اتوار، 13 جنوری، 2013

درس وفا

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

مولانا ابو الکلام آزاد کے قلم معجز رقم سے

درس وفا

ہجرت کی تیسری صدی قریب الاختتام ہے ۔ بغداد کے تخت خلافت پر المعتضد باللہ عباسی متمکن ہے ۔معتصم کے زمانے سے دارالخلافہ کا شاہی اور فوجی مستقر سامرہ میں منتقل ہو گیا ہے ۔پھر بھی سر زمین بابل کے اس نئے بابل میں پندرہ لاکھ انسان بستے ہیں ۔ایران کے اصطخر ، مصر کے ریمس اور یورپ کے روم کی جگہ اب دنیا کا تمدنی مر کز بغداد ہے ۔

دنیا کی اس تر قی یافتہ مخلوق کا جسے انسان کہتے ہیں ۔ کچھ عجیب حال ہے کہ یہ جتنا کم ہو تا ہے ۔اتنا ہی نیک اور خوش ہو تا ہے اور جتنا زیادہ بڑھتا ہے اتنا ہی نیکی اور خوشی اس سے دور ہو نے لگتی ہے ۔اس کا کم ہو نا خود اس کے لیے اور خدا کی زمین کے لیے بر کت ہے ۔یہ جب چھوٹی چھوٹی بستیوں میں گھاس پھوس کے چھپر ڈال کر رہتا ہے تو کیسا نیک ، کیسا خوش اور کس درجہ حلیم ہو تا ہے ؟ محبت اور رحمت اس میں اپنا آشیانہ بناتی ہے اور روح کی پاکیزگی کا نور اس کے جھونپڑوں کو روشن کرتا ہے ۔لیکن جونہی یہ جھونپڑیوں سے باہر نکلتا ہے اس کی بڑی بڑی بھیڑیں ایک خاص رقبہ میں اکٹھی ہو جاتی ہیں تو اس کی حالت میں کیسا عجیب انقلاب ہو جا تا ہے ؟ ایک طرف تجارت بازاروں میں آتی ہے ۔ صنعت و حرفت کارخانے کھولتی ہے ۔ دولت سر بفلک عمارتیں بناتی ہے حکومت و اما رات شان و شکوہ کے سامان آراستہ کرتی ہے ۔

امام ابو سلیمان الخطابی

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

امام ابو سلیمان الخطابی

شیخ الاسلام امام ابو سلیمان حمد بن محمد بن ابراہیم بن الخطاب الخطابی البستی مشاہیر ائمہ اسلام و فقہائے محدثین میں سے تھے ۔
آپ کی کنیت ابو سلیمان نام حمد تھا ۔ بعض تذکرہ نگاروں نے احمد بھی لکھا ہے جو کہ درست نہیں ۔ اپنے جدّ بزرگوار الخطاب کی صفتِ نسبتی سے الخطابی کہلائے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصوف کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے بھائی زید رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اسی نسبت سے '' الخطابی '' کہا جاتا ہے ۔ ( وفیات الاعیان، غایة المقصود)
٣١٩ھ میں بمقام '' بُست '' ولادت ہوئی ۔ '' بست '' بلادِ کابل کے اطراف میں ہرات و غزنی کے درمیان واقع ہے (وفیات الاعیان، غایة المقصود) ۔ لیکن مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کی تحقیق کے مطابق : '' بُست بضم الباء مدینة بین سجستان و غزنین و ہراة ۔''( سیرة البخاری : ١٧٧)

اقبال -- امید اور یقین کا نامہ بَر

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

محمد جاوید اقبال

اقبال -- امید اور یقین کا نامہ بَر

اقبال کو رُخصت ہوئے ٧٥ سال ہونے کو آئے لیکن ان کا امید افز اور روح پرور کلام اس قدر تازہ لگتا ہے گویا آج ہی کہا گیا ہو۔وہ غلامی کے دور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے بڑی بے خوفی سے غلامی کو موت سے بدتر قرار دیااور آزاد ی کا راز آشکار کردیا:
لاطینی ولادینی کس پیچ میں اُلجھا تو داور ہے ضعیفوں کا لاغالب اِلا ھُو

سوچیے ضرور، مگر سوچے بغیر

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

ایم ابراہیم خاں

سوچیے ضرور، مگر سوچے بغیر!

میلکم  گلیڈویل کی مشہور زمانہ کتاب Blink کا تجزیہ جس میں اس نظریے کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے کہ سوچنے اور فیصلہ کرنے کے لیے بہت زیادہ سوچنا نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔

میلکم گلیڈویل نے 2005 میں معرکہ آرا کتاب ''بلنک'' لکھی جس نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس کتاب میں گلیڈویل نے یہ تصور پیش کیا ہے کہ کسی بھی معاملے میں ذہن پر زیادہ زور دیے بغیر بھی نتیجہ خیز فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ ذہن میں یہ فطری صلاحیت ہوتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں آزاد چھوڑے جانے پر وہ تیزی سے کسی بہتر نتیجے تک پہنچ سکتا ہے اور اس صورت میں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں وہ بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز

تبصرہ کتب 8،9

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز

از: قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ
مرتبین : مو لانا عبدالحنان جانباز،  ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی

مبصر: محمد یاسین شاد عفی عنہ


محترم قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ٩١٢ صفحات پر مشتمل ضخیم سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز  متوفی ١٤ذالحجہ ١٤٢٩ھ بمطابق ١٣دسمبر ٢٠٠٨ء شائع کی اس کے مرتبین مو لانا عبدالحنان جانباز ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی ہیں ۔

قاری صاحب ناشر سوانح اس سال ١٤٣٣ھ  ١٢٠١٢ کو فریضہ حج کی ادائیگی کی سعادت حاصل کر چکے ہیں قرآن مجید میں ہے :
( یَرْفَعِ اللّٰھُ ا  لَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ )(المجادلة:١١)
ترجمہ :'' اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا ۔''
یعنی اہل ایمان کے درجے غیر اہل ایمان پر اور اہل علم کے درجے اہل ایمان پر بلند فر ما دے گا جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کے ساتھ علوم دین سے واقفیت مزید رفع درجات کا باعث ہے ۔(تفسیر احسن البیان )

قرآن اور پانی

تبصرہ کتب 8،9

قرآن اور پانی

مؤلف : محمد شعیب قادری
اشاعت : جولائی ٢٠١١ء
ناشر : بزم حجاز، جامعہ وقاریہ ٹرسٹ، کوثر نیازی کالونی، نارتھ ناظم آباد، کراچی

مبصر :  ابو عمار سلیم


مصنف کتاب جناب محمد شعیب قادری صاحب نے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے استفادہ کرتے ہوئے ایک بہت ہی اہم اور حساس موضوع پر ایک قابل قدر مضمون ترتیب دیا ہے۔ پانی ہمیشہ سے انسانی زندگی کے لیے ایک انتہائی اہم اور حیات کے برقرار رکھنے اور اس کی نشو نما کے لیے جزو لا ینفک عنصر کی طرح ضروری رہا ہے۔  جب قرآن مجید نے یہ اعلان کردیا کہ ہر زندہ چیز جو تم دیکھتے ہو اللہ نے پانی سے ہی تخلیق کی ہے تو پھر پانی کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ پانی انسان کے لیے اتنا اہم رہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ تہذیب انسانی ہمیشہ پانی کے ذخائر کے قریب ہی رہ کر پھلی پھولی ہے۔ دریائے دجلہ و فرات، نیل و آمو ، امیزن اور ڈینوب یا پھر ہمارا دریائے سندھ سب نے انسانی تاریخ اور تہذیب و تمدن پرگہرے نقوش چھوڑے ہیں ۔ تہذیبیں وہیں پروان چڑھیں جہاں پانی وافر مقدار میں موجود رہا۔

نبوی عظمتوں کی تلاش. اداریہ

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

محمد تنزیل صدیقی

نبوی عظمتوں کی تلاش

(اداریہ)

تخلیقِ کائناتِ عالم کے ساتھ ہی اللہ ربّ العزت نے سلسلۂ ہدایت و رہبری کا آغاز بھی فرمادیا ۔ چنانچہ انبیاء و رسل کی بعثت ہوئی جنہوں نے انسانیت کے ظلمت کدے کو الہام و وحی کی روشنی سے منوّر کیا اور افرادِ انسانیت پر ہدایت و ضلالت کی راہیں واضح کردیں ۔ جب ہم سلسلۂ تنزیلِ وحی اور بعثتِ انبیاء و رسل کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ جب جب انسانیت تاریکی و معصیت کے قعرِ مذلّت میں جا گری تو انہیں ذلّت آمیز پستی سے عزت آمیز بلندی کا سفر طے کرانے کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کے مقدس افراد کا نزول ہوا ۔ تاریخِ انسانیت میں ایسا مقام بھی آیا کہ جب ایک ہی وقت میں ایک سے زائد انبیاء و رسل مبعوث فرمائے گئے ۔