منگل، 11 ستمبر، 2012

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟


سیّد خالد جامعی  ( کراچی یونی ورسٹی ،کراچی )

قسط  نمبر 1 قسط  نمبر 2

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے بھوکا رہنا پڑتا ہے اپنا معیار زندگی کم کرنا پڑتا ہے اور مسلسل کم کرنے پر راضی رہنا ہوتا ہے۔ بھوکا  رہنا،خالی پیٹ ہونا کوئی عیب نہیں یہ اللہ کے مقربین کی صفت ہے کم کھانے کم سونے، کم بولنے دنیا سے کم سے کم تمتع کرنے کے باعث اہل اللہ پر اسرار کھلنے اور ان کے درجات بلند ہوتے ہیں، کھاتے رہنے سے بھوک نہیں مٹتی بھوک کم کھانے اور کھانا ترک کرنے سے مٹتی ہے، مستقل کھاتے رہنے والا ہمیشہ بھوکا ہی رہتا ہے جو بھوک کو قبول کرے اس کی بھوک مٹ جاتی ہے نفس قانع ہوجاتا ہے اس لیے صحابہ و صلحائے امت کثرت سے روزے رکھتے تھے۔

اسرائیل وجۂ تسمیہ اور تاریخ

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012


 علّامہ ابو الجلال ندوی رحمہ اللہ

اسرائیل
وجۂ تسمیہ اور تاریخ
 قسط ١  قسط2
قرآنِ پاک کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ حضرت آدم اور حضرت اسرائیل  کے علاوہ کسی فرد کی نسل کو اُس کی طرف ''بنی'' کا لفظ مضاف کر کے نہیں مخاطب کیا ہے۔ اسی طرح  ''آل''  کا لفظ حضرت داؤد  کے سوا کسی اَور کی طرف مضاف کر کے مخاطب نہیں کیا ہے   بنی آدم سے مراد تو دُنیا بھر کے اِنسان ہیں۔ اِسرائیل ،حضرت یعقوب کا نام تھا ' پورے قرآن میں یا بنی یعقوب نہیں۔

اِسرائیل  اور  یہود

جو شخص بھی بائیبل کا مطالعہ کرتا ہے' اُس کو معلوم ہے کہ حضرت سلیمان  کے مرنے کے بعد بنی یعقوب دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ایک گروہ جس میں یعقوب کے ١٢ فرزندوں میں سے ١٠ فرزندوں کی اولاد داخل تھی،اُس نے ایک باغی یربعام کو اپنا بادشاہ مانا، جس نے دینِ سامری کو ازسرِنَو حیاتِ تازہ بخشی، اَور گئو سالہ پرستی کو رِوَاج دیا،اُس کے بعد کے جا نشینوں نے اور بھی کئی گم راہیوں کو رِوَاج دیا۔یربعام  اَور اُس کے متبعین کا نام سفرِ ملوک  اَو ر سفرِ ایّام میں اِسرائیل اَور بنی اِسرائیل ہے۔

اتوار، 9 ستمبر، 2012

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے 2

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی
قسط 2

بات یہ ہےکہ یہ سورة رعد کی پہلی آیت ہے اس سے پہلے قرآن مجید میں بارہ سورتیں گزر چکی ہیں جن میں سے چھ سورتوں کے شروع میں قرآن مجید کی کچھ نہ کچھ منقبت ضرور بیان فرمائی گئی ہے ۔ سورة بقرہ کے شروع میں ہے

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ     ٻ فِيْهِ   ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ    Ą۝
 یہ کتاب ( یعنی اب دنیا میں کتاب اللہ یہی اور صرف یہی ایک تنہا ہے ۔ دوسری کتابیں اور صحیفے یا تو مفقود ہوگئے یا محرف ہوکر ان کے صرف ترجمے ہی ہر جگہ نظر آتے ہیں اصل کتاب کا کہیں پتہ نہیں ۔ اس لیے کتاب اللہ اب بس یہی ایک کتاب ہے ) اس کے اندر کسی طرح کے ریب و شک کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ مگر اس سے وہی لوگ ہدایت کا فائدہ اٹھائیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں ۔ ''

اس کے بعد آل عمران کے شروع میں ہے :
اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ  Ą۝ۭ نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ
 '' اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ زندگی کا مالک آپ اپنی ذات سے ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور دوسری ہر مخلوق کو قائم رکھنے والا اس نے اس کتاب کو مبنی بر حقیقت اتارا ہے ۔ ''
سورئہ اعراف کے شروع میں ہے :
كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ    Ą۝
'' بڑی عظمت (١) والی کتاب ہے ( دشمنوں کی مخالفت سے ) تم میں دل تنگی پیدا نہ ہونی چاہیے ( یہ کتاب ) اس لیے ہے کہ تم ( مخالفین کو مخالفت کے برے نتیجے سے ) ڈراتے رہو یہ ( کتاب ) ایمان والوں کے لیے بڑی نصیحت (٢) ہے ۔ ''
سورئہ یونس کے شروع میں ہے :
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ   Ǻ۝
 '' یہ ( جو یہاں سے آخر سورة تک آیتیں ہیں ) بڑی حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔ ''
یہاں بھی تلک کا اشارہ پوری سورة کی طرف ہے ۔

سورئہ ہود کے شروع میں ہے :
كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ         Ǻ۝ۙ
'' بڑی عظمت والی یہ کتاب ہے جس کی آیتیں بہت استوار اس پر مفصل بڑے حکمت والے ہر ذرے ذرے سے باخبر کے پاس سے آئی ہوئی ہے ۔ ''
سورئہ یوسف کے شروع میں ہے :
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ        Ǻ۝ۣ
) یہاں سے آخر سورة تک جتنی آیتیں ہیں ) یہ ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنے مفہوم کو وضاحت کے ساتھ بیان کردینے والی ہے ۔ ''

یہاں بھی تلک کا اشارہ پورے سورہ کی آیتوں کی طرف ہے جس کی تفصیل سورة رعد کی آیت میں گزر چکی ۔ سورة رعد کے بھی ۔ سورئہ ابراہیم ، سورة حجر ، سورة کہف وغیرہ کی ابتدا میں قرآن مجید کی منقبت کے الفاظ آئے ہیں ۔ اور بیسیوں سورتوں کے درمیان بھی قرآن مجید کی عظمت و اہمیت مختلف عنوان سے بیان فرمائی گئی ہے ۔ مگر غیر قرآنی وحی بھی تو آتی رہی ہے اس کا بالکل ذکر نہ کرنا مناسب نہ تھا ۔ اگرچہ اکثر غیرقرآنی وحی خصوصاً جن کا تعلق احکام دین سے ہے پہلے ان پر عمل غیر قرآنی وحی کے مطابق ہوتا رہا بعض کو ایسی ہر غیر قرآنی وحی کا ذکر قرآن مجید میں کسی نہ کسی عنوان سے ضرور فرمادیا گیا ہے تاکہ وہ احکام دین کسی ناقص الفہم کی نظر میں غیر قرآنی قرار نہ پائیں یا یہ کہ قرآن مجید سے باہر نہ رہیں اور قرآن مجیدکی جامعیت پر حرف نہ آئے مگر ابتدا ان احکام پر عملدرآمد کی ضرور غیر قرآنی وحی ہی سے ہوئی۔ جیسے ادائے فریضہ الصلوٰة کا طریقہ وغیرہ جس کی تفصیل آگے آتی ہے ۔ غرض ضرورت تھی کہ غیر قرآنی وحی جس کو علماء وحی غیر متلو کہتے ہیں اس کی اہمیت بھی بیان فرمادی جائے اس لیے سورة رعد کی مذکورہ آیت کریمہ میں ایک عام جملہ بیان فرمایا کہ صرف قرآنی آیات ہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی جس قسم کی وحی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ کی طرف نازل ہوئی ہے وہ سب برحق ہیں جو وحی آپ پر الہام و القاء فی القلب کے ذریعے فرمائی گئی یا عالم خواب میں فرمائی گئی یا فرشتے کے ذریعے قرآنی آیات کے ماسوا بطور پیغام فرمائی گئی یا کسی فرشتے کے ذریعے بطور تلقین و تعلیم جو وحی کی گئی ہو زبانی ہو یا عملی وہ سب برحق ہیں ۔اس آیت میں
( وَالَّذِیَ أُنزِلَ ِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ الْحَقُّ )

 '' اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ سب برحق ہیں ''
فرماکر ہر قسم کے نازل شدہ وحی کے برحق ہونے کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ وحی غیرمتلو کو غیر قرآنی قرار دے کر کوئی اس کا انکار نہ کرے ۔
وحی متلو و غیر متلو
یہ تقسیم علماء سلف نے اپنی طرف سے نہیں کی خود قرآن مجید نے تقسیم بیان فرمادی ہے ۔ سورة الکہف کی آیت ٢٧ پڑھیے :
وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ  رَبِّكَ 
'' اورتم تلاوت کرو اس وحی کی جو تمہارے رب کی کتاب سے تمہاری طرف کی گئی ہے ۔''
 اس آیت کریمہ میں ( مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ) کی قید بتارہی ہے کہ تلاوت وحی کتاب ہی کی مامور بھا ہے اور اس قید نے یہ بتادیا کہ کتاب سے باہر بھی بعض وحی ہوئی ہے جس طرح اگلے انبیاء علیہم السلام کی طرف کتابی و غیرکتابی دونوں طرح کی وحی آتی ہے ۔ اس لیے رسول اللہنے کاتبین وحی سے صرف کتابی وحی لکھوائی تاکہ اس کی تلاوت ہو غیر کتابی وحی کی تلاوت کا حکم نہ تھا ۔ اس لیے قرآن کی طرح باضابطہ اس کو نہیں لکھوایا ۔ کتابی وحی میں الفاظ وحی ہوتے جن کا محفوظ رکھنا ضروری تھا غیر کتابی وحی میں مفہوم کی وحی ہوتی تھی اوراگر مفہوم فرشتے کو القاء ہوتا تھا تو الفاظ فرشتے کے ہوتے تھے جو وہ رسول تک پہونچاتا اور اگرمفہوم رسول پر بیداری میں یا خواب میںا لقاء ہوتا تھا تو رسول اپنے الفاظ میں بیان فرماتے تھے ۔مگر مفہوم ایسی احکامی وحیوں کے بعد کو کہیں نہ کہیں قرآن مجید میں کسی نہ کسی طرح ضرور بیان فرمادیئے جاتے تھے تاکہ وہ مفہوم محفوظ رہ جائے اسی لیے دیکھئے دوسری جگہ بھی یونہی فرمایا ہے :
اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِـمِ الصَّلٰوةَ ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ۭ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ   45؀
'' اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو اورنماز قائم کرو بے شک نماز بے حیائی کی باتوں اورناپسندیدہ کاموں سے روک دیتی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرو گے ۔'' ( عنکبوت : ٤٥)
اس آیت کریمہ میں دو کاموں کا حکم دیا گیا ہے پہلا حکم  ( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ) کا ہے یعنی حکم دیا جارہا ہے کہ اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو ۔ جو شخص کچھ بھی آخرت کی باز پرس سے ڈرتا ہو اوریقین رکھتا ہو کہ اگر قرآنی آیات کے مفہوم صحیح کے اقرار و انکار میں ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو قیامت کے دن ہم سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ میں ایسے مومن سے پوچھتا ہوں کہ ( مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ) میں جو قید (مِنَ الْکِتٰبِ ) کی ہے صاف بتارہی ہے یا نہیں کہ کتاب والی وحی کے علاوہ بھی وحی ضرور آتی تھی ورنہ من الکتاب کی قید محض فضول ٹھہرے گی اور قرآن مجید میں کوئی لفظ بھی بے سود نہیں لایا گیا ہے اور چونکہ صرف کتابی ہی وحی کی تلاوت کا حکم ہے اس لیے کتابی ہی وحی متلو ہوئی اور غیر کتابی وحی غیر متلو ہوئی قرآن مجید نے خود وحی کی دو قسم متلو و غیر متلو بتادی یا نہیں ؟ اور پھر متصلاً اس کے بعد ہی ( وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ) کا دوسرا حکم یہ ظاہر کر رہا ہے کہ نماز میں بھی قرآن  مجید کی تلاوت ہونی چاہیئے اور ( اقم ) سے یہ اشارہ سمجھا گیا کہ تلاوت صرف قیام میں ہونی چاہیئے ۔ رکوع و سجود دونوں صورتیں سر نیاز خم کرنے کی ہیں اس لیے دونوں کا ایک ہی حکم ہونا چاہیئے سجدے کے متعلق حکم ہے ۔
 ( فَسَبِّحْ بَحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ )
'' اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہوجائو ۔''
 اس لیے رکوع و سجود میں تلاوت آیات کی ممانعت ہے کہ حکم صرف تسبیح و تحمید کا ہے ۔ سبحان ربی الاعلیٰ و بحمدہ سجدے میں اورسبحان ربی العظیم و بحمدہ رکوع میں کہنا چاہیئے ۔ تلاوت مخالفت حکم بھی ہوگی اور مخالفت سبیل المومنین بھی ۔ مخالفت سنت تو اس فرقے کا خاص '' دینی فریضہ '' ہے اس لیے مخالفت سنت کا الزام ان پر نہیں عائد کرتا ہوں ۔ قرآنی حکم اور سبیل المومنین کا اتباع ان پر بہر حال فرض ہے مگر سبیل المومنین کی تو مطلق پرواہی یہ لوگ کبھی نہیں کرتے باوجودیکہ ازروئے قرآن مجید سبیل المومنین کے خلاف راہ اختیار کرنے والا قطعی جہنمی ہے ۔ ( نساء ١١٥)

اس آیت کریمہ میں تلاوت کا حکم صریح ہے اور اشارہ نماز کے قیام میں تلاوت کا حکم ہے اس لیے وحی کتابی کی خصوصیت ظاہر کردی مگر اتباع چونکہ ہر قسم کی وحی کا فرض ہے اس لیے جہاں اتباع کا حکم ہے وہاں عام وحی کے اتباع کا حکم یا ذکر ہے ان آیتوں میں ( من الکتاب ) کی قید نہیں لگائی گئی ۔ تو اب اتباعِ وحی کے ذکر یا حکم کی آیات کریمہ ایمان و دیانت کی نظر سے خدا ترسی کے جذبے کے ماتحت ملاحظہ فرمائیے۔

1) قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ  ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ  (انعام :٥٠
'' کہہ دو ( اے رسول ) کہ نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے ( دیئے ہوئے ) خزانے ہیں اور نہ میں غیب ( کی باتیں ) جانتا ہوں اور نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جس ( بات ) کی وحی میری طرف کی جاتی ہے ۔ ''
٢)  اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ  ۚ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ  ١٠٦؁ (انعام : ١٠٧)
'' (اے رسول ) تم اتباع کرو اس ( بات ) کا جس کی وحی تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے کی گئی اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور مشرکین کی طرف سے منہ پھیر لو ( ان کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کرو )۔''
(٣) (ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ  ) ( اعراف:٢٠٣)
'' کہہ دو ( اے رسول ) کہ میں اتباع صرف اسی کا کرتا ہوں جس کی وحی میری طرف میرے رب کی طرف سے کی جاتی ہے ۔''
(٤)  (وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ     ښ      وَھُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ          ١٠٩؀ۧ
'' جو وحی ( اے رسول ) تمہاری طرف کی جائے تم اس کا اتباع کرو اور صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔''  ( سورئہ یونس کی آخری آیت
(٥) وَّاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا   Ą۝ۙ
( اے رسول ) تمہارے رب کی طرف سے جو وحی کی جائے اس کا اتباع کرتے رہو تم لوگ جو کچھ کروگے اللہ تعالیٰ بیشک اس سے باخبر ہے ۔'' (احزاب :٢
ان پانچ آیتوں میں اتباعِ وحی کا حکم ہے اور یہ حکم عام وحی سے متعلق ہے کہیں بھی کتاب کی قید نہیں ۔

اتباع ما انزل
سورة اعراف کی تیسری آیتِ کریمہ ہے :
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ  ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ    Ǽ۝
'' تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف اتارا گیا ہے اسی کا اتباع کرو اور اپنے رب کے سوا ( دوسروں کو ) اپنا ولی ( کارساز مالک ) بنا کر ان کا اتباع نہ کرو ۔ بہت کم تم لوگ نصیحت کرتے ہو ۔''
اس آیتِ کریمہ میں ( مَا أُنزِلَ ِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ ) سے صرف قرآن مجید مراد لینا صحیح (٣) مان بھی لیں تو یہاں من دونہ کی ضمیراسی ما انزل یعنی قرآن مجید کی طرف پھیرنا یا تو جہالت ہے یا جانتے بوجھتے ہٹ دھرمی ہے رسول اللہ کے قلبِ مبارک پر جو باتیں القاء ہوتی تھیں حضور کو جن باتوں کا الہام ہوتا تھا وہ بھی جب نزول وحی کی ایک صورت تھی جس کو میں قرآنی آیات سے ثابت کرچکا ہوں تو الہام نبوی کو ما انزل سے بالکل خارج کوئی مومن خدا ترس کس دلیل سے کرسکتا ہے ؟ اسی طرح خواب میں جو وحی حضور پر نازل کی گئی وہ بھی ما انزل میں ضرور داخل ہے اور جو زبانی پیغام یا ہدایت یا مژدہ فرشتہ لے کر نازل ہوا ( نزل بہ الروح الامین ) کی حیثیت سے اس کو ما انزل سے خارج کیوں سمجھا جائے گا ؟ جس طرح ما یوحیٰ اور ما اوحیٰ عام ہے بالکل اسی طرح ما انزل بھی عام ہے یقینا قرآن مجید ما اوحیٰ میں سے بہت زیادہ عظمت و اہمیت والی وحی ہے اس طرح ما انزل میں سے بھی وہ بہت زیادہ عظمت و اہمیت والا منزل من اللہ ہے مگر اس سے قرآن مجید کے سوا غیر متلو وحیوں کا انکار تو کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتا ہر ما انزل واجب الاتباع ہے مگر منزل یعنی ما انزل کے نازل کرنے والے کو اپنا ولی واحد مان کر اس کی اطاعت کے ماتحت اس کے نازل کردہ احکام کا اتباع واجب ہے اگر کسی نے احکام قرآنی کا اتباع کیا حکومتِ اسلامیہ کے حکام کی داروگیر سے ڈرکر۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور والی سمجھ کر نہیں تو اس نے بھی من دونہ اولیاء کا اتباع کیا ۔ اتباعِ احکام قرآنی میں نیت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ضروری ہے باقی رہی من دونہ کی ضمیر تو اس کو ما انزل کی طرف پھیرنا کھلی ہوئی جہالت یا کھلی ہوئی ہٹ دھرمی ہے ۔ ( لا تتبعوا من دونہ اولیاء ) میں لا تتبعوا کا مفعول اولیاء ہے یعنی جس کی طرف من دونہ کی ضمیر پھرتی ہے اسی کو اپنا ولی سمجھو اور اسی کے احکام کا اتباع کرو ، اسی کے بھیجے ہوئے رسول کا اتباع کرو اس کے سوا دوسروں کو اپنا ولی بنا کر ان کا اتباع نہ کرو ۔ قرآن کو ولی نہیں بنایا جاسکتا ۔ ولی وہی ہوگا جو علم و ارادہ اور قدرت و قوت والا ہو جو ولایت کا حق ادا کرسکے اور ظاہر ہے کہ قرآن مجید علم و ارادہ اور قدرت و قوت والا نہیں ہے ۔ جو ولایت کا حق ادا کرسکے اسی لیے قرآن مجید میں قرآن مجیدکے لیے ولی کا لفظ کہیں نہیں آیا جہاں آیا ہے اللہ کے لیے آیا ہے مومنین کا ولی اللہ ہے اور کفار کا شیطان ہے ۔
اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا 
''اللہ تعالیٰ مومنین کا ولی ہے ۔'' ( بقرہ : ٢٥٧)
حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے فرمایا :
(اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
'' تو میرا ولی ہے دنیا و آخرت میں ۔'' ( یوسف : ١٠١)

( وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ )
'' مومنین کا ولی اللہ تعالیٰ ہے ۔'' ( آل عمران : ٧٨ )

وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ           19؀
'' تقویٰ والوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے ۔'' ( جاثیہ :١٩)
اور بہت سی آیتیں ہیں ۔ غرض ولی کوئی صاحبِ عقل و علم و ارادہ و اختیار ہی ہوسکتا ہے ایک کتاب خواہ وہ کتاب اللہ ہی کیوں نہ ہو اس کو ولی قرار نہیں دے سکتے نہ کہہ سکتے ہیں اس لیے اس آیت کریمہ میں من دونہ کی ضمیر ربکم ہی کی طرف لوٹتی ہے جو شخص اس ضمیر کو ما انزل کی طرف پھیرے وہ جاہل ہے یا ہٹ دھرم یا معنوی تحریف کرنے والا ہے ۔
دوسری آیتِ کریمہ
وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ  (اعراف : ١٥٧)
'' اور اتباع کرو اس نور کا جو ان کے ساتھ اتارا گیا ۔''
یہاں النور سے عام طور پر قرآن مجید ہی مراد لیا جاتا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی اور جس قسم کی وحی کسی نبی پر جب بھی نازل ہوئی تھی وہ نور ہی تھی ہر وحی ایک نورہے اس لیے اس آیتِ کریمہ سے بھی غیر قرآنی وحی کو خارج سمجھنا غلط ہے ۔ جب قرآنی آیتوں سے غیر قرآنی وحی کا وجود ثابت ہوچکا تو قرآنی و غیر قرآنی ہر قسم کی وحی اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ نور ہے ۔ یہ بات دوسری ہے جب کسی اسم جنس کا ذکر ہوگا تو عموماً فرد اعظم و اہم کی طرف پہلے ذہن جائے گا کتاب اللہ ہر دوسری قسم کی وحی سے زیادہ اہم اور زیادہ واجب التمسک ہے اس لیے اس آیتِ کریمہ میں ( النور الذی انزل معہ ) سے قرآن مجید ہی کی طرف پہلے ذہن جائے تو حق بجانب ہے اس لیے کہ دوسری قسم کی ہر وحی کتاب اللہ کے تابع ہے ۔ اسی لیے تلاوت کا حکم صرف قرآن مجید وحی متلو ہی کا ہوا ۔ وحی غیر متلو کی تلاوت کا حکم نہیں ہوا وحی متلو کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے لیا اور اس کو ہر طرح محفوظ رکھا ۔ وحی غیر متلو کی حفاظت امت کے ذمے چھوڑ دی اورامت نے اس کی حفاظت کی ۔ اگلی امتوں کے ذمے کتاب اللہ وحی متلو اور سبیل المومنین سب کی حفاظت تھی چونکہ اگلی امتیں قومی امتیں تھیں ہر قوم میں نبی آتے تھے ان کا دین بھی قومی ان کی کتاب بھی قومی تھی ۔

جب پورے الناس کے لیے ایک نبی ، ایک کتاب اور ایک دین آگیا تو اب چونکہ نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی نئی کتاب آئے گی اس لیے اس آخری کتاب کی حفاظت تو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمّہ رکھی اور نبی آخر الزماں پر جو وحی غیر متلو آئی تھی ان میں سے جو اہم دینی وحی تھی ان کو بھی قرآن مجید میں ذکر کرکے محفوظ کردیا گیا ہے باقی کل وحی غیر متلو اور سبیل المومنین کی حفاظت امت کے ذمے چھوڑ دی تاکہ یہ امت بھی اگلی امتوں کی طرح اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھے اور ذمہ داریوں سے بالکل آزاد نہ رہے اور اب چونکہ کوئی نبی نہیں آئے گا اس لیے جو کچھ وحی غیر متلو اور سبیل المومنین میں اختلافات اور کمی بیشی اور تبدیلی و تغیر پیدا ہوجائے اس کو کتاب اللہ کے ذریعے درست کرلیں اور دینی اختلافات کا فیصلہ کرلیں ۔

حواشی
(١)        کتاب میں تنوین وحدت تعظیمی ہے اس لیے ترجمہ میں عظمت کا اظہار کیا گیا ہر زبان میں وحدت تعظیمی ہوتی ہے ۔

(٢)         ذکریٰ چونکہ غیر منصرف ہے اس لیے اس پر تنوین نہیں آسکتی مگر تنکیر موجود ہے اور یہ تنکیر اس وحدت تعظیمی کی ہے ، جو کتاب میں تنوین کی صورت میں ہے اصل تو مفہوم تنکر و وحدت کا ہے ۔ تنوین تو تنکر و وحدت کی ظاہری علامت ہے ۔

(٣)       ما انزل الیکم من ربکم سے صرف قرآن مجید مراد لینا صحیح مان بھی لیں ، یہ اس لیے لکھا ہے کہ اگر نزل بہ الروح الامین اور نزلہ روح القدس کی حیثیت آپ جانتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ صرف وہی وحی معتبر ہو جس میں مفہوم اس کے الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل لائے ہوں اور وہ وحی معتبر نہ ہو جس کا صرف مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل اپنے الفاظ میں لائے ہوں یا جس کے مفہوم کا القاء حضور کے قلبِ مبارک پر کیا ہو اور حضور علیہ السلام نے اپنے الفاظ طیبہ میں اس مفہوم کو ادا فرمایا ہو ۔ نزل بہ الروح الامین اور نزل روح القدس توتینوں قسم کی وحی ہوئی فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ کی نوعیت تینوں قسم کی وحیوں میں موجود ہے اس لیے صرف قرآن مجید کے منزل من اللہ ماننے پر اصرار اور باقی دونوں وحیوں کے منزل من اللہ ہونے سے انکار تو جائز نہیں خصوصاً جب ان دو قسم کی وحیوں کا ثبوت بھی قرآن مجید سے مل رہا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ اصل وحی کتاب اللہ ہے اس کے علاوہ جتنی قسم کی وحی بھی ہوئی وہ کتاب اللہ کے تابع ہے اس لیے نزل بہ اور نزلہ کی ضمیر مجرور و مفعولی قرآن مجید ہی کی طرف پھرتی ہے اس لیے کہ ان آیات کریمہ کے مخاطب منکرین تھے ان سے اصل کتاب کو منزل من اللہ منوانا تھا جو کتاب پر ایمان لے آئے گا وہ ایسی ہی ہر چیز پر ایمان لے آئے گا جو کتاب سے ثابت ہو غیر کتابی وحی تو مومنین کے لیے ہے کہ نہ کہ منکرین کے لیے ۔جو لوگ مصلحةً صرف قرآن مجید کے الفاظ پر ایمان کا زبان سے اقرار کرتے ہیں مگر مفہوم ہر آیت میں اپنا ٹھونستے ہیں انکے نزدیک تو اللہ تعالیٰ نے صرف الفاظ بے مفہوم نازل کیے ہیں جو اپنا کوئی مفہوم ہی نہیں رکھتے تو جن کے نزدیک اللہ نے نازل ہی نہیں فرمایا وہ صرف مفہوم والی وحی کو منزل من اللہ کس طرح تسلیم کریں گے اس لیے وہ کوئی آیت بھی جب لکھتے ہیں تو ا سکا لفظی ترجمہ لکھ کر اگر مفہوم لکھیں تو ہر اردو داں ترجمہ اور مفہوم کو ملا کر سمجھ لے گا کہ یہ مفہوم جو بیان کیا گیا ہے واقعی اس آیت کریمہ کا صحیح مفہوم ہے یا نہیں ؟ اس لیے جب لکھیں گے تو بغیر لفظی ترجمہ کے آیت لکھ کر صرف مفہوم لکھیں گے مگر ان کو خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف لفظوں میں فرمادیا ہے ۔:
( اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا ) ۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012 سے ماخوذ ہے۔

المغراف فی تفسیر سورۂ ق 4

جریدہ "الواقۃ" کراچی شمارہ ٤، رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی، اگست 2012

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط نمبر ٤ 

اور رسول اللہۖ نے فرمایا :
 '' ما شی اثقل من میزان المؤمن یوم القیٰمة من خلق حسن و انّ اللّٰہ لیبغض الفاحش البذی ۔''رواہ الترمذی (١) عن أبی الدرداء رفعاً '' یعنی
'' مسلمان کے ترازو میں قیامت کے دن عمدہ اخلاق سے زیادہ بھاری کچھ نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ نفرت رکھتا ہے بدکار کج خلق سے ۔'' اس کو ترمذی نے ابی درداء سے ]مرفوعاً[روایت کیا ہے ۔

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش ٣

جریدہ "الواقۃ" کراچی شمارہ ٤، رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی، اگست 2012  

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمار محمد سلیم

اسلام کی تکمیل قطعی ہے

اوپر درج شدہ آخری جملہ حضور نبی کریم خاتم المرتبت ۖ کے نبی آخر ہونے اور قرآن کے اس اعلان پر بڑی شدید ضرب پڑتی ہے:
'' آج کافر لوگ تمہارے دین ( کے مغلوب ہونے) سے نا امید ہو گئے ہیں، لہٰذا ان سے مت ڈرو، اور میرا ڈر دل میں رکھو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کر لیا ( لہذٰا اس دین کے احکامات کی پوری پابندی کرو) ۔'' سورة مائدہ  (٣:٥)۔
اس حقانی دعوے کے بعد یہ بھی ایک عجیب بات ہوئی کہ لوگوں نے اللہ کے دئے ہوئے نام اسلام کو بھی تبدیل کرلیا۔ یہ بات کیسے قابل قبول ہو اگر یہ کہا جائے کہ جنہوں نے ایسا کیا انہوں نے کوئی ایسا غلط کام بھی نہیں کیا۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ ان کے عقائد اور اعمال کسی طور بھی اسلامی عقائد اورنظریات کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ اللہ نے ان کا نام ہندو ، بدھ ، عیسائی اور یہودی نہیں رکھا ہے۔ بلکہ اللہ تو یہ کہتا ہے کہ:
'' اُس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا، اور اِس ( قرآن ) میں بھی، تاکہ یہ رسول تمہارے لیے گواہ بنیں، اور تم نوع انسان کے لیے گواہ بنو۔'' سورة الحج ( ٧٨:٢٢ )۔