ہفتہ، 24 نومبر، 2012

مشعر باصطلاح صوفیہ و معارج و مدارج اہل سلوک

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہترجمہ : مولانا عبد العزیز صمدن فرخ آبادی

مشعر باصطلاح صوفیہو معارج و مدارج اہل سلوک

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہکا ایک ایمان افروز مکتوب

نحمدہ و نستعینھ و نصلی و نسلم عاجز سیّد نذیر حسین بخدمت شریف میرے مفتخر و محبوب مولوی سیّد عبد العزیز صمدنی سلمہ ربّہ۔

بعد السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ۔ واضح ہو کہ آپ کا خط پہنچ کر خوشی و خرمی حاصل ہوئی ۔ انبساط (کشادگی ) و انشراحِ قلب کی حالت تحریر کرکے میرے ناسور کہنہ کو تازہ کردیا ۔

اے عزیز ! تراخی و توقف شانِ باری تعالیٰ ہے ، جو چیز دیر سے حاصل ہوتی ہے ، وہ دیرپا ہوتی ہے ۔ سلطان الاذکار قرآن مجید ہے ۔ جو مجھ سے سیکھا ہے اس سے کام لیں ۔ '' فنا فی الشیخ '' میرے حضرات کا طریقہ نہیں ہے بلکہ شیخ اس لیے ہے کہ قرآن و حدیث سے ان کو جو کچھ معلوم ہوا ہے یا بزرگانِ طریقتِ صادقہ نے ان کو عطا فرمایا ہے ، وہ طالب کو پہنچادیں ۔ شیخ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ اپنا قدم حلقۂ شریعت سے باہر رکھے جو کوئی میرا حال دریافت کرے اس کو میری طرف سے کہہ دو۔

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے 3

حقیقی و اصلی اتباع

حقیقی و اصلی اتباع تو قرآن مجید ہی کا ہے وحی متلو کو بھی قرآنی آیات ہی کے مطابق دیکھ کرواجب الاتباع سمجھتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے :
( وَ اتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَاْ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ )
'' تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں سے بہترین چیز کا اتباع کرو ۔''
( احسن ما انزل ) سے یہ مراد لینا بھی صحیح ہے کہ جتنی کتابیں جتنے صحیفے اگلے انبیاء علیہم السلام پر اُترے تھے سب سے احسن جو کتاب اب اتری ہے اس کی اتباع کرو گویا اس کی مخاطبت اہل کتاب کی طرف ہے یہ مفہوم بھی ضرور صحیح ہے مگر اہل کتاب کی طرف مخاطبت نہ اس آیت سے پہلے ہے نہ اس آیت کے بعد البتہ عام مخاطبت ہے ۔ لیکن یہ مفہوم زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ جس مسئلے میں وحی قرآنی اور وحی غیر قرآنی دونوں متفقہ فتویٰ دیں وہی ( احسن ما انزل ) ہے ۔ بخلاف اس کے کہ اس متفقہ فتویٰ کو چھوڑ کر اسی مسئلے میں صرف آیت سے ایک نیا مفہوم نکالا جائے جو وحی غیر قرآنی سے مختلف یا اس کے خلاف ہو جہاں تک ہوسکے ہر مسئلے میں وحی قرآنی کے ساتھ وحی غیر قرآنی کا اتباع بھی پیشِ نظر رہے مگر یہ روش بڑی غلط ہوگی وحی غیر قرآنی کے اتباع کے لیے قرآنی آیات کو کھینچ تان کرکے اس وحی غیر قرآنی کے تابع رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ وحی قرآنی محفوظ بحفاظت خیر الحافظین تبارک و تعالیٰ ہے اور وحی غیر قرآنی کی حفاظت امت نے کی ہے ظاہر ہے کہ امت کی حفاظت اللہ کی حفاظت کی برابری نہیں کرسکتی ۔

توہین رسالت اور مغرب کا اندازِ فکر

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

توہین رسالت ﷺ اور مغرب کا اندازِ فکر (1)

رسالتمآب کی توہین و تنقیص کا جو سلسلہ مغرب یا عیسائی دنیا کی جانب سے جاری ہے ، اس اندازِ فکر کا تاریخی تجزیہ کرنا نہایت ضروری ہے ۔ اس دریدہ ذہنی کے مختلف عوامل ہیں ۔ مسلمانوں کے مقابل میدانِ جنگ میں شکست کی ذلت ، اسلام کی غیر معمولی نشر و اشاعت کے سامنے اپنی بے بسی ،مسلمانوں کی اخلاقی وسعت کے سامنے اپنی برہنہ تہذیب کا احساس اور ان سب سے بڑھ کر سیرتِ محمدی کی حیرت انگیز روحانی تاثیر ۔ یہ وہ عوامل ہیں جو ان کی طبیعتوں پر اسلام کے حوالے سے جھنجھلاہٹ ، ہٹ دھرمی اور عامیانہ پن پیدا کردیتے ہیں ۔

اسرائیل. وجۂ تسمیہ اور تاریخ.


جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
مولانا ابو الجلال ندوی

اسرائیل -- وجۂ  تسمیہ اور تاریخ (2)


موسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی
حضرت موسیٰ کے ہمراہ جو لوگ نکلے اور جو بعد میں آکر اُن کے ساتھ ہوگئے، وہ سب کے سب دین ِ موسیٰ پر نہ تھے' ان کے ایک بڑے گروہ نے باربار حضرت موسیٰ سے بغاوت کی،جس کے تذکرہ سے بائیبل اور قرآن بھرا پڑا ہے۔ حضرت موسیٰ  ان لوگوں کو مصر سے اِس لیے نکال لائے تھے کہ اِس قوم کو ارضِ کنعان میں آباد کریں۔آپ نے قوم سے اِ س علاقہ میں داخل ہونے کے لیے فرمایا تو ان لوگوں نے کہا کہ اِس سرزمین میں ایک جبا ر قوم ہے، اِس لیے ہم داخل نہ ہوں گے،