپنی برتری مقرر کر لی ہے بلکہ اسی حکم الٰہی کے پردہ میں عورتوں پر ظلم و بربریت کو رواج دے رکھا ہے ۔عورتوں کے نام کی تبدیلی بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ مردوں کا یہ رویہ سراسر ناروا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کو برابر پیدا کیا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ مردوں کو زیادہ طاقت اور قوت اس لیے عطا کی ہے کہ وہ اپنے گھر کی حفاظت کرے ، دوسروں کو اپنا محکوم اور غلام بنانے کے لیے نہیں ۔ اسی طرح عورتوں کو گھر چلانے اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داری  دی گئی ہے تو ان کے اندر محبت ، اخلاص اور قوت برداشت بھی زیادہ دی گئی ہے ۔ زندگی کا حسن ان دونوں کے باہمی ربط اور آپس کی محبت میں ہے ۔ نہ کوئی کسی سے زیادہ ہے اور نہ کم ۔ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے اور اپنی زندگی کا خاکہ اسی کے مطابق بنانا چاہئے۔

اتوار، 20 جولائی، 2014

پاکستان مخالف دنیا۔ (اداریہ)

ربیع الاول و ربیع الثانی 1435ھ جنوری اور فروری2014، شمارہ 22 اور 23
AlWaqiaMagzine, Al-Waqia,  AlWaqiaMagzine.wordpress.com, Al-Waqia.blogspot.com, مجلہ الواقعۃ



حریت فکر اصل جوہر حیات ہے

ذی قعد و ذی الحجہ 1434ھ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ 18
AlWaqiaMagzine, Al-Waqia,  AlWaqiaMagzine.wordpress.com, Al-Waqia.blogspot.com, مجلہ الواقعۃ


غلامی فرج و بطن

ذیقعد و ذی الحجہ 1434ھ/ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ 18


جمعہ، 18 جولائی، 2014

رحم مادر کا اجرت پر حصول موجودہ صورتحال اور اسلام کا نقطہ نظر Womb on Rent and the Islamic point of view

ذیقعد و ذی الحجہ 1434ھ/ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ  18
AlWaqiaMagzine, Al-Waqia,  AlWaqiaMagzine.wordpress.com, Al-Waqia.blogspot.com, مجلہ الواقعۃ

جدید فقہی مسائل 

رحم مادر کا اجرت پر حصولموجودہ صورتحال اور اسلام کا نقطہ نظر

محمدرضی الاسلام ندوی

موجودہ دور میں سماجی سطح پر جو نئے مسائل ابھرے ہیں ان میں سے ایک اہم مسئلہ وہ ہے جسے " رحمِ مادر کا اجرت پر حصول " Womb on Rent یا قائم مقام مادریت Surrogacy  کا نام دیا گیا ہے۔
مغرب میں فحاشی ، اباحیت ، زنا بالرضا اور کثرتِ اسقاط کے نتیجے میں عورتیں تیزی سے پیداواری صلاحیتReproductive Ability  سے محروم ہو رہی ہیں ۔ اس کا اندازہ Centre for Disease Control and Pevention کی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے ، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ 2010ء میں 7.3 Million عورتیں ، جن کی عمریں 15 سے 44 سال کے درمیان تھیں ، بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں تھیں ۔ اس کے علاوہ مغربی ممالک میں بعض معاشرتی برائیوں کو قانونی جواز فراہم کر دیا گیا ہے ، مثلاً ہم جنس پرستی Homosexuality جس میں دو مرد یا دو عورتیں باہم رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو کر زندکی گزارتے ہیں ۔  ایسے لوگ جو قدرتی یا اکتسابی طور پر اولاد سے محروم ہوں اور وہ اولاد چاہتے ہوں ، ان کے لیے یہ طریقہ نکالا گیا کہ وہ پیداواری صلاحیت کی حامل کسی عورت کی خدمات حاصل کریں ، مصنوعی طور پر اس کی بار آوری Fertilization  عمل میں آئے ، وہ حمل اور وضعِ حمل کے مراحل سے گزرے ، پھر جو بچہ اس کی کوکھ سے نکلے ، اسے وہ ان کے حوالے کر دے ۔


تاریخ اور موجودہ صورتحال


زمانۂ قدیم میں وہ جوڑے ، جو شوہر یا بیوی کے اعضائے تولید میں کسی نقص کی بنا پر اولاد سے محروم رہتے تھے ، خاندان یا اس سے باہر کے کسی بچے کو لے کر اسے اپنا بیٹا بنا لیتے تھے ۔ لیکن ماضی قریب میں میڈیکل سائنس کی غیر معمولی ترقی کے نتیجے میں ایسے افراد میں بھی صاحبِ اولاد ہونے کی امید جاگی اور اس کے لیے نت نئے طریقے اختیار کیے گئے ۔ ان میں سے ایک اجرت پر رحمِ مادر کا حاصل کرنا ہے۔
گزشتہ صدی کے ربع اخیر میں اس میدان میں انقلابی کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔ 1971ء میں نیویارک میں تجارتی بنیادوں پر مادۂ منویہ کی ذخیرہ اندوزی کا پہلا مرکز Sperm Bank  قائم ہوا ۔ 1978ء میں انگلینڈ میں ، بیرون رحم ٹیسٹ ٹیوب میں مخلوط نطفہ کی بار آوری In Vitro Fertilization کا کامیاب تجربہ کیا گیا ، اس کے نتیجے میں پہلی ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا ہوئی ۔ 1985ء میں امریکا میں قائم مقام مادریت کا پہلا کامیاب تجربہ کیا گیا ۔ ایک عورت نے اپنا بیضہ اور رحم دونوں اس کام کے لیے پیش کیے ۔ ایک مرد کے نطفے سے اس کے بیضے کو مخلوط کر کے اسی کے رحم میں استقرار حمل کا کام انجام پایا ۔ اگلے سال اس سے ایک بچی پیدا ہوئی ، جسے Baby M کا نام دیا گیا ۔ پھر تو پوری دنیا میں اس تکنیک کو اختیار کیا جانے لگا ۔ ابتدا میں اولاد چاہنے والے جوڑوں اور جنین کی پرورش کے لیے اپنا رحم پیش کرنے والی عورتوں کے درمیان کچھ تنازعات سامنے آئے ، کہ وہ عورتیں وضع حمل کے بعد مادرانہ جذبات سے مغلوب ہو کر بچے حوالے کرنے سے انکار کر دیتی تھیں ، لیکن بہت جلد عدالتی چارہ جوئی اور قوانین کی تشکیل کے ذریعے ان مسائل پر قابو پا لیا  گیا ۔
رحمِ مادر کی کرایہ داری کی دو صورتیں ہیں ، ایک صورت ہمدردانہ Altruistic یا رضا کارانہ Voluntary ہے ، جس میں عورت اپنی خدمت کے عوض کوئی رقم نہیں لیتی ، اور دوسری تجارتی Commercial ہے ، جس میں وہ بھاری معاوضہ وضول کرتی ہے ۔ بعض ممالک میں اس تکنیک سے صرف رضا کارانہ طور پر فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے ، اس خدمت کا کوئی معاوضہ وصول کرنا ممنوع ہے ، جب کہ بیش تر ممالک میں قانونی طور پر دونوں صورتوں کی اجازت ہے ۔ مغرب میں اس چیز نے ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرلی ہے ، جو عورتیں اس خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتی ہیں وہ اس پر خطیر رقم طلب کرتی ہیں ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا میں اس تکنیک سے بچہ حاصل کرنے پر اسّی  ہزار سے ایک لاکھ امریکی ڈالر کا صرفہ آتا ہے۔

ہندوستان میں اجرت پر رحمِ مادر کا حصول

عالمی سطح پر رحمِ مادر کی کرایہ داری کے معاملے میں ہندوستان سرِ فہرست ہے ۔ اس کی دو وجہیں ہیں : ایک یہ کہ اس تکنیک کو اختیار کرنے پر ترقی یافتہ ممالک میں جو صرفہ آتا ہے ، ہندوستان میں اس کی ایک تہائی رقم سے کام چل جاتا ہے ۔ دوسری وجہ یہ کہ یہاں غربت کے مارے افراد کو اس خدمت کے لیے خود کو پیش کرنے پر خاطر خواہ رقم مل جاتی ہے ، جسے وہ اپنے لیے نعمتِ غیر مترقبہ سمجھتے ہیں ۔ ہندوستان میں 2002ء سے رحم کی کرادیہ داری کی قانونی طور پر اجازت ہے ۔ ابتدا میں یہ اجازت صرف رضا کارانہ طور پر تھی، معاوضہ حاصل کرنا ممنوع تھا ۔ 2008ء میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے کے ذریعے اس کی بھی اجازت دے دی ۔ اس کے نتیجے میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے اولاد کے خواہشمند افراد بڑے پیمانے پر ہندوستان کا رخ کرنے لگے ۔ ان ممالک میں امریکا ، برطانیہ ، کینیڈا ، تائیوان ، فرانس اور آسٹریلیا خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔ ایک طرف ان لوگوں کو یہ فائدہ ہوا کہ انھیں کم خرچ پر یہ سہولت حاصل ہوگئی ۔ کہاں تو ان ممالک میں اس پر ایک لاکھ ڈالر کا صرفہ آتا تھا اور کہاں ہندوستان میں 15 سے 20 ہزار ڈالر میں کام چلنے لگا ۔ دوسری طرف ہندوستانی بھی اس منافع بخش کاروبار سے مالا مال ہونے لگے ۔ ایک غریب یا اوسط درجے کا ہندوستانی دس سال میں جتنا کچھ کما پاتا ہے ، اس کی بیوی ایک بار نو ماہ کے لیے اپنے رحم کو کرایے پر دے کر اتنی رقم حاصل کرلیتی ہے ۔ اس چیز نے ہندوستان میں ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے ، جسے Fertility Tourism Industry کا نام دیا گیا ہے ۔ اس کا شمار بہت تیزی سے ترقی کرنے والی انڈسٹریز میں ہونے لگا ہے ۔ 2011ء کے ایک سروے کے مطابق اس انڈسٹری میں بیس بلین روپے کا سرمایہ لگا ہوا تھا ۔ اس صورتِحال نے ہندوستان کو Surrogacy Capital of the world کا درجہ دے دیا ہے ۔

دوسری عورت کا رحم اجرت پر لینے کے اسباب

بچے کے لیے دوسری عورت کی خدمات حاصل کرنے اور اس کا رحم اجرت پر لینے کے متعدد اسباب ہیں :
1)         اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ کسی مرض کی وجہ سے عورت کا رحم نکال دیا گیا ہو ، مثلاً اس میں کینسر ہو ، یا اس سے مسلسل جریانِ خون ہو رہا ہو اور کسی بھی طریقے سے وہ رک نہ رہا ہو ، یا اس میں رسولی Tumour ہو۔
2)         عورت کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو ، جس مرض کے ، اس کے رحم میں استقرار حمل کی صورت میں ، جنین میں منتقل ہو جانے کا اندیشہ ہو ، مثلاً ایڈز ۔
3)         عورت کے رحم میں جنین کی پرورش وضع حمل تک صحیح طریقے سے نہ ہو پاتی ہو ، جنین بار بار رحم میں مر جاتا ہو یا اس کا اسقاط ہو جاتا ہو ۔
4)         عورت کی عمر زیادہ ہوگئی ہو ، جس کی بنا پر اس کے رحم میں استقرار حمل ممکن نہ ہو ۔
5)         اپنی جسمانی ساخت اور حسن کی حفاظت یا عیش و عشرت کے لیے بعض عورتیں حمل و وضع حمل کے بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہتیں ، اس لیے وہ اس تکنیک سے فائدہ اٹھاتی ہیں ۔
6)         مغرب میں غیر شادی شدہ مرد یا عورتیں Single Parents اس تکنیک کے ذریعے اپنا حیاتیاتی Biological بچہ حاصل کرتی ہیں۔
7)         ہم جنس پرست افراد Same Sex Couple بھی بچہ حاصل کرنے کے لیے اس تکنیک کو استعمال کرتے ہیں۔

قائم مقام مادریت کی صورتیں

قائم مقام مادریت کی بنیادی طور پر چار صورتیں ہو سکتی ہیں :
1)         شوہر نطفہ اور بیوی بیضہ فراہم کر سکتی ہو ، لیکن بیوی رحم کے کسی مرض کی وجہ سے حاملہ نہیں ہوسکتی یا ہونا نہیں چاہتی ، لہٰذا زوجین کسی دوسری عورت کے رحم کو کرایے پر لے لیتے ہیں ۔ ٹیسٹ ٹیوب میں دونوں کے مادوں کا ملاپ کر کے حاصل شدہ جنین کو اس عورت کے رحم میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور ولادت کے بعد اس بچے کو زوجین کے حوالے کر دیا جاتا ہے  ۔  اسے Traditional Surrogacy کہا جاتا ہے۔
2)         بیوی سے بیضہ بھی حاصل نہیں ہو سکتا ۔ شادی شدہ جوڑا اولاد کے لیے کسی دوسری عورت کی خدمات حاصل کرتا ہے ، تاکہ شوہر کا نطفہ اس (دوسری عورت) کے بیضہ سے مل کر بہ صورت جنین اس کے رحم میں پرورش پائے ۔ اسے Geostational Surrogacy کا نام دیا گیا ہے۔
3)         نہ نطفہ شوہر کا ہو نہ بیضہ بیوی کا ۔ نطفہ کسی دوسرے مرد کا اور بیضہ کسی دوسری عورت کا حاصل کیا جائے اور ان کی بار آوری کسی اور عورت کے رحم میں ، جسے کرایہ پر حاصل کیا گیا ہو ، کی جائے ۔ اس کام کے لیے مغرب میں بڑے بڑے کمرشیل اسپرم بینک قائم ہو گئے ہیں ۔ ابھی چند ماہ پہلے خبر آئی تھی کہ ہندوستان میں بھی اس طرز کا بینک قائم ہو گیا ہے ۔
4)         بیضہ بیوی کا ہو ، لیکن نطفہ شوہر کا نہ ہو ۔ اسپرم بینک سے اپنی پسند کا کوئی نطفہ حاصل کر کے اور اسے بیضہ سے بار آور کراکے استقرار حمل کسی دوسری عورت کے رحم میں کروایا جائے ۔ یہ صورت اس وقت اختیار کی جاتی ہے جب شوہر نامرد ہو اور بیوی کا رحم استقرارِ حمل کے قابل نہ ہو ، البتہ اس کا بیضہ صحیح سالم ہو ۔

اخلاقی اور تہذیبی جواز ؟

ربع صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ مسئلہ عالمی سطح پر ماہرینِ سماجیات کے درمیان اب تک بحث و گفتگو کا موضوع نہیں بن سکا ہے اور اس کے اخلاقی ، سماجی اور تہذیبی مضمرات کا ٹھیک سے جائزہ نہیں لیا گیا ہے ۔ اسے صرف اس پہلو سے دیکھا گیا ہے کہ جو جوڑے فطری طریقۂ تولید کے ذریعے اولاد نہیں حاصل کر سکتے یا جو افراد رشتۂ ازدواج میں بندھے بغیر اولاد چاہتے ہیں ، اس تکنیک کے ذریعے انہیں اپنی خواہش پوری کرنے کا زرّیں موقع ہاتھ آ گیا ہے ، لیکن اس کام کے لیے جو عورت اپنا رحم پیش کرتی ہے وہ اس کے عوض چند ٹکے تو پا جاتی ہے ، لیکن اپنے رحم میں پرورش پانے والے جنین کو دوسرے شخص کے حوالے کرنے کے جو نفسیاتی اثرات اس پر پڑتے ہیں اس کا تجزیہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ اس معاملے میں زیادہ سے زیادہ ، غریب عورتوں کے استحصال کے امکان کے پیش نظر تفصیلی قوانین وضع کیے جانے کا مطالبہ کیا  گیا ہے ، اور بعض ممالک میں ایسے قوانین منظور بھی ہو گئے ہیں ۔ لیکن اس مسئلے پر اس سے زیادہ توجہ دینے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث و مذاکرہ کی ضرورت ہے۔
آئندہ سطور میں اس موضوع پر بحث کی جائے گی کہ اسلام اس پورے معاملہ کو کس نظر سے دیکھتا ہے ؟ اور اس سلسلے میں اس کا کیا موقف ہے؟

اسلام کی بنیادی تعلیمات

قبل اس کے کہ اس موضوع پر اسلام کے موقف کی بہ راہ راست وضاحت کی جائے ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے عائلی نظام سے متعلق چند بنیادی تعلیمات بیان کر دی جائیں ۔
(الف) نکاح ـ توالد و تناسل کا واحد جائز ذریعہ
اسلام نے توالد و تناسل کو رشتۂ ازدواج سے منسلک کیا ہے ۔ اس کے نزدیک نسل انسانی میں اضافہ کا فطری طریقہ یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان باہم نکاح ہو اور جائز اور قانونی طریقہ سے ان کے درمیان جنسی تعلق قائم ہو ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَخَلَقَ مِنۡهَا
زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالٗا كَثِيرٗا وَنِسَآءٗۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ
بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا
١] النساء : 1 [
" لوگو ! اپنے رب سے ڈرو ، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت دنیا میں پھیلا دیے ۔"
وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ] النحل  : 72 [
" اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں ۔"
نا جائز جنسی تعلق کو اسلام میں سراسر حرام قرار دیا  گیا ہے ۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا ٣٢] الاسراء  : 32 [
" زنا کے قریب نہ پھٹکو ، وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ ۔"
(ب) مرد کے نطفے سے کسی غیر عورت کو بار آور نہیں کیا جا سکتا
اسلامی شریعت کی رو سے یہ قطعاً نا جائز ہے کہ کسی مرد کے نطفے سے ایسی عورت کو بار آور کیا جائے جو اس سے رشتۂ ازدواج میں منسلک نہ ہو ۔ حضرت رویفع بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا :
" لا یحل لامرٔ یومن باللّٰہ و  الیوم الآخر ان یسقی ماؤہ زرع غیرہ ۔"[1]
" کسی شخص کے لیے ، جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو ، جائز نہیں ہے کہ اپنے پانی ( یعنی مادۂ تولید ) سے کسی دوسرے کی کھیتی کو سیراب کرے ( یعنی غیر عورت سے مباشرت کرے )۔"
اس حدیث میں اصلاً " استبراءِ  رحم " کا حکم بیان ہوا ہے ، یعنی اگر کوئی عورت کسی مرد سے حاملہ ہو ، تو اس کے وضعِ حمل سے قبل کسی دوسرے مرد کے لیے اس سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے ۔ راوی حدیث حضرت رویفع نے " ای اتیان الحبالیٰ " کے الفاظ سے یہی تشریح  کی ہے ، لیکن اس حدیث کا عام مفہوم بھی لیا جا سکتا ہے کہ کسی مرد کے لیے اپنا نطفہ کسی اجنبی عورت کے رحم میں داخل کرنا جائز نہیں ہے ۔ مولانا شمس الحق عظیم آبادی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے :
"ای یدخل نطفتہ محل زرع غیرہ۔"[2]
یعنی ( کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ) اپنا نطفہ ایسی جگہ داخل کرے جہاں دوسرے کے بچے کی پرورش ہوتی ہے۔
(ج) شرم گاہ کی حفاظت
اسلام نے مردوں اور عورتوں دونوں پر لازم کیا ہے کہ و ہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ
فُرُوجَهُمۡۚ ۔ ۔۔ ۔
وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ
] النور  : 30 - 31 [
" (اے نبی) مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ... اور (اے نبی) مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ "
دوسری آیت میں یہی بات کھول دی گئی ہے کہ ممانعت اصلاً ناجائز جنسی تعلق کی ہے ، چنانچہ اہل ایمان کا ایک وصف یہ بھی بیان کیا  گیا ہے :
وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ Ĉ۝ۙ اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ ۔۔۔۔] المؤمنون  : 5 - 6 [
" اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، سوائے اپنی بیویوں کے ......۔"
" شرم گاہوں کی حفاظت " میں جہاں یہ بات شامل ہے کہ ماورائے نکاح کسی طرح کا جنسی تعلق قائم نہ کیا جائے ، وہیں اس کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے کہ جنسی اعضاء سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جو فطری طریقۂ تولید کے مغایر ہو ۔ اسی بنا پر لواطت[3]  Homosexulity استمناء بالید Masterbation اور جنسی تسکین کے دیگر غیر فطری طریقوں کو نا جائز قرار دیا  گیا ہے ۔[4]
(د)  نسب کی حفاظت ضروری ہے
اولاد کی خواہش انسان کی فطری خواہش ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ] آل عمران   : 14 [
" لوگوں کے لیے مرغوبات نفس : عورتیں ، اولاد ... بڑی خوش آیند بنا دی گئی ہیں  ۔ "
اگر کسی وجہ سے کسی شادی شدہ جوڑے کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکے تو اسلام اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی رشتہ دار یا یتیم بچے کو اپنا کر اس کی پرورش کر سکتے ہیں ۔ لیکن ساتھ ہی وہ نسب کی حفاظت پر بہت زور دیتا ہے ۔ اس کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ کوئی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا باپ کہے یا کوئی شخص کسی دوسرے کی اولاد کو اپنی اولاد قرار دے ۔ احادیث میں ایسا کرنے سے سختی سے منع کیا  گیا ہے اور اس پر وعید سنائی گئی ہے ۔
حضرت واثلہ بن اسقع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا :
" ان من اعظم الفِرَی ان یدّعی الرجل الیٰ غیر ابیہ ۔" [5]
" سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے ۔ "
حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ  نے فرمایا :
" لیس من رجل ادّعی لغیر ابیہ و ہو یعلمہ الا کفر ۔"[6]
" جس شخص نے جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کی طرف کی اس نے کفر کیا ۔ "
عہد جاہلیت میں کوئی شخص کسی دوسرے کے بچے کو اپنا بیٹا بنا لیتا تھا تو وہ اسی کی طرف منسوب ہو جاتا تھا اور اس کا تعارف اس کے بیٹے کی حیثیت سے ہونے لگتا تھا ۔ اس سے روک دیا گیا اور یہ آیت نازل ہوئی :
وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاۗءَكُمْ اَبْنَاۗءَكُمْ ۭذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَـقُوْلُ الْحَـقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيْلَ    Ć۝ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ الاحزاب   : 4 - 5 [
" اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔  یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو ، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی برحقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہ نمائی کرتا ہے ۔  منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو ، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں ۔"
علامہ قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
'' اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے " تبنّی " (کسی کو منہ بولا بیٹا بنانا)  کا حکم اٹھا لیا اور کسی شخص کو جو حقیقی بیٹا نہ ہو ، بیٹا کہنے سے روک دیا اور اس بات کی طرف رہ نمائی کی کہ زیادہ بہتر اور مبنی بر انصاف رویّہ یہ ہے کہ آدمی کو اس کے نسبی باپ کی طرف منسوب کیا جائے ۔''[7]

رحم کی کرایہ داری ـ اسلام کا نقطۂ نظر

رحم کی کرایہ داری کی جو صورتیں رائج ہیں اور جن کا گزشتہ سطور میں تذکرہ کیا گیا ہے ، ان میں دینی و شرعی اعتبار سے بڑے مفاسد پائے جاتے ہیں :
1)         قرآن میں اہل ایمان مردوں اور عورتوں دونوں کو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کاحکم دیا گیا ہے ۔  جو عورت اپنے رحم میں کسی غیر مرد کے بار آور نطفہ کی پرورش کرتی ہے وہ اس حکم کو پامال کرتی ہے ۔
2)         اسلام نے توالد و تناسل کو نکاح کے ساتھ مشروط کیا ہے ۔ اس تکنیک کے ذریعے جو عورت اپنے رحم میں کسی مرد کے نطفے کا استقرار کرواتی ہے ، اس سے اس کا ازدواجی رشتہ نہیں ہوتا ۔
3)         اسلام نے نسب کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے ، جب کہ اس تکنیک کو اختیار کرنے سے اختلاطِ نسب کا قوی شبہ پیدا ہو جاتا ہے ۔
4)         انسان کا جسم اور اس کے اعضاء اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں ۔ انہیں نہ فروخت کیا جا سکتا ہے نہ کرایہ پر اٹھایا جا سکتا ہے ۔
5)         جو عورت اس خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتی ہے وہ اگر بے شوہر کی ہے (کہ غیر شادی شدہ یا مطلقہ یا بیوہ ہے) تو سماج میں اس پر بدکاری اور دیگر نا پسندیدہ الزامات لگنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔
ان مفاسد کی وجہ سے تمام علماء نے متفقہ طور پر قائم مقام مادریت کی مذکورہ بالا تمام صورتوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ یہ موضوع بین الاقوامی فقہ اکیڈمیوں میں بھی زیر بحث رہا ہے اور ان میں بھی ان کی حرمت پر علماء کا اتفاق رہا ہے ۔ ان اجلاسوں کی تفصیل درج ذیل ہے :
·           ـ  رابطہ عالم اسلامی کی زیر نگرانی قائم اسلامک فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ کا آٹھواں اجلاس ، منعقدہ 28 ربیع الثانی تا 7 جمادی الاولیٰ 1405ھ (1985ء)  
·           ـ  تنظیم اسلامی کانفرنس کی زیر نگرانی قائم بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ کا تیسرا اجلاس منعقدہ عمان مورخہ 8 تا 13 صفر 1407ھ (1986ء)
·           ـ  مصر کی مجمع البحوث الاسلامیۃ کا اجلاس قاہرہ ، 2001ء
عالم اسلام کے مشہور فقہاء : ڈاکٹر جاد الحق علی جاد الحق (سابق شیخ الازہر مصر) ، ڈاکٹر محمد سید طنطاوی (شیخ الازہر) ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی (قطر) ، ڈاکٹر مصطفی زرقاء  رکن اسلامک فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ وغیرہم نے بھی رحم کی کرایہ داری کی مذکورہ بالا تمام صورتوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ [8]

قائم مقام مادریت کی ایک جائز صورت

ایک صورت یہ ہے کہ ایک شخص کی دو بیویاں ہوں ۔ ایک بیوی میں بیضہ Ovum تو بنتا ہو ، لیکن وہ رحم Uterus کے کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو کہ اس میں حمل کا استقرار نہ ہو سکتا ہو ، اس کا بیضہ لے کر شوہر کے نطفے Sperm سے اسے بار آور Fertilize  کیا جائے ، پھر اس کی پرورش دوسری بیوی کے رحم میں ہو ۔  کیا اسلامی شریعت اس کی اجازت دیتی ہے؟
تنظیم اسلامی کانفرنس کی زیر نگرانی قائم بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ کے اجلاس عمان 1407ھ (1986ء) میں اس صورت کو بھی نا جائز قرار دیا گیا ہے ۔ رابطہ عالم اسلامی کی زیر نگرانی قائم اسلامی فقہ اکیڈمی کے اجلاس مکہ مکرمہ 1404ھ (1984ء) کے شرکاء نے اس صورت کو جائز قرار دیا تھا ، لیکن اگلے اجلاس 1405ھ (1985ء) میں اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا اور اس صورت کو بھی حرام قرار دے دیا گیا ۔ اس کی دلیل یہ دی گئی کہ اس سے اختلاطِ نسب کا شبہ پیدا ہوتا ہے ۔ البتہ ہندوستانی فقہاء اس صورت کے جواز کا رجحان رکھتے ہیں ۔ مولانا محمد برہان الدین سنبھلی نے لکھا ہے :
'' بیضہ جس عورت سے لیا گیا اگر وہ بھی بیوی ہو اس مرد کی ، جس کے نطفہ سے مخلوط کیا گیا ہے اور پھر یہ مرکب جس عورت کے جسم میں داخل کیا گیا ہے وہ بھی اس مرد کی بیوی ہو تو جواز کا امکان ہے ، ورنہ نہیں ۔''[9]
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے جواز کی ایک صورت یہ بتائی ہے:
'' شوہر اور اس کی ایک بیوی کا مادہ حاصل کیا جائے اور اس کے آمیزے کو اسی شوہر کی دوسری بیوی کے رحم میں منتقل کردیا جائے ۔ اس لیے کہ اس کی پہلی بیوی زچگی کی متحمل نہ ہو ، یا طبّی اسباب کی بناپر تولید کی اہل نہ ہو ۔''[10]

ایک شاذ رائے

اجرت پر رحم مادر کے حصول کی درج بالا صورتوں میں سے پہلی صورت کو بعض علماء نے جائز قرار دیا ہے ۔ وہ یہ کہ شوہر نطفہ اور بیوی بیضہ فراہم کر سکتی ہو ، لیکن اس کے رحم میں کسی مرض کی وجہ سے بار آور نطفہ کا اس میں استقرار نہ ہو سکتا ہو ۔  چنانچہ دونوں کے مادوں کو ٹیسٹ ٹیوب میں بار آور کرکے کسی دوسری عورت کے رحم میں منتقل کردیا جائے اور وہ جنین کی پرورش کر کے ولادت کے بعد بچے کو زوجین کے حوالے کر دے ۔ ڈاکٹر عبدالمعطی بیومی ، رکن مجمع البحوث الاسلامیہ و سابق پرنسپل کلیۃ اصول الدین جامعۃ الازہر (مصر) کی رائے میں یہ صورت جائز ہے ۔ انہوں نے اسے " رضاع " کے مسئلے پر قیاس کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح شریعت نے بچے کو ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کے لیے دودھ پلانا جائز قرار دیا ہے ، بچہ اس کے دودھ سے تغذیہ حاصل کرتا اور پرورش پاتا ہے ۔ اسی طرح جنین کی تشکیل اصلاً شوہر کے نطفہ اور بیوی کے بیضہ سے ہو جاتی ہے ۔ کسی دوسری عورت کا رحم اس کو صرف غذا فراہم کرتا ہے ۔ اس لیے اگر کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ، مثلاً یہ کہ اپنا رحم پیش کرنے والی عورت اگر شادی شدہ ہو تو اس زمانے میں اس کا شوہر اس سے مباشرت نہ کرے ، تاکہ اختلاط نسب کا خدشہ نہ پایا جائے تو اس صورت کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے ۔[11]
یہ ایک کم زور رائے ہے ۔ اجنبی عورت کے رحم میں جنین کی پرورش کو مسئلہ رضاع پر قیاس کرنا درست نہیں ہے ۔ رضاع کی اجازت شریعت میں ایک زندہ وجود (بچے) کی زندگی کی حفاظت و بقا کے لیے دی گئی ہے ، جب کہ اجنبی عورت کے رحم کو اجرت پر حاصل کر کے ایک نئی زندگی کو وجود میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔  رضاع کی صورت میں اختلاط نسب کا  کوئی امکان نہیں ہوتا ، جب کہ موخر الذکر صورت میں اختلاطِ نسب کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر اس رائے کو علماء کے درمیان مقبولیت نہیں حاصل ہوئی ہے ۔
اجرت پر رحم مادر کے حصول کا معاملہ موجودہ دور کے نئے مسائل میں سے ہے ، گو یہ پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر رواج پا رہا ہے ، لیکن اس میں چونکہ اسلام کے عائلی نظام سے متعلق متعدد مفاسد پائے جاتے ہیں ، اس لیے شرعی اعتبار سے اس کی کوئی صورت اختیار کرنا جائز نہیں ہے ۔
( بشکریہ :
سہ ماہی
" تحقیقات اسلامی " علی گڑھ ، انڈیا )



[1]   سنن ابی داود  ، کتاب انکاح  ، باب فی وطی السبایا  ، 2158
[2]   عون المعبود شرح سنن ابی داود  ، شمس الحق عظیم آبادی  ، المکتبۃ السلفیہ  ، مدینہ منورة  ، 1968ء  ، 6 / 195
[3]    مرد کا مرد کے ساتھ غیر فطری تعلق کے لیے اردو میں ایک لفظ '' لواطت '' اور اس کے فاعل کے لیے '' لوطی '' کا لفظ معروف و مروج ہوگیا ہے ، حتیٰ کہ عوام و خواص دونوں ہی اس غلطی کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں ، جو قطعاً غلط ہے ۔ کیونکہ اس کا انتساب ایک جلیل القدر پیغمبر سیدنا لوط علیہ السلام کی طرف ہو جاتا ہے جبکہ اس سے مراد ایک قبیح فعل ہے ۔ نادانستگی ہی میں سہی ایک پیغمبر کی توہین ہوتی ہے ۔ حدیث میں عمل قوم لوط کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں فعل کو اس کے صحیح فاعل یعنی قوم لوط کی طرف منسوب کیا گیا ہے نہ کہ لوط علیہ السلام کی جانب ۔ انگریزی میں اس کے لیے سدومیت کا لفظ مستعمل ہے نیز اردو میں بھی اس کا ایک مترادف اغلام بازی موجود ہے ۔  (تنزیل )
[4]  تفسیر القرآن العظیم ، ابن کثیر ، دار ابن حزم بیروت ، 1420ھ/ 2001 ء ، ص 1291
[5]  صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، 3509
[6]    صحیح بخاری  : 3508
[7] الجامع لاحکام القرآن ، قرطبی ، دار الکتب العلمیہ بیروت ، 1988ء ، جلد  7 ، جزء : 14 ، ص : 80
[8]   مقالہ : تاجیر الارحام فی الفقہ الاسلامی ، د.ھند الخولی ، مجلۃ جامعۃ دمشق للعلوم الاقتصادیۃ و القانونیۃ  ، جلد 27 ، شمارہ 3 ، 2011ء   ، ص  282 – 283
[9]   موجودہ زمانے کے مسائل کا شرعی حل ، مولانا برہان الدین سنبھلی ، طبع دہلی ، 1992ء   ، ص  182
[10]  حلال و حرام ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد ، 1993ء ، ص  303
[11]  مقالہ تاجیر الارحام ، حوالہ سابق