اداریہ الواقعۃ کے مقصد اجراء مضمون نگاروں کی فہرست
تبصرہ کتب اردو فونٹ انسٹال کریں

ہفتہ، 24 نومبر، 2012

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے 3

حقیقی و اصلی اتباع

حقیقی و اصلی اتباع تو قرآن مجید ہی کا ہے وحی متلو کو بھی قرآنی آیات ہی کے مطابق دیکھ کرواجب الاتباع سمجھتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے :
( وَ اتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَاْ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ )
'' تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں سے بہترین چیز کا اتباع کرو ۔''
( احسن ما انزل ) سے یہ مراد لینا بھی صحیح ہے کہ جتنی کتابیں جتنے صحیفے اگلے انبیاء علیہم السلام پر اُترے تھے سب سے احسن جو کتاب اب اتری ہے اس کی اتباع کرو گویا اس کی مخاطبت اہل کتاب کی طرف ہے یہ مفہوم بھی ضرور صحیح ہے مگر اہل کتاب کی طرف مخاطبت نہ اس آیت سے پہلے ہے نہ اس آیت کے بعد البتہ عام مخاطبت ہے ۔ لیکن یہ مفہوم زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ جس مسئلے میں وحی قرآنی اور وحی غیر قرآنی دونوں متفقہ فتویٰ دیں وہی ( احسن ما انزل ) ہے ۔ بخلاف اس کے کہ اس متفقہ فتویٰ کو چھوڑ کر اسی مسئلے میں صرف آیت سے ایک نیا مفہوم نکالا جائے جو وحی غیر قرآنی سے مختلف یا اس کے خلاف ہو جہاں تک ہوسکے ہر مسئلے میں وحی قرآنی کے ساتھ وحی غیر قرآنی کا اتباع بھی پیشِ نظر رہے مگر یہ روش بڑی غلط ہوگی وحی غیر قرآنی کے اتباع کے لیے قرآنی آیات کو کھینچ تان کرکے اس وحی غیر قرآنی کے تابع رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ وحی قرآنی محفوظ بحفاظت خیر الحافظین تبارک و تعالیٰ ہے اور وحی غیر قرآنی کی حفاظت امت نے کی ہے ظاہر ہے کہ امت کی حفاظت اللہ کی حفاظت کی برابری نہیں کرسکتی ۔

اتباع و اطاعت

آج کل عموماً اچھے اچھے مدعیانِ قرآن فہمی اتباع و اطاعت کا فرق نہیں سمجھتے اور اطاعت قانون اور اطاعت احکام وغیرہ برابر الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں حالانکہ اطاعت کسی شخص اور کسی ذات کی ہوتی ہے ۔ احکام و قانون کا اتباع ہوتا ہے ۔ اتباع کسی شخص کا بھی ہوسکتا ہے ۔
'' اطاعت '' باب افعال کا مصدر ہے اس کا مادہ طوع ہے جس کے معنیٰ ہیں پسند ۔ جس کی ضد ہے کرھ یعنی مجبوری و ناپسندیدگی اور دباؤ میں رہنا ۔ طوعاً و کرھاً اردو میں بھی پڑھے لکھے لوگ بولتے ہیں ۔ واؤ بمعنی او ہے بمعنی طوعاً و کرھاً یعنی پسند سے خوشدلی سے یا مجبوری سے دباؤ سے ۔
سورة توبہ میں ہے :
( قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْکُمْ )
 '' ( اے رسول ) منافقین سے کہہ دو کہ تم ( کسی کارِ خیر میں ) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ۔''
باب افعال کا ایک خاصہ سلب مآخذ کا بھی ہے یعنی اصل مآخذ مادہ کے جو معنی تھے ۔ وہ باب افعال پر لانے سے اس مفہوم کے سلب کرلینے کے معنیٰ پیدا ہوجاتے ہیں تو اطاعت کے معنی ہوئے اپنی پسند اور اپنی خوشی کا سلب کرلینا اس کی پسند اس کی خوشی کے مقابل جس کی اطاعت کی جائے ۔ ( اطیعوا اللّٰہ ) کے معنیٰ ہیں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مقابل اپنی خواہش اپنی رضا اپنی پسند کو دل سے نکال پھینکو ۔
( اطیعوا الرسول ) کے معنیٰ ہیں اپنی پسند کو رسول کی پسند میں فنا کردو ۔ تویہ اطاعت کسی ذات ، کسی شخص ، کسی حاکم ، صاحبِ اقتدار و اختیار ہی کے ساتھ ہوسکتی ہے ۔ غیر ذوی العقول ، غیر صاحب اقتدار و قوت کی اطاعت نہیں ہوسکتی ۔ جن کی کوئی اپنی پسند نہ ہو بلکہ غیر ذی روح محض اقوال وہ بھی تحریری قوانین ہوں ان کی اپنی کوئی مرضی اور اپنی کوئی پسند تو ہے نہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے گی البتہ جس کا نافذ کردہ قانون ہے جس کے احکام ہیں اس کی اطاعت ہوگی ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ مجازاً قانون کی اطاعت کہی جاتی ہے مقصود صاحبِ قانون ہی کی اطاعت ہے تو یہ ویسا ہی ہے کہ کوئی دینے والے کا شکر ادا نہ کرے ۔ روپے کا شکر ادا کرے کہ اس کا کام روپے سے نکلا ہے ۔ پھر یہ کہ گفتگو عربی استعمال سے متعلق ہورہی ہے نہ کہ اردو میں زبان و استعمال سے متعلق ۔ اس سلسلے میں مدعیانِ قرآن فہمی ایک بڑے مغالطے سے کام لیتے ہیں وہ یہ کہ اطاعت ذات اور شخص ہی کی ہوتی ہے اور اسے '' بالمشافہ '' ہی ہونا چاہئے لہٰذا آج جبکہ رسول اللہ دنیا میں تشریف فرما نہیں ہیں تو ان کی اطاعت کے کیا معنی ؟ اس بنا پر یہ حضرات بزعمِ خود یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن میں واردشدہ اطاعت رسول سے مراد ہے ہر دور کے مرکزِ ملت کی اطاعت ۔
یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو رسول اورمنصب رسالت سے بالکل نابلد ہو اور اپنے مزعومہ مرکزِ ملت کو مقام رسالت پر بٹھانا چاہتا ہو ۔ یقینا اطاعت ذات اور شخص کی ہوتی ہے لیکن ان حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ محمد بن عبد اللہ کی وفات ہوئی ہے نہ کہ محمد رسول اللہ کی اور اگر ایسا نہیں ہے تو حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کے لیے قیامت تک لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ پر بھی ایمان کوئی معنی نہ رکھے گا ۔ لہٰذا اطاعتِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ احکام رسول کی اتباع کرتے ہوئے رسول اللہ کی اطاعت کی جائے یعنی رسول کی پسند کے مقابل اپنی پسند کو سلب کرلیا جائے ۔ رہا ان حضرات کا یہ کہنا کہ اطاعت '' بالمشافہ '' ہی ہوتی ہے تو یہ ایک بلا دلیل بات ہے ، دوسرے یہ کہ پھر تو اللہ کی اطاعت کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اللہ '' بالمشافہ '' نہیں ہے یعنی وہ ہماری نظروں کے سامنے نہیں ہے لہٰذا جس طرح اللہ کے '' بالمشافہ '' نہ ہونے کے باوجود اس کی مرضی اور پسند معلوم کی جاسکتی ہے اور اس کی مرضی اور پسند کے مقابل اپنی مرضی اور پسند کو سلب کیا جاسکتا ہے ، اسی طرح آج بھی رسول اللہ کی پسند معلوم کی جاسکتی ہے اور حضور کی پسند کے مقابل اپنی پسند کو سلب کرکے اطاعتِ رسول کی جاسکتی ہے اور کرنی چاہئے کہ اطاعتِ رسول ہر دور میں قیامت تک کے لیے منصوص ہے ۔
یاد رکھئے
کہ اطاعت بغیر محبت کے نہیں ہوسکتی ۔ قانون جس کے منشاء کے خلاف ہو وہ کبھی خوشدلی سے اس قانون کو قبول نہیں کرسکتا جب تک صاحبِ قانون سے محبت نہ ہو ۔ قانون بھی پیارا ہوگا اگر صاحبِ قانون پیارا ہے ۔
اتباع حکم کا اور قانون کا بھی ہوسکتا ہے اور کسی راہنما کا بھی اسی لیے قرآن مجید میں وحی کے اتباع کا بھی حکم ہے اور رسول کے اتباع کا بھی مہاجرین و انصار کے اتباع پر دوسروں کے لیے رضائے الٰہی موقوف ہے ۔
اتباع وحی و تلاوت وحی
قرآن مجید میں اتباعِ وحی کا حکم انہی پانچ مذکورہ سورتوں میں اور ان کی مذکورہ انہی پانچ آیتوں میں ہے مگر ہر آیت میں عام وحی اور ہر قسم کی وحی کے لیے حکم اتباع ماننا پڑے گا عموم لفظ کی بلا دلیل تخصیص جائز نہیں ۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ حضور پر ہر قسم کی وحی آتی رہتی تھی جیسا کہ اگلے انبیاء علیہم السلام پر اُترتی رہی اور بلا تخصیص عام وحی کے اتباع کا حکم ہے تو یقینا کسی قسم کی وحی بھی حکم اتباع سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتی ۔
اور تلاوت وحی کا حکم پورے قرآن مجید میں دو ہی جگہ ہے ایک اکیسویں پارے کی پہلی آیت کریمہ میں جو سورہ عنکبوت کی پینتالیسویں آیت ہے جس میں صاف طور سے فرمایا گیا ہے : (اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ  ) تلاوت کرو اس وحی کی جو وحی اس کتاب سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ۔
کس قدر صاف لفظوں میں وحی کتابی ہی کی تلاوت کا حکم ہے عام وحی کی تلاوت کا حکم نہیں ۔ اسی طرح دوسری آیت کریمہ میں ہے : ( وَ اتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ ْکِتَابِ رَبِّکَ )اور تلاوت کرو اس وحی کی ( اے رسول ) جو تمہارے رب کی کتاب ( قرآن ) سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ۔ ( کہف :٣٧) یہاں بھی صراحت و وضاحت کے ساتھ تلاوت کا حکم ہے اس وحی کے لیے جو ( من کتاب ربک ) تمہارے رب کی نازل کردہ کتاب سے ہو ۔
صرف دو ہی آیتوں میں تلاوت وحی کا حکم ہے اور دونوں جگہ صاف اور واضح طور سے وحی کتابی کی قید موجود ہے اس لیے وحی کی دو قسمیں متلو اور غیر متلو ۔ قرآن مبین نے صراحتاً خود کردی ہیں ۔ علمائِ سلف کا اختراع نہیں ہے ۔
وحی غیر متلو کو '' غیر قرآنی '' کہہ کر رد کرنا اور قبول نہ کرنا اور اس کے اتباع سے انکار کرنا در حقیقت قرآن مجید کا انکار ہے ۔ ( اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ
روایت
وحی غیر متلو جس کو مدعیانِ قرآن فہمی وحی تو تسلیم ہی نہیں کرتے ، '' غیر قرآنی '' باتیں کہہ کر رد کردیتے ہیں ان میں بہت سی تو ایسی ہیں جن کا ذکر کسی نہ کسی طرح قرآن مجید میں کردیا گیا ہے مگر اس فرقے والوں کو ان آیات سے کیا بحث ؟ ان کو ایسی آیتوں کی تلاش رہتی ہے جن سے وہ آج کل کے الحاد زدہ نوجوانوں کو مطمئن کرسکیں اور دنیا میں انسانوں کو خودساختہ نظام معیشت قائم کرسکیں اور بزعم خود سرمایہ داری کا استیصال کرسکیں ۔ ڈارون کی تھیوری کو قرآنی آیتوں سے ثابت کرسکیں ۔ غرض ان کا حاصل یہ ہے :
(اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ١٠4؁ )
'' ان کی ساری جدو جہد دنیاوی ہی زندگی کے مفاد میں کھو گئی ( خرچ ہوگئی ہے ) اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔'' ( کہف : ١٠٤ )
اس لیے وہ کبھی اس پر غور ہی نہیں کرتے کہ ( اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ )سے نمازِ جمعہ کا ثبوت تو مل رہا ہے مگر نمازِ جمعہ کب فرض ہوئی تھی ؟ اور کس آیت کے ذریعے فرض ہوئی تھی ؟
پھر'' نداء للصلوٰة ''  یعنی اذان کا ذکر قرآن مجید میں کئی جگہ ہے اذان کا حکم اور اذان کے کلمات کی تعلیم کس آیت سے ثابت ہوتی ہے ؟ ان باتوں پر غور کرنے کا ان کے پاس وقت کہاں ؟ ا س لیے یہ ان وحی ہائے غیر متلو سے بالکل بے خبر ہیں جو قرآ ن مجیدمیں صراحتاً مذکور نہیں اور جو قرآن مجید میں صراحتہً مذکور نہیں ان کو غیر قرآنی اور روایتی کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں حالانکہ قرآن مجید ان کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے ۔

قرآن مجید اور روایت

قرآن مجید نے روایت کو رد کرنے یا قبول کرنے کے متعلق بہترین اصول خود بتادیا ہے ۔ ارشاد ہے :
( اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا) (حجرات :٧ )
'' ( اے ایمان والو! ) اگر کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیقات کرو ۔ ''
یہ حکم دنیاوی امور ، جنگ ، صلح ، حملہ ، دشمن وغیرہ کے متعلق ہے کہ کوئی فاسق بھی کوئی خبر لائے تو محض اس کے فسق کی وجہ سے اس کی خبر دہی کو چھوٹتے ہی غلط اور جھوٹ قرار دے کر اس سے بے پروائی نہ برتو ممکن ہے کہ تحقیقات سے خبر صحیح ثابت ہوجائے ۔ اور نہ اس پر فوراً اعتماد کرلو ۔ ممکن ہے خبر غلط ہو اور تم کو خواہ مخواہ کی پریشانی اٹھانی پڑے غرض یہ حکم نہیں ہوا کہ چونکہ خبر لانے والا فاسق ہے اس لیے اس کو جھٹلادو ۔
حدیثیں جن میں وحی غیر متلو ، وحی غیر قرآنی کا بھی کچھ حصہ ضرور ہے جن اقوال و افعال کی نسبت رسول اللہ کی طرف کرکے راوی روایت کررہا ہو ۔ بغیر راوی کی وثاقت و عدم وثاقت کا پتہ لگائے ، بغیر اس کو قرآنی درایت کی میزان پر تولے ہوئے صرف روایت روایت کا شور مچاکر رد کردینا تو دراصل قرآن مجید کی اس آیتِ کریمہ کی کھلی ہوئی مخالفت ہے اور اس کے ساتھ نسبت الی الرسول کی توہین بھی ۔ کسی قول منسوب الی الرسول کی نسبتِ صحت سے انکار اور بات ہے اور عام طور سے ہر حدیث قولی و فعلی کا انکار اور بات ہے ۔کسی ایک یا چند یا بہت سی حدیثوں کا عدم قبول اور باقی کا اقرار کرنے والے کو کہا جاسکتا ہے کہ اس کا عدم قبول مبنی بر دیانت ہے جس طرح موضوعات پر کتابیں لکھنے والوں نے کافی تعداد میں حدیثوں کو موضوع قرار دیا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں بعض حدیثیں صحیح ہوں اور جن حدیثوں کو صحیح قرار دیا ہے ان میں کچھ موضوع حدیثیں بھی ہوں ۔ بہ ہر حال جن حدیثوں کو کتاب الموضوعات لکھنے والوں نے موضوع قرار دیا ہے ان کے پاس حدیثوں کے پرکھنے کا معیار ہے اپنے معیار کے مطابق موضوعات الگ کرکے جن حدیثوں کو صحیح سمجھا ان کو وہ دین میں حجت سمجھتے ہیں یہاں ایک بلا دلیل یہ خیال قائم کرلیا کہ قرآن مجید کے سواکوئی وحی آنحضرت کی طرف بھیجی نہیں گئی ۔ حضور کو کبھی کسی بات کا الہام ہوا ہی نہیں ۔ جبریل قرآن مجید کے سوا اور کوئی بات پہنچاتے ہی نہ تھے ۔ اور اس تنکے پر انکار کا پہاڑ اٹھائے ہوئے ہیں ۔
محکم دلیل
کتاب اللہ کے ساتھ ، سنت کا نام لینے والوں کے سامنے بزعم خود گویا ایک پہاڑ لا کر رکھ دیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ سنت کہاں ہے ؟ کس کتاب میں ہے ؟ کوئی ایسی کتاب دکھاؤ جس میں سارے اسلامی فرقوں کی متفق علیہ حدیثیں ہوں جس پر سارے فرقوں کا یکساں عملدرآمد ہو ، دکھاؤ ایسی کتاب ؟ ایسا کہنا قرآن فہمی نہیں بلکہ دراصل قرآن سے بے خبری کی شہادت ہے میں نے ان مدعیانِ قرآن فہمی کی اس پہاڑ ایسی دلیل کو کالعہن المنفوشدکھانے کے لیے ایک مستقل رسالہ '' السنّہ '' کے نام سے لکھا ہے ، اس بنا پر یہاں اس بحث کی تفصیلات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے چند بنیادی اور اہم باتوں پر اکتفا کرتا ہوں ۔
رسول اللہ   کو تلقینِ ایمان کس وحی کے ذریعہ ہوئی ؟
'' منجانب اللہ وحی '' کے عنوان کے تحت کچھ پہلے سورۂ شوریٰ کے آخر کی تین آیتیں لکھ کر وحی کے تین اقسام میں نے قرآن مجید کی ان آیتوں سے ثابت کیے ہیں ۔ ان تین آیتوں میں سے دوسری آیت یعنی سورۂ شوریٰ کی آخری آیت سے پہلے جو آیت ہے اس میں رسول اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ( مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ  ) ''(اے رسول ) تم تو جانتے بھی نہ تھے کہ الکتاب ( کتاب اللہ ) کیسی ہوتی ہے بلکہ ایمان (١) کی حقیقت سے بھی واقف نہ تھے ۔ ''
حیرت ہے کہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ حضرت موسیٰ جب وادی مقدس '' طویٰ '' میں پہنچتے ہیں ۔ تو حسبِ صراحت قرآنی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ میں تمہارا رب ہوں( اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ ) گویا اللہ اپنا تعارف کراتا ہے ۔ پھر انہیں بتاتا ہے کہ وہ کس مقدس جگہ کھڑے ہیں ( اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی ) پھر ان کو منصبِ رسالت پر فائز کرنے کی وحی کرتا ہے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ)  پھر اس کے بعد دوبارہ گویا اپنا تعارف اس طرح کراتا ہے کہ ( اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰھُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا ) ( بے شک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی الہٰ نہیں ) پھر انہیں حکم دیتا ہے کہ ( فَاعْبُدْنِیْ ) ( لہٰذا میری ہی عبادت کیا کرو ) پھر اس عبادت کے سلسلے میں حکم دیتا ہے کہ ( وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِکْرِیْ )( میری یاد کے لیے نماز کی پابندی رکھو ) پھر حضرت موسیٰ اور اللہ کے کے درمیان کچھ اور گفتگو ہوتی ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو'' ایک کارِ خاص '' پر مامور فرماتا ہے ۔ ( اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعُوْنَ اِنَّہ طَغٰی ) ( فرعون کے پاس جاؤ ، کہ وہ سرکش ہورہا ہے )۔

لیکن رسول اللہ کے پاس حضرت جبریل آتے ہیں تو نہ اپنا تعارف کراتے ہیں نہ ایمان کی تلقین کرتے ہیں ۔ باوجودیکہ رسول اللہ ایمان کی حقیقت سے واقف نہ تھے (٢) ۔ ( مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ ) اور نہ وہ رسول اللہ کو یہ بتاتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو منصبِ رسالت پر فائز کردیا ہے ، پس اچانک وہ نمودار ہوتے ہیں اور آتے ہی سورۂ علق کی ابتدائی چند آیات پڑھوادیتے ہیں !!

یقینا منصبِ نبوت عطا کرنے سے پہلے آپ کو تلقینِ ایمان کی گئی ہوگی ، تاکہ آپ اوّل المومنین ہوں ، مگر نبوت کا آغاز کس طرح ہوا ؟ تلقینِ ایمان کس طرح ہوئی ؟ قرآن مجید اس کو بیان نہیں فرماتا ۔ روایتیں جو آغازِ وحی کی ہیں ان میں کہیں تلقینِ ایمان کا ذکر نہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غشی سے افاقے کے بعدفرمایا ( اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ) مگر رسول اللہ کے لیے قرآن مجید میں اوّ ل المومنین کا لفظ کہیں نہیں ہے اور اس کے ذکر کی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ حضور کا اوّل المومنین ہونا قطعی و یقینی ہے ۔ عیاں را چہ بیاں۔
سورۂ بقرہ کے آخری رکوع آیت ٢٨٥ کے شروع میں ہے :
(  اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ  )
'' یہ رسول ایمان لائے ان سب وحیوں پر جو ان کے رب کی طرف سے ان پر اتاری گئیں اور سارے مومنین ایمان لائے ۔ سب کے سب ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ۔ ''
تو یہ خبر وہی ہے سب کے ایمان لانے کی ۔ سب کے سب بیک وقت بیک روز تو ایمان نہیں لائے تھے ۔ مومنین نے تو جب رسول سے دعویٰ نبوت و رسالت سنا قرآن مجید کی آیتیں سنیں تب رسول پر ایمان لاتے گئے ۔ خود رسول اللہ کب ایمان لائے ؟ کس دن کس وقت ؟ اور کس حکم سے ایمان لائے اور کس کی تلقین سے ایمان لائے یقینا کوہِ حرا میں حضرت جبریل حضور کے پاس آئے تو پہلے انہوں نے اپنا تعارف کرایا ہوگا اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے تلقینِ ایمان کی وحی پیش کی ہوگی کیونکہ آپ ایمان کی حقیقت اور تفصیل سے ناواقف تھے ( جیسا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں بتصریح مذکور ہے )۔اللہ تعالیٰ پر اگرچہ فطری ایمان ہوگا مگر فرشتوں پر کتابوں پر اگلے رسولوں پر اور قیامت پر ایمان کی تفصیل کا علم نہ ہوگا ۔ تلقینِ ایمان کے بعد جب آپ اوّل المومنین ہوگئے تو پہلے آپ کو آپ کے منصب نبوت و رسالت کی حقیقت سے مطلع کیا ہوگا اور اس کی بھی وحی ہی لے کر آئے ہوں گے ، اس کے بعد سب سے پہلی وحی جو حضور کے سامنے پیش ہوئی وہ بسم اللہ الرحمان الرحیم کی ، پھر اس کے بعد پوری سورۂ فاتحہ کی وحی ہوئی (٣)۔ تو وحی قرآنی سے پہلے حضرت جبریل نے اپنے ذاتی تعارف کی وحی غیر متلو پیش کی پھر تلقینِ ایمان کی وحی غیر متلو پیش کی پھر منصبِ نبوت و رسالت کی حقیقت سے آگاہ کرنے کی وحی غیر متلو پیش کی ، تین وحی غیر متلو کے بعد پھر پہلے بسم اللہ الرحمان الرحیم کی وحی کتابی پیش کی ۔ پھر سورۂ فاتحہ کی وحی کتابی پیش کی ، تو تین وحی غیر متلو کے بعد دو وحی متلو پیش کیں۔ سورة فاتحہ میں ( اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن ) کا اقرار تھا ( ایّاک نستعین ) میں تو طلبِ اعانت کا اقرار ہے اور طلب کا تعلق قلب سے ہے وہ تو آسان بات تھی مگر( ایاک نعبد ) کا تعلق صرف قلب سے نہیں ہے بلکہ جوارح یعنی دست وپا اور سر و جبین سے بھی ہے لہٰذا کس طرح اس قلبی اقرار کا عملی ثبوت دیا جائے اس کی تعلیم یقینا ضروری تھی ۔ ضرور حضرت جبریل نے حضور کو نماز پڑھانے کے طریقے کی وحی بھی دی بلکہ بہت زیادہ قرینِ عقل و قرینِ قیاس ہے کہ حضرت جبریل نے خود دو رکعت نماز پڑھ کر بتا دیا ہو اور حضور نے اسی جگہ تعلیمِ جبریل کے مطابق دو رکعت نماز پڑھی ہو ۔
غرض ، پہلے تین وحی غیرمتلو ، پھر دو وحی متلو ، ان کے بعد پھر تعلیم صلوٰة کی دو وحی غیر متلو ، زبانی اذکار کی اور عملی ہئیات صلوٰة کی بالواسطہ اور بالتوسط پہونچائی ، اس کے بعد سورہ علق کی پانچ ابتدائی آیتوں کی بسم اللہ الرحمان الرحیم کے ساتھ وحی متلو پیش ہوئی ۔
وحی بالواسطہ اور وحی بالتوسط
سورۂ الشوریٰ کی آیت ٥٢ میں ہے :
( اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہ مَا یَشَآئُ )
''اللہ تعالیٰ کسی فرشتے کو اپنے نبی کے پاس بھیجتا ہے تو جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس کے حکم کے مطابق فرشتہ وحی پیش کرتا ہے ۔''
تو اللہ تعالیٰ مرسل یعنی وحی بھیجنے والا اور نبی مرسل الیہ یعنی جس کی طرف وحی بھیجی گئی اور فرشتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان واسطہ ہوا ۔ اگر فرشتے کی حیثیت محض ایک امین کی ہے کہ وحی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو دی فرشتے نے بالکل اسی طرح اس کو نبی تک پہنچا دیا فرشتے کا بذات خود اس وحی سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں تو وہ وحی بالواسطہ ہے اور اگر فرشتے کا بھی فی الجملہ کوئی تعلق قولی یا عملی اس وحی سے ہو تو وہ وحی بالتوسط ہوئی ۔
چونکہ ( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ) فرما کر اللہ تعالیٰ نے کتابی وحی کی تلاوت کا حکم دیا ہے ۔ اس لیے ایسی وحی جو بالفاظ بطور امانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر مشروط طور پر بالکل امانت کی حیثیت سے فرشتے نے آنحضرت کے پاس پہنچائی وہ وحی بالواسطہ وحی متلو ہوئی اور وہی کتابی وحی ہے ۔
دوسری وہ وحی کلامی جو اللہ تعالیٰ نے فرشتے کی طرف فرمائی اور حکم یہ فرمایا کہ انہیں الفاظ میں اس وحی کو تم اپنی طرف سے ہمارے نبی سے کہیو یہ بھی کتابی وحی رہے گی تاکہ ہر تلاوت کرنے والا قیامت تک اس وحی کے مضمون سے آگاہ رہے ۔
جیسے سورة مریم کی دو آیتیں ٦٤، ٦٥ ہیں :
(وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ۚ  لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْــنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذٰلِكَ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِـيًّا        64؀ۚ
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ۭ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا        65؀ۧ
''(اے نبی ) ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترسکتے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے (٤)  والا نہیں ہے اور وہ سارے آسمانوں کا اور ساری زمین کا اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کا رب ہے تو پھر تم اسی کی بندگی کا حق ادا کرو اور اسی کی بندگی پر ثابت قدمی کے ساتھ جمے رہو ( اس کی ) ذات و صفات و اختیارات کا شریک تو کوئی کیا ہوگا )تم اس کے نام کا شریک بھی کیا کسی کو پاتے ہو ؟''
یہ وحی ہے تو کلامی اور بالفاظ اور امانت ہی کی حیثیت سے لفظاً لفظاً پہونچائی گئی مگر اس میں فرشتے کا ذاتی تعلق بھی ہے۔ فرشتے کو حکم ہے کہ اس قول کو تم اپنی طرف سے کہو تو دوہری وساطت ہوئی کلام پہنچانا اور اپنی طرف سے پہنچانا اس لیے میں نے اس قسم کی وحی کا نام وحی بالتوسط رکھا ہے مگر اس قسم کی وحی بالتوسط متلو ان دو آیتوں کے سوا تو کوئی تیسری آیت میرے ذہن میں نہیں ہے ممکن ہے دو ایک اور بھی کہیں ہوں ۔ و اللہ اعلم

وحی بالمفہوم

غرض وحی کلامی بالفاظہ تعالیٰ صرف وحی کتابی ہی ہے اور وحی بالواسطہ ہی ہے بجز مذکورہ دو آیتوں کے جو وحی متلو کتابی بالتوسط نازل ہوئیں یا شاید کوئی اور آیت بھی اس طرح کی ہو البتہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے پر مفہوم القاء فرمایا اور فرشتے نے اس مفہوم کو اپنے الفاظ میں نبی تک پہنچایا تو یہ وحی بالتوسط ہے اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتے نے پہنچایا ہے تو وہ حدیثِ قدسی ہے اور اگر حسبِ حکم ربانی فرشتے نے اپنی طرف سے کہا ہے تو وہ حدیث جبریل ہے اگر حضرت جبریل ہی اس وحی کو پہنچانے والے ہیں ورنہ جو فرشتہ بھی ہو اس کی طرف وہ حدیث منسوب ہوگی ۔
حواشی
(١)           ولا ایمان پر واو اضراب کے لیے آیا ہے یعنی '' بلکہ '' کے معنی میں ہے ۔
(٢)           یعنی ایمان اور اعمال ایمانیہ کی یہ تفاصیل جو بذریعہ وحی معلوم ہوئیں '' پہلے سے کہاں معلوم تھیں '' گو رسول اللہ نفسِ ایمان کے ساتھ ہمیشہ متصف تھے ۔( مولانا شبیر احمد عثمانی )
(٣)          بعض روایتوں میں مذکور ہے کہ سب سے پہلے سورۂ فاتحہ نازل ہوئی اور میرے خیال میں یہی قرینِ عقل و صواب ہے اور علّامہ زفخشری کی تحقیق کے مطابق تو اکثر مفسرین کی رائے میں سب سے پہلے نازل ہونے والی سورة الفاتحہ ہے ۔
(٤)          یعنی تم کو بھول نہیں گیا تھا وہ کسی بات کو کسی شخص کو بھی بھولتا نہیں ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنی رائے دیجئے