ہفتہ، 3 نومبر، 2012

نو مسلموں کا اسلام سے واپس لوٹ جانا۔ ایک لمحہ فکریہ

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

نو مسلموں کا اسلام سے واپس لوٹ جانا۔ ایک لمحہ فکریہ

ابو عمار سلیم

سانحہ ١١ ستمبر کے بعد ہمارے میڈیا نے اس خبر کی بہت زیادہ تشہیر کرنی شروع کی کہ مغربی ممالک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئی ہے۔  پیس ٹی وی کے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے لے کر ہمارے ملک کے دو دو صفحوں کے اخبارات تک میں بھی یہ خبریں بڑے جوش و خروش سے پیش کی جانے لگیں۔
اسلام کی حقانیت اور اس کے دل موہ لینے والے اصول و ضوابط بیشک انسان کو اپنی جانب کھینچتے ہیں اور جو کھلے دل کے ساتھ ا ن کو سمجھنا چاہے اس کے لیے اسلام کو قبول کرلینے کے علاوہ کوئی اور راہ باقی نہیں رہتی۔اعدادو شمار کے حوالے سے تو یوں محسوس ہو رہاتھا کہ بس اب کچھ ہی دنوں کی بات ہے کہ جلد ہی پوری انسانیت اسلام کے حلقہ میں داخل ہوجائے گی۔ مگر دراصل ان اعداد و شمار کی کوئی مستند اساس نہیں دی گئی۔ اسلام کا ہر بہی خواہ ان خبروں کو سن کر خوش ہوا اور بہت سے لوگوں کے ایمان میں اضافہ بھی ہوا ۔ مگر کسی مستند حوالہ کی غیر موجودگی میں بہت سے اذہان شک میں بھی مبتلا پائے گئے جو تاریخ سے واقف ہیں انہوں نے دور نبوت کے ان لوگوں کے اسلام کا حوالہ یادکیا جو اسلام کے غلبہ سے پریشان تھے اور دشمن اسلام تھے مگر اپنے بڑوں کے کہنے پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ ان کا پلان یہ تھا کہ صبح کو ایمان لے ا ؤ اور شام کو اس سے پھر جاؤ تاکہ لوگوں کو یہ تاثر ملے کہ ان لوگوں کو اسلام میں کوئی خوبی نہیں ملی اس لیے یہ واپس پھر آئے۔اور پھر لوگوں کے ذہنوں میں خلافت راشدہ کے دور کا وہ یہودی منصوبہ بھی جاگ اٹھا جب ان سازشیوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کا بہی خواہ ہونے کا تاثر دیا مگر در پردہ سازشیں کرتے رہے۔ انکی ریشہ دوانیوں نے اسلام کو جس طرح دو لخت کیا ہے وہ کس کی نظروں سے پوشیدہ ہے ؟ انہوں نے اسلام کوتقسیم کرکے ایسا نقصان پہنچایا ہے کہ ملت اسلامی کا جگر آج بھی خون کے آنسو رو رہا ہے۔

 موجودہ دور کے تکنیکی ذرائع کے استعمال کے ساتھ ان صہیونی عیسائی طاقتوں نے تو ہمارے اندر مزید فرقہ واریت بھی پیدا کر دی ہے اور ان اختلافات کو مزید شدید کردیا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر ضرورت اس بات کی تھی کہ ہر خبر کو اس کی اصلیت جاننے اور مکمل تحقیق و اطمینان کرلینے کے بعد  شائع کرنا چاہئے تھا۔ یہی قران مجید کا بھی حکم ہے مگر سستی شہرت اور سنسنی پھیلانے کی بھاگ دوڑ میں اصل تک کوئی نہ پہنچا اور جس کو جو خبر ملی وہ اسی کو لے کر دوڑ پڑا۔ میرے کہنے کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ غیر مسلموں کے ایمان لے آنے کی تمام کی تمام خبریں غلط اور جھوٹ کا پلندہ تھیں۔ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ یقیناًبہت لوگ اسلام لائے۔ اسلام نے انکے دلوں کو مغلوب کیا اور وہ لوگ جو سچائی کی تلاش میں تھے ،انہوں نے اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام کو قبول بھی کرلیا۔ مگر تازہ خبروں نے اسلام کے تمام درد مند دل رکھنے والوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب یہ خبریں آنی شروع ہوگئی ہیں کہ نومسلم حضرات اسلام سے نکل کر واپس اپنے پرانے مذہب کو اختیار کر رہے ہیں۔ میں بھی یہ سوچ رہا ہوں اور آپ بھی یقیناً اس فکر میں ہوں گے کہ آخر ان نو مسلموں نے ایسا کیا دیکھ لیا کہ وہ اسلام سے برگشتہ ہوگئے۔ کیا اسلام کی تعلیمات صرف میک اپ اور لیپا پوتی سے مزین ہے کہ اس کے اترتے ہی اس کا اصلی چہرہ سامنے آگیا اور دیکھنے والوں نے اس کی اصلیت دیکھ لی اور بھاگ گئے۔ مسلمانوں کی حالت اور ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے اوردیکھا جائے کہ ان کی زندگیاں جس طرح اسلام کے بتائے ہوئے اصول و مبادی سے دور ہیں تو کسی کا بھی متنفر ہو جانا بعید از قیاس بھی نہیں۔ مگر ہم اس کی طرف ذرا دیر بعد لوٹیں گے۔ آئے پہلے تازہ ترین خبروں اور بعض نو مسلمانوں کے لوٹ جانے کے بارے میں ان کی اپنی آرا اور انہیں پیش آنے والی مشکلات کا جائزہ لے لیں۔
میرے پیش نظر www.solaceuk.org کا ایک مضمون ہے جو اُم ریان کے نام سے ٧ اگست ٢٠١٢ء کو شائع ہوا ہے جو کسی نومسلم خاتون کے خط کے حوالہ سے ان کی مشکلات کے استفسار پر لکھا گیا ہے۔ اس خط کا ایک مختصر اقتباس آپ کے لیے پیش خدمت ہے:
'' میرے علم میں نہیں کہ آپ میری کوئی مدد کرسکیں گی یا نہیں۔ میری زندگی فی الوقت ایک عذاب میں مبتلا ہے۔ مجھے اسلام قبول کیے ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں اور ہر رمضان کی آمد پر میرے ایمان میں اضافہ ہونے کی بجائے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ کیا میں اپنے اسلام پر قائم رہوں یا واپس پرانا مذہب اپنا لوں۔ اسلام قبول کرنے کے بعدمیں جس تنہائی کا شکار ہوئی ہوں ایسی تنہائی میں نے اسلام میں داخل ہونے سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کی تھی۔رمضان میں یہ احساس اور بھی شدید ہوجاتا ہے جب مجھے بے تحاشہ ای میل ملتی ہیں جس میں یہ طریقہ بتایا جاتا ہے کہ تیس دنوں میں قران کیسے ختم کیا جائے اور تقویٰ کیسے حاصل کیا جائے۔ مگر میں اپنی ناکام کوششوں کے بعد اور بھی نامراد ہو جا تی ہوں۔آج سے پانچ سال قبل جب میں نے کلمہ شہادت پڑھا تھا تو بے تحاشہ بہنوں نے مجھے گلے لگایااور مجھے اپنا فون نمبر بھی دیالیکن یہ سب شائد دکھلاوا تھا اس لیے کہ چند دنوں کے بعد وہ نہ تو میرے فون کرنے پر فون اٹھاتی ہیں اور نہ میرے ایس ایم ایس اور میل کا جواب دیتی ہیں۔انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے نماز پڑھنا بھی سکھائیں گی ۔ مگر اتنے دن گزرنے کے بعد بھی مجھے آج نماز پڑھنی نہیں آتی ہے۔ میں بڑی اذیت میں گرفتار ہوں اور اپنی تنہائی سے پریشان بھی ہوں۔ میں نے کئی ایک کتابوں سے بھی مدد لی اور یو ٹیوب پر بھی سرگرداں رہی مگر ان میں سے کسی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میں نے اپنی مسجد میں بھی فون کیا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ مجھے اسلام میں داخل ہوئے پانچ سال گزر چکے ہیں اور مجھے ابھی تک نماز پڑھنی نہیں آتی تو میری مدد کرنے کی بجائے انہوں نے میرا مذاق اڑایا۔میری شدید خواہش ہے کہ میں قران مجید کی تلاوت کرسکوں ، دیگر مسلمانوں کی طرح تمام فرائض ادا کروں اورتراویح میں بھی شمولیت کروں۔میں روزہ کھولنے مسجد میں بھی گئی ، لوگوں نے مجھے کھانے پینے کی چیزیں ضرور پیش کیں مگرپھر نماز کے بعد کسی نے بھی مجھے لفٹ نہیں کرائی۔ لوگ اپنے اپنے گروپوں میں بیٹھ کر کھاتے پیتے رہے اور خوش گپیاں کرتے رہے مگر میرے لیے ان کے پاس سوائے دور سے پھینکی ہوئی ایک مسکراہٹ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔''
مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھنے کے بعد آپ کو یقیناً یہ احساس ہوا ہوگا کہ یہ ایک انتہائی نامناسب رویہ ہے جس کا اس نو مسلم خاتون کو سامنا کرنا پڑا۔ مگر کیا ایسے ہی حالات سے ہر نو مسلم کو گزرنا پڑتا ہے؟ یہ ایک بڑا ہی اہم سوال ہے جس کا ہم مسلمانوں کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے۔ کسی شخص کا مسلمان ہو جانا ایک بڑا ہی خوش آئند قدم ہے مگر کسی مسلمان کا اسلام کو چھوڑ کر واپس اپنی پرانی روش اور دین پرچلا جانا اس سے بھی زیادہ گھمبیر اور قابل فکر معاملہ ہے۔ ایک غیر مسلم شخص جو اسلام کا مطالعہ کرتا ہے وہ اپنی عقل و دانش کو استعمال کرکے اسلام کی سچائی اور اس دین کے انتہائی سادہ اصول اور ہمہ گیر پیغام کو قبول کرتا ہے تو اس کی زندگی میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ اسلام کے قبول کرتے ہی ایک تو یہ کہ وہ اپنے پرانے دین سے منحرف ہوجاتا ہے، اپنے عزیز و رشتہ داروں دوست اور احباب کی نظروں سے گر بھی جاتا ہے اور ان کی نفرتوں کا بھی شکار ہوجاتا ہے۔ وہ سارے لوگ جو اس کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے اچانک اپنے سے پرائے ہوجاتے ہیں اور اس کی پرانی زندگی کے تمام ابواب یک لخت بند ہو جاتے ہیں۔ اب وہ ایک ایسے دروازے سے ایک ایسے مکان میں داخل ہوجاتا ہے جس کے بارے میں اسے زیادہ معلومات نہیں ہوتی ہیں۔ اس دین کی ابتدائی باتوں کے علاوہ جو اس نے پڑھی یا سنی ہوتی ہیں اس کے علاوہ اس کو اور کچھ معلوم نہیں ہوتاہے۔ ایسے میں اس کا اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنا اور اپنے گرد مضبوط اور قابل بھروسہ سہارے کی غیر موجودگی یقیناً ایسے شخص کے لیے انتہائی دشوار اور نا قابل برداشت ہوتی ہوگی۔ وہ تمام نو مسلم مرد اور خواتین جن کو اسلام قبول کرتے ہی ایک انتہائی قابل بھروسہ محبت کرنے والے اور مدد کے لیے ہر دم تیار ساتھی مل جائیں جو اس کو کفر کا لبادہ اتار کر اسلام کی سیدھی سادی پاکیزہ سچائی کو سمجھنے میںمدد دیں تو اس کا کام تو شائد آسان ہوجاتا ہوگا۔ مگر اندازہ کریں ایسے شخص یا خاتون کا جو روشنی کی تلاش میں اسلام میں داخل ہو اور پھر بھی اندھیروں میں بھٹکتا پھرے ۔ظاہر ہے کہ اس کو ابھی اسلام کی تعلیمات کی ضرورت ہے۔ ایک استاد یا رہنما چاہیے جو اس کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جوب دے سکے ۔ جو چیزیں اس کی سمجھ سے بالا تر ہورہی ہیں ان کے عقدے کو حل کرے اور اس نئے دین پر چلنے میں اس کی مدد کر سکے تا کہ یہ نو مسلم اسی طرح اپنے آپ کو تمام فرائض ادا کرتا ہوا دیکھے جیسے دیگر مسلمان ادا کر رہے ہیں۔ ہم اور آپ جو پیدائشی مسلمان ہیں ہم نے اسلام کے عقائد اور اس کی تعلیمات کو جب سے آنکھ کھولی ہے سیکھ رہے ہیں او ر بغیرکسی واضح تردد اور کوشش کے تمام ضروری چیزیں ہمارے علم میں آگئی ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے دلوں میں اسلام کے لیے وہ جگہ نہیں ہے جو ان نو مسلموں کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس دین کو اور اس نئی تہذیب و معاشرے کو جان بوجھ کر اپنا یا ہے کہ یہی حق ہے ۔ وہ غلط راستے پر چل رہے تھے اور اب ضلالت اور گمراہی سے دور ہوکر سیدھے اور سچے راستے پر گامزن ہورہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو چند کتابوں کا تحفہ دے دینا یا ان کو کوئی سی ڈی یا اسی جیسی کوئی اور چیز دے دینا اور یہ سمجھنا کہ اب وہ اس دین پر بڑے اطمینان سے رواں ہو جائیں گے، انتہائی غلط ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ اپنی مصروف زندگیوں میں سے وقت نکال کر ان نو مسلموں کو نہ دے پا رہے ہوں۔ مگر حق تو یہ ہے کہ انہیں اگر بے یارومددگار چھوڑ دیا جائے گا تو یہ لوگ یقیناً واپس اپنے پرانے دین پر چلے جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی نو مسلم ایسا بھی ہو جس کواس کے گھر والے گھر سے نکال دیں اور اس کے لیے سر چھپانا وقت کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے۔ کیا وہ کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزار کر اپنے اسلام میں مسرور رہ سکتا ہے۔ یقیناً ان تمام مسائل سے آگاہی ہو جانے کے بعد بھی ہم یہ سو چتے رہ جائیں کہ کوئی دوسرا بھائی اس کی مدد کردے گا اور اگر یہ تمام معاملات کسی خاتون کے ساتھ پیش آرہے ہوں تو ان معاملات کی سنگینی میں انتہائی شدید اضافہ ہو جاتا ہے۔ خواتین خواہ مشرق کی ہوں خواہ مغرب کی ، یہ جنس کمزور ہے اور اس کو مرد کی مدد درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں معاملات میں ان کو جو دشواریاں پیش آرہی ہوتی ہیں ان کا سدباب مردوں کے مقابلہ میں زیادہ مشکل ہوگا۔ ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ نو مسلم خواتین کے ساتھ بعض سمجھدار حضرات نے ان کی کفالت اور ان کو معاشرہ میں ایک باعزت گھریلو زندگی گزارنے کی سہولت کی فراہمی کی غرض سے ان سے نکاح کرلیا۔ مگر کچھ ہی دنوں کے بعد ان کے اندر اختلافات جنم لینے لگ گئے اور کئی ایک جوڑے ذہنی مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے الگ ہوگئے۔ ایسی طلاق شدہ خواتین کی زندگی اور بھی اجیرن ہوگئی اور اطلاعات کے مطابق ایسی خواتین نے واپس اپنا پرانا مذہب اختیار کر لیا۔ شائد کچھ لوگ یہ گمان کریں کہ وہ جو اسلام کو واپس چھوڑ جاتے ہیں ان کے ایمان میں وہ پختگی نہیں ہوتی جو ان کو ان تمام مصائب اور مسائل کے باوجود اسلام کے دامن میں پناہ لیے رکھنے پر مجبور کر سکے۔

مگر یہ ایک بہت ہی سطحی نقطہ نظر ہے۔ معاملات اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہیں اور ان کے اوپر ہم تمام مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ غور کرنا چاہئے بلکہ فوری طور پر ایک ضابطہ عمل تیار کر کے اس کو اختیار کرنا چاہئے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا فعال گروپ تیار کیا جائے جو تمام نو مسلم لوگوں کو اپنی نگرانی میں رکھے۔ ان کی تربیت کے لیے اتالیق اور اساتذہ مقرر کرے۔ ان کی تربیت اور دین کے معاملات سمجھانے کے لیے اور اس پر آسانی سے عمل کرانے کے لیے ایسے خواتین اور حضرات کا تعین کرے جو خود بھی ان معاملات میں معلومات رکھتے ہوں۔ایک مکمل پروگرام کے تحت ان کی تربیت کا بندوبست ہو اور ان کی تمام ضروریات کا یہاں تک کہ اگر کسی کو زندگی کا ہم سفر چاہئے ہے تو اس کا بھی بندوبست کیا جا سکے۔عید بقرعید اور دیگر تہواروں کے علاوہ وقتاً فوقتاً آپس میں چھوٹی موٹی تقریبات جو ایک دوسرے سے ملنے اور یگانگت میں اضافہ کا باعث ہوں کا انعقاد ہوا کرے تاکہ یہ نومسلم حضرات اور خواتین تنہائی محسوس کرنے کی بجائے ایک معاشرہ کا حصہ بن جائیں ایک دوسرے میں دلچسپی لیں اور یہ احساس اجاگر ہو جائے کہ اسلام ایک بڑی برادری ہے اور ہر ایک دوسرے کی بہتری اور فائدے کے لیے فکر مند ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنی رائے دیجئے