ہفتہ، 1 ستمبر، 2012

سود سے نجات کیسے حاصل کریں؟

الواقعۃ شمارہ ٣ 

ابو عمار محمد سلیم

قسط ١ 

قران مجید اور احادیث مبارکہ میں سود کی ممانعت

١۔قران مجید میں سود کی ممانعت

قران مجید فرقان حمید جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے سر چشمہ ہدایت ہے انسان کو ان تمام کاموں کے کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس کی دنیاوی زندگی کے لیے بہترین سامان فراہم کرتی ہے اور اس کی آخرت میں بھی بڑی نعمتوں کی فراہمی کا وعدہ کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ قران پاک ہر اس چیز کو کرنے سے رکنے کا حکم دیتا ہے جو انسانی معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرنیوالا ہو ، جس سے آپس میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو یا پھر جس سے اخلاقی اور معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہوں۔

حقیقت Reality کیا ہے؟ یہ کون بتائے گا؟ منشائے کلام متکلم بتائے گا یا کوئی اور؟

الواقعۃ شمارہ ٣ 

سیّد خالد جامعی  ( کراچی یونی ورسٹی ،کراچی )

حقیقت Reality کیا ہے؟ یہ کون بتائے گا؟ منشائے کلام متکلم بتائے گا یا کوئی اور؟ 


Athense کے میلے میں ایک مصور کا شاہکار نصب کیا گیا اور لوگوں کی رائے مانگی گئی مصور نے انگوروں کا ایک خوشہ بنایا جسے انسانی ہاتھ نے اپنی گرفت میں لے رکھاتھا انگور اصل [Real]سے اس قدر مماثل [Similar] تھے کہ پرندے ان انگوروں پر چونچ مارنے کے لیے بار بار آرہے تھے یونان میں اس شاہکار کے چرچے ہوگئے ہر ایک مدح سرا تھا۔

تنِ حرم میں رُوحِ بت خانہ

الواقعۃ شمارہ ٣ 

عبدالخالق بٹ

مساجد کو اسلامی معاشرے میں ہمیشہ ہی سے مرکزیت حاصل رہی ہے، اور اس کی سب سے روشن مثال مسجدِ نبوی ہے، جسے بیک وقت عبادت گاہ، مشاورت گاہ، تربیت گاہ، عدالت، حکومت کا سیکرٹریٹ اور جہادی سرگرمیوں کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کا مقام حاصل تھا۔

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش

الواقعۃ شمارہ ٣ 

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمار محمد سلیم

شیخ عیسیٰ نورالدین اور حلول کا تصور 

 فرتھیوف شوؤن ( Frithjof Schuon ) عرف شیخ  عیسیٰ نورالدین (١٩٩٨- ١٩٠٧)۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے worldwisdom.com۔  ان کی زندگی کی تفصیل اور اسلامی نقطہ نظر سے گمراہ کن خیالات کو ان صفحات میں ظاہر کرنا ممکن نہیں ۔ یہ موجودہ دور کے ایک صوفی اور صاحب قلم حضرت تھے۔انہوں نے اپنا پورا زور اس نظریہ کی اشاعت پر صرف کیا کہ تمام مذاہب کی ایک ماورائی وحدت ہے۔

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے قسط (1)

الواقعۃ شمارہ نمبر ٣ 

علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے


ربع صدی سے زیادہ عرصہ گزرا ایک بار جماعت امت مسلمہ کی دعوت پر شمس العلماء حافظ محب الحق مرحوم کے ساتھ امرتسر گیا تھا تو ادارہ البیان کے بہت سے احباب ملے اور امت مسلمہ کے ارکان بھی ۔ مولانا احمد الدین سے بھی ملاقات ہوئی مگر وہ ملاقاتیں محض سرسری ہی رہیں البتہ البیان میں میرے مضامین برابر چھپتے رہے ۔ مگر ادارہ البیان بالکل انکارِ حدیث کی طرف مائل تھا اور میں مطابق قرآن حدیثوں کو دین میں حجت سمجھنے پر مصر تھا مگر باہم مخلصانہ افہام و تفہیم کا سلسلہ جاری رہا ۔

جمعہ، 31 اگست، 2012

المغراف فی تفسیر سورۂ ق قسط : (٣)


شمارہ نمبر ٣ 

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

(٢) ان کا باہم مختلف ہونا اور جلد جلد تبدل رائے کرتے رہنا اور آپ ( ۖ ) کا ابتداء سے انتہاء تک اپنے دعویٰ پر ثابت و قائم رہنا ، اور بَرملا اس کو ظاہر کرتے رہنا اور روز بروز عقلا اور اہلِ دانش کا قبول کرتے جانا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ کا دعویٰ حق ہے اور اب ان کا انکار کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ نری [صرف] ہٹ دھرمی اور حماقت ہے اگر اب بھی کفار اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علمی کو تسلیم نہ کریں اور اپنے اختلافِ باہمی سے بھی اپنے کو غلطی پر نہ مانیں ، تو تیسری دلیل پیش کیجئے ، اور لوحِ محفوظ میں وقائع  ]واقعات[ کا لکھا ہونا بھی دلیل ہے ، وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو کیا علم کہ اللہ جلّ شانہ کے یہاں وقائع و حوادث کی کوئی کتاب لکھی ہوئی دھری ہے ، تو دلیل عقلی سے سمجھائیے ۔

بدھ، 29 اگست، 2012

اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھے گا، شاہ فیصل شہید

الواقعۃ شمارہ نمبر ٢ 

سعودی عرب کے شہید فرمانروا شاہ فیصل کا ایک تاریخی انٹرویو


سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید نے ستمبر١٩٧٠ء میں (جب اردن میں عرب بالخصوص فلسطینی مجاہدین کی نسل کشی کی جارہی تھی) امریکی رسالے'' رانٹر پلے'' کے نمائندے ٹام دمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ'' مقبوضہ عرب علاقوں اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے اسرائیل کے خلاف جہاد کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل کی ہٹ دھرمی، غرور اور توسیع پسندانہ عزائم کی بنا پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت کی روک تھام اور اسے معقول رویہ اختیار کرنے کے لیے طاقت استعمال نہیں کی جائے گی ، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں مفاہمت نہیں ہوسکتی۔شاہ فیصل نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے اسرائیل پر معقول رویہ اختیار کرنے اور دوسرے عرب علاقے خالی کرنے کے لیے دبائو نہ ڈالا تو عوام مجھے مجبور کردیں گے کہ میں دوسرے عرب سربراہوں کی طرح روس کی حمایت حاصل کروں۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل اور مشکلات کی وجہ کمیونزم اور صہیونیت ہیں۔ شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بیت المقدس کے بارے میں کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر ان تمام لوگوں کے لیے صدیوں کھلا رہا جن کے مقامات مقدسہ وہاں واقع ہیں، اس لیے اب اسے بین الاقوامی شہر قرار دینے کا کوئی جواز نہیں۔ شاہ فیصل نے یہ بات اعلانیہ طو رپر کہی کہ ہم فلسطینی حریت پسندوں کی بھرپور حمایت اور مدد کرتے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، انہیں طاقت کے بل پر ان کے گھروں سے نکال پھینکا گیا ہے،اس ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد جائز اور منصفانہ ہے۔''

(بحوالہ: روزنامہ ''جسارت'' کراچی مورخہ ٢ ستمبر١٩٧٠ء )