منگل، 25 دسمبر، 2012

المغراف فی تفسیر سورۂ ق 7

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہتسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

المغراف فی تفسیر سورۂ ق

قسط نمبر 7

مگر یہ دولتِ تفکر و ذکر ہر آدمی کو نصیب نہیں ہوتی ۔ اس لیے کہ
(١) انسان جب سے ہوش سنبھالتا ہے ، عالم میں ساری چیزوں کے ظاہری اسباب کو دیکھتا ہے ۔
( ٢) خود کو کھانے پینے اور دیگر ضروریات کے بہم پہنچانے میں مصروف کردیتا ہے ۔
(٣) خود کو ایسے لوگوں میں پاتا ہے جو فی الجملہ مختار بھی ہیں اور مجبور بھی ۔
(٤) جن لوگوں میں نشو و نما پاتا ہے انہیں دیکھتا ہے کہ جن باتوں میں وہ مختار ہیں ، ان کو اپنی طرف نسبت دیتے ہیں اور جن باتوں میں مجبور ہیں ان کو کسی قوت غیبی کی طرف منسوب کرتے ہیں تو یہ بھی کسی غیبی قوت کا قائل ہوجاتا ہے اور تقلیداً انہیں کا کلمہ پڑھنے لگتا ہے ۔ یہی بنیاد ہے اللہ کے ماننے کی ، جس سے کسی انسان کا دل خالی نہیں مگر اس کے تعیین میں ، تعداد میں ، طریقِ پرستش میں ہزاروں دھوکے کھاتے ہیں ۔

آزادی کیا ہے ؟ آزادی کیا نہیں ہے ؟

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

سید خالد جامعی (کراچی یونیورسٹی، کراچی)

آزادی کیا ہے ؟ آزادی کیا نہیں ہے ؟

قسط نمبر 1

ہر معاشرے میں صرف ایک قدر ہوتی ہے ، جو تما م اقدار سے ماورا ہوتی ہے۔ہر کام کو اس ایک قدر کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔یہ تصور الخیر[Good] یا اس تہذیب کا Hyper Good  ہوتا ہے۔ تمام اقدار و روایات اس تصور خیر سے ہم آہنگ ہوں گی۔ عصر حاضر میں یہ الخیر آزادی ہے۔لہٰذا عصر حاضر کے ہر معاشرے کے تصور عدل کو اس الحق الخیر تصور آزادی[Freedom] پر پرکھا جائے گا کہ معاشرہ فرد کی آزادی میں کتنا اضافہ کررہا ہے۔جو معاشرہ آزادی کے دائرہ میں جس قدر اضافہ کرے گا وہی سب سے عادل معاشرہ ہوگا ۔بہ ظاہر یہ تصور لوگوں کو اچھا لگتا ہے اور آزادی کے اس تصور پر عدل کی اس تعریف پر اس کا اصل تاریخی فلسفیانہ تناظر واضح کیے بغیر تنقید کی جائے تو لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انسانوں کو زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے ۔

عالمِ اسلامی کا انتشار

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

مولانا عبد الحامد بدایونی کی کتاب '' فلسفۂ عبادات اسلامی '' سے ماخوذ

عالمِ اسلامی کا انتشار

بدقسمتی سے ممالکِ اسلامیہ کا اپنا کوئی مشترکہ نظریۂ حیات نہیں اسی لیے وہ مغرب کا شکار ہیں ۔ باہمی تباغض و تنافر کی وجہ سے شیرازہ منتشر ہے ۔ اغیار فائدہ اٹھا کر ایک دوسرے کے خلاف لڑانے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ حیرت ہے کہ عالم اسلامی اپنے سرمایۂ حیات کو مغرب کی نذر کر رہا ہے جسے دیکھو وہ مجلس اقوام کی قیادت قبول کر رہا ہے ۔
افسوس جس ملّت نے دنیا کی قیادت کی وہ آج اپنے انشقاق و افتراق کی بدولت غیروں کے دامن میں پناہ لے کر اپنا مستقبل تاریک کر رہی ہے ، مغربی لعنتیں اختیار کر رہی ہے ۔

اللہ کی بادشاہت

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

مولانا محمد علی قصوری

اللہ کی بادشاہت

قسط نمبر 1


الحمد للّٰھ نحمدہ و نستعینھ و نستغفرہ و نومن بھ و نتوکل علیھ و نعوذ باللّٰھ من شرور انفسنا و من سیئات اعمالنا من یھد اللّٰھ فلا مضل لھ و من یضللھ فلا ھادی  لھ و نشھد ان لا الھ الا اللّٰھ وحدھ لا شریک لھ و نشھد ان محمدا عبدھ و رسولھ صلوت اللّٰھ و سلامھ علیھ و علیٰ الھ و ازواجھ و اصحابھ و ذریاتھ و اتباعھ اجمعین الیٰ یوم الدین ارسلھ بالھدی و دین الحق لیظھرھ علی الدین کلھ و کفیٰ باللّٰھ شھیدا ، اما بعد قال اللّٰھ تبارک و تعالیٰ :
( وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْکَاثًا ) ( النحل )
'' اس بڑھیا جیسے نہیں بنو جو اپنا محنت سے کاتا  ہوا سوت خود تار تار کردیتی تھی ۔ ''
قرآن حکیم نے مندرجہ بالا تمثیل میں ایک نہایت لطیف پیرایہ میں انسانی اعمال کے نتائج کو پیش کیا ہے ۔ اگر انسانی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان سالہا سال کی شبانہ روز محنت سے تہذیب و تمدن کا ایک بہت بڑا محل تعمیر کرتا ہے لیکن جب اس میں بسنے اور آرام و سکون حاصل کرنے کا وقت آتا ہے تو خود ہی اس عظیم الشان قصر کی اینٹ سے اینٹ بجانی شروع کردیتا ہے ۔ مندرجہ بالا تمثیل کے ذریعہ قرآن حکیم نے انسان کی ناکامیوں اور نامرادیوں کا کیسا محیر العقول نقشہ کھینچ کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے ۔ تاریخ کے اوراق اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہماری تمام سرگزشت ، انسانی محنتوں کے ہوشربا مدفن اور صدیوں کی جان کاہیوں کے گورستان کے سوا کچھ نہیں ۔ چند بوسیدہ عمارتیں ، چند شکستہ مزار اور چند ٹوٹے ہوئے آثار ، انسانی محنت گزشتہ کی عظمت اور اس کی ناپائیداری کا مرثیہ پڑھ کر ، ہماری گزشتہ تاریخ کے اوراق کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔ جدھر نظر دوڑائو ، تہذیب کے سر بفلک ایوان خاک کے چند تودوں کی شکل میں سر بسجود نظر آئیں گے اور تمدن اور شائستگی کے دلفریب مرغزاروں کی جگہ ویرانی اور بربادی کے کھنڈروں کے سوا کچھ دکھائی نہ دے گا ۔ تہذیب کے بعد تخریب اور تمدن کے بعد بربادی دنیا کا پرانا قانون ہے اور اسی لیے کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے تئیں دہراتی ہے ۔ بابل و نینوا ، مصر و ہندوستان ، ایران و یونان ، روما اور عرب سب نے باری باری تہذیب کے میدان میں قدم رکھا ۔ اپنے اپنے وقت میں تو کوس لمن الملک بجایا اور دنیا کی بساط سے رخصت ہوگئے اور اس امر کی شہادت پیش کر گئے کہ
لِکُلِّ قَوْمٍ اَجَل  ( ہر قوم کے لیے ایک وقت مقرر ہے )
ہستی  ہماری  آپ  فنا  کی  دلیل  ہے
ایسے  مٹے  کہ  آپ  ہی  اپنی  قسم  ہوئے
ان قوموں میں بعض کا تو کہیں نام و نشان بھی نہیں ملتا ۔
( تِلْکَ الْاَیَّامِ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ )
'' یہ دن ہیں ہم انہیں قوموں میں پھیرتے رہتے ہیں ۔ ''
آج کل تہذیبِ مغرب بھی اسی قسم کے انقلاب انگیز دور سے گزر رہی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بساط بھی اب الٹنے کو ہے اور جس طرح اس کی پیش رو تہذیبیں فنا ہوگئیں اسی طرح اس کے لیے بھی پیام فنا مقدر ہوچکا ہے ۔ گو ظاہر بین آنکھوں کے لیے اس تمدن اور تہذیب میں ایسی جاذبیت ہے کہ وہ اسے فنا سے بالا تر خیال کرتے ہیں لیکن اس پر بھی مرزا غالب کا مشہور شعر صادق آتا ہے
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برقِ خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
خود اس تہذیب کی فکری اساس میں ہی اس کی تباہی کے جراثیم پوشیدہ ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ یہ زیادہ دیر تک زندہ رہ سکے اور اپنی پیش رو تہذیبوں کی طرح نسیا منسیا نہ ہو جائے ۔ چنانچہ علامہ اقبال مرحوم نے تہذیب مغرب کی اس اساسی کمزوری کی طرف سال ہا سال پہلے اشارہ کیا تھا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہو گا
بے شک آج سے چند سال پیشتر ہمارے اس دعوے کو مجنونانہ بڑ سے زیادہ وقعت نہ دی جاتی تھی ۔ کیونکہ بیسویں صدی کے اوائل میں تو جمہوریت کا طوطی بول رہا تھا اور انگریزی اور امریکن جمہوریتوں کو انسانی نظام زندگی کا گل سرسبد خیال کیا جاتا تھا لیکن پہلی جنگِ عظیم نے جمہوریت کاپول کھول دیا اور عامة الناس کے دلوں میں اس کے خلاف بغاوت اور نفرت کے جذبات پیدا ہونے شروع ہوگئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اٹلی ، جرمنی اور جاپان میں فسطائیت اور نازی ازم نے جنم لیا اور روس میں کمیونزم اور بالشوزم پھلنے پھولنے لگے ۔ کمیونزم اور بالشوزم میں ابتدا میں بہت کشش پائی گئی اور حریت و مساوات ، امیر و غریب کے امتیازات کا خاتمہ بورژوا کی تباہی اور مزدور کی سلطانی ، زمیندارہ سسٹم کی بربادی اور کاشتکار کی شہنشاہی کے نعروں نے نہ صرف عام پبلک کو ، بلکہ اکثر تعلیم یافتہ طبقوں کو بہی اس درجہ مسحور کیا کہ وہ یقین کرنے لگے کہ امریکن اور انگریزی جمہوریت اور سرمایہ داری اور جرمن و جاپان کی فسطائیت ، دونوں کی جگہ روس کی اشتراکیت ہی دنیا کو امن و مسرت کا پیغام دے سکتی ہے ۔ لیکن روس کی اشتراکیت کی عملی تصویر نے بہت جلد یہ تلخ حقیقت دنیا کے سامنے پیش کردی کہ
چو از چنگال گرگم در ربودیچو دیدم عاقبت خود گرگ بودی
روسی اشتراکیت ، برطانوی امپریلزم اور امریکی جمہوری سرمایہ داری اور جرمن نازیت سے کہیں زیادہ بنی نوع انسان کی دشمن اور اس کی آزادی اور راحت و سکون کو برباد کرنے والی ہے ۔ دنیا اب تین کیمپوں میں بٹ گئی ۔ ایک جماعت جمہوری سرمایہ داری کی حامی بن گئی ۔ اس کے خیال میں بنی نوع انسان کی حقیقی آزادی اور مسرت و اطمینان کا ضامن یہی نظام زندگی تھا ۔ دوسری جماعت فسطائیت کے حامیوں کی پیدا ہوگئی جن کے نزدیک فسطائیت ہی ، جسے وہ نیشنل سوشلزم کے نام سے موسوم کرتے تھے ، انسانی زندگی کی کفیل اور اس کی مسرت کی ضامن ہوسکتی تھی ۔ تیسری جماعت روسی کمیونزم یا بالشوزم کی حامی تھی اور وہ اس عقیدے پر راسخ تھی کہ عیشِ دوام کا راز کمیونزم میں پوشیدہ ہے ، باقی سب نظام بالکل بوسیدہ اور فرسودہ ہوچکے ہیں ۔ اس لیے وہ اس قابل ہیں کہ انہیں تلوار کی گھاٹ اتار دیا جائے ۔ اس کا لازمی نتیجہ دوسری جنگِ عظیم کی صورت میں نمودار ہوا ۔اس جنگ میں جمہوریت اور سرمایہ داری کے پہلو بہ پہلو روسی اشتراکیت نے جرمنی اور جاپانی فسطائیت کا مقابلہ کیا ۔ فریقین کے لیڈروں نے عوام کو مختلف جھوٹے وعدوں سے لڑائی پر ابھارا ۔ انسانوں نے انسانوں پر وحشی درندوں کی طرح حملے کیے اور لاکھوں بندگانِ خدا کو خاک و خون میں تڑپایا ، ھزاروں معموروں کو ویران اور ہزاروں لہلہاتی کھیتیوں اور آباد کارخانوں کو تباہ و برباد کردیا ۔ بستیاں ایسی مٹیں کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا ۔ سائنس داں اپنے معموں کو چھوڑ کر اسلحہ ساز کارخانوں میں چلے گئے تاکہ ایسے ایسے آتش بار آلات ایجاد کریں جو زیادہ سے زیادہ انسانوں کو آناً فاناً موت کے گھاٹ اتار سکیں ۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ محض اس لیے کہ بنی نوع انسان کے لیڈروں نے عامة الناس کو یقین دلایا تھا کہ وہ ان کی حریت ، فکر حریت ، عقیدئہ حریت ، تحریر وتقریر کے لیے اور ہر انسان کے لیے قوت لایموت اور ضرورت کے کپڑے ، تعلیم اور ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں اور ان کے خیال میں جرمنی ، جاپان اور اٹلی کی تباہی سے یہ سب چیزیں یکایک حاصل ہوجائیں گی ، جس طرح الہ دین کے چراغ سے چشم زدن میں ایک عظیم الشان محل تعمیر ہوجاتا تھا ۔ لیکن افسوس کہ ابھی کشتوں کے پشتے اٹھائے بھی نہیں گئے اور مقتولوں کا خون خشک بھی نہیں ہوا کہ ایک تیسری جنگ کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں جو پہلی اور دوسری جنگوں سے بہی زیادہ خوفناک اور مہلک ہوگی ۔ افسوس ! اولادِ آدم پھر اس بڑھیا کی طرح اپنی محنت سے کاتے ہوئے سوت کو تار تار کر رہی ہے ۔ فہل من مدکر افسوس باغی اور سرکش انسان کی آنکھوں پر غفلت کی ایسی پٹی چڑھی ہوئی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے بھی عبرت حاصل نہیں کرتا اور بقول غالب مرحوم
؎ حاصل نہ کیجئے دہر سے ، عبرت ہی کیوں نہ ہو
کیا یہ مقام عبرت نہیں کہ سائنس جس کا مقصد انسانی راحت و مسرت کے لیے فطرت کے مخفی خزانوں کو بے نقاب کرنا تھا اور جس نے واقعی انسان کی راحت کی افزونی کے لیے ہزاروں ایجادات کی ہیں ، آج خود غرض لیڈروں کے ہاتھوں انسانی تباہی اور ہلاکت کے آلات ایجاد کرنے کے لیے وقف ہوچکی ہے ۔ گویا انسانی علم خود انسان کی تباہی اور بربادی کا باعث بن رہا ہے ۔ دوسری جنگِ عظیم میں ایٹم بم معرض وجود میں آیا جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی کی آباد بستویوں کو پانچ منٹ میں خاک سیاہ کردیا ۔ قریباً پانچ لاکھ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور جو بچے انہیں مردوں سے بدتر بنادیا ۔ ایسی تباہی انسان کے خواب و خیال میں بہی نہ آسکتی تھی لیکن بدبخت انسان اس تباہی پر بھی سیر نہ ہوا ۔ اب اس سے بھی زیادہ خوفناک اور تباہ کن آلات ایجاد کرنے میں مشغول ہے ۔ یھ جنگ کی تیاریاں درحقیقت خودکشی کی تیاری ہے ۔

کاؤنٹ ٹالسٹائی نے مغربی دول کی مثال بھوکے بھیڑیوں سے دی ہے ۔ جن کی لاروں کی لاریں شکار کی تلاش میں ماری ماری پھرتی ہیں ۔ جب برف باری کی وجہ سے شکار ختم ہوجاتا ہے تووہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں اور جو بھیڑیے اس پیکار میں کام آتے ہیں انہیں کھانا شروع کردیتے ہیں ، جب وہ بھی ختم ہوجاتے ہیں تو وہ پھر ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ۔ بہت سے ان میں سے مارے جاتے ہیں ۔ باقی ماندہ پھر اسے شکار سمجھ کر کھانا شروع کردیتے ہیں ۔ اس طرح لڑتے لڑتے صرف دو بھیڑیے رہ جاتے ہیں اور وہ بھی لڑتے ہیں تو ایک ان میں سے مر جاتا ہے ۔ دوسرا اس کی لاش کو کھا کر چند دن گزارا کرتا ہے لیکن اس کے بعد وہ خود بھوک سے مر جاتا ہے ۔ یہی حال ان مغربی ممالک کی ہوس رانیوں کا ہے ۔ پہلے تو وہ کمزور سلطنتوں کے حصے بخرے کرکے بانٹ پر لڑتے رہے لیکن جب کمزور سلطنتیں باقی نہ رہیں تو پھر انہوں نے ایک دوسرے کو تباہ کرنا شروع کیا ۔ پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی اور آسٹریا اور ٹرکی حلیف تھے اور انگریز ، روس ، اٹلی ، فرانس ، جاپان اور امریکہ حلیف تھے ۔ انگریزوں اور امریکہ کو فتح ہوئی لیکن بجائے اس کے کہ وہ اس کی تعمیر میں ایک دوسرے کی رفاقت کا حق اداکرتے، خود ان میں مختلف متحارب فریق بن گئے ۔ انگلستان نے فرانس کے مقابلہ میں جرمنی کو مسلح کیا اور اس کے مقابلے کے لیے تیار کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی ، اٹلی اور جاپان ایک طرف جبکہ دوسری طرف امریکہ ، فرانس اور انگلستان ایک دوسرے کے حلیف بن کر برسر پیکار ہوئے ۔ ایسی خونریز لڑائی ہوئی کہ دنیا کی تمام لڑائیاں اس کے سامنے گرد ہوگئیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ فتح سے پہلے ہی آئندہ جنگ کے لیے جوڑ توڑ شروع ہوگئے اور روس ، امریکہ اور انگلستان جو ایک دوسرے کے بظاہر حلیف تھے ، ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے کے منصوبے سوچنے لگے ۔ چنانچہ صلح کے بعد امن اور صلح کی حفاظت کے لیے یو -این -او تشکیل دی گئی ۔

اگر ان باغی اور سرکش لیڈروں کو ہوش نہ آیا اور وہ اپنے پیروؤں کو جنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے تو ایک مہینے میں پچاس کروڑ آدمیوں کو موت کی نیند سلا دینا معمولی بات ہوگی ۔ قصہ مختصر مغربی ممالک اس جہنم میں جسے ان کے ہاتھوں نے بنایا ہے ، جل کر بھسم ہونے کے لیے تیار ہیں ۔
قرآنِ مجید نے اس کو '' خسر '' سے تعبیر فرمایا ہے اور سورئہ العصر میں اسی کی طرف اشارہ فرمایاہے :
( وَ الْعَصْرِ ، اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ )
''زمانہ اس امر پر شاہد ہے کہ انسان ہمیشہ گھاٹے ( خسران ) میں رہا ہے۔ ''
پھر خسر کی تعریف یوں فرمائی :
( قُلْ ھلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأَخْسَرِیْنَ أَعْمَالاً ،  اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھمْ فِیْ الْحَیَاةِ

الدُّنْیَا وَ ھمْ یَحْسَبُونَ أَنَّھمْ یُحْسِنُونَ صُنْعا ) (الکھف: ١٠٣-١٠٤)
'' کہہ دو ( اے پیغمبر ) کیا ہم تمہیں ایسے لوگوں کے احوال سے مطلع کریں جو اپنے اعمال ( کے نتائج ) کے لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان میں ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تمام مساعی دنیوی زندگی میں ہی گم ہو کر رہ گئیں اور وہ ہمیشہ اس خیال میں رہے کہ وہ نہایت ہی اچھے کام کر رہے ہیں ۔ ''
فی الحقیقت انجام ناشناس پیروانِ مغرب کی مساعی بے حاصل کی اس سے بہتر تصویر نہیں کھینچی جاسکتی اور قرآنِ حکیم نے ان کی مساعی کے نتائج و عواقب کا بطور پیشین گوئی ذکر فرمادیا  ( فھل من مدکر )کوئی ہے جوسبق حاصل کرے ؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس خسرانِ عظیم سے بچنے کی کوئی صورت بہی ہے ؟
( فَھَلْ اِلٰی خُرُوجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ) (غافر: ١١)
'' پس کیا اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ ہے ؟ ''
اور کیا نسلِ انسانی کے لیے ایک مرتبہ اس دلدل میں پھنس کر نکلنا اور لازوال ترقی کے میدان میں گامزن ہونا ممکن بھی ہے یا نہیں ؟ اور کیا سراب مغرب کا طلسم باطل ٹوٹ جانے کے بعد بنی نوع انسان کے لیے کوئی تمدن باقی رہ جائے گا جسے تمدن کہا جا سکے ؟
اس سوال کا جواب دینے سے پیشتر اس مرض کی اصلی علت معلوم کرنا ضروری ہے کیونکہ جب اصل مرض کی تشخیص ہوجائے تو اس کے علاج کے تعین میں اتنی دشواری نہیں ہوسکتی ۔
قرآنِ حکیم نے انسانی خسران کے اسباب و علل پر بہ شرح و بسط بحث کی ہے اور اس کے علاج پر بھی مفصل روشنی ڈالی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس کا دعوے ہے کہ سوائے اس کے کسی اور مذہب اور مدرسہ فکر  ( School of  Thought ) کے ہاں اس کا علاج ہے ہی نہیں ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ
( مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَھ مَعِیْشَةً ضَنْکًا ) (طحہ:١٢٤)
'' جو کوئی ہمارے ذکر ( وحی کی تعلیم ) سے منہ موڑتا ہے تو اس کی معیشت تنگ اور برباد ہوجاتی ہے ۔''
اس لیے سرمایہ داری نظام اور روسی نظام اشتراکیت ، جن کی بنیاد ہی خدا سے بغاوت پر ہے ، دنیا کو کبھی بھی تباہی سے نجات نہیں دلواسکتے بلکہ مندرجہ بالا ارشاد کے تحت دیر و زود ضرور تباہی سے دوچار ہوں گے ۔ چنانچہ ہم اس کی عملی تفسیر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ گویا موجودہ دنیا کا اصلی مرض خدا سے اعراض اور بغاوت ہے اور اس کا علاج بھی وہی ہے جو قرآنِ حکیم نے پیش کیا ہے ۔ وہ مضطرب نسلِ انسانی کے سامنے ایسی شاہراہ پیش کرتا ہے ، جس کا منتہا ، حقیقی امن اور لازوال ترقی ہے اور جس کا راستہ تعمیر و تخریب کی عزائم شکن دلدلوں سے بالکل پاک ہے ، وہ کہتا ہے :
( مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی وَ ھوَ مُؤْمِن فَلَنُحْیِیَنَّھ حَیَاةً

طَیِّبَةً وَلَنَجْزِیَنَّھمْ أَجْرَھم بِأَحْسَنِ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونََ ) (طحہ:١٢٤)
'' جو شخص نیکو کار ہو مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بخشیں گے اور ہم ایسے تمام لوگوں کو ان کے کاموں کا بدلہ خود ان کے کاموں سے بھی بدرجہا بہتر دیں گے ۔''
یعنی '' حیوة طیبہ '' جس سے مراد انسان کی وہ زندگی ہے جس کی تعمیر ، عمل تخریب سے نا آشنا ہو اور جس کی راحت ، مصیبت کی کدورتوں سے پاک اور غم و اندوہ کی آمیزش سے منزہ ہو ، صرف انہی لوگوں کا حصہ ہے جو ایمان اور عملِ صالح کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کی مساعی مثمر ہوں گی ۔
پھر عملِ صالح کی یوں تشریح فرمائی :
( فَمِنَ النَّاسِ مَن یَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا وَمَا لَھ فِیْ الآخِرَةِ مِنْ

خَلاَقٍ ، وِمِنْھم مَّن یَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِیْ الآخِرَةِ

حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ، أُولَئِکَ لَھمْ نَصِیْب مِّمَّا کَسَبُواْ وَاللّٰھ

سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) (طحہ:١٢٤)
'' اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں '' اے ہمارے پروردگار ! ہم کو دنیا میں دے '' اور ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں : '' اے ہمارے پروردگار ! ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ سے بچا '' یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی کمائی (یعنی اعمال کے نتائج سے بہرہ ور ہوں گے ) کا پھل کھائیں گے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے ۔ ''
آخری آیت قابلِ غور ہے کہ کیونکر حقیقی کامرانی کو ان لوگوں کے لیے مختص فرمایا جن کے دنیوی اعمال حسنات اخروی کے اکتساب کے لیے وقف ہوجائیں ورنہ اگر دنیوی اعمال کی تہ میں خود غرضی ، نفس پروری ، حرص و ہوا ، قوم پرستی ، وطنیت یا دوسرے سفلی جذبات کار فرما ہوں تو وہ نہ صرف غیر مثمر ہوں گے ، بلکہ اپنے کر نے والے کو بھی تباہ و برباد کردیں گے ۔ قرآن جس طریقِ زندگی کی راہنمائی کرتا ہے ، اس میں اور موجودہ طریق میں یہ اساسی اور اصولی فرق ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔ قرآن حکیم کو اپنے تجویز کردہ راستے کی صحت پر اس درجہ حتمی اعتماد ہے کہ روزانہ ہر اذان میں دو دفعہ یہ اعلان ہر مسجد کے منارے پر سے دہرایا جاتا ہے :
حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ'' کامیابی کے واحد راستے کی طرف آؤ ۔''
یعنی فلاح اور کامرانی کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور یہ وہ ہے جو قرآن کا مجوزہ راستہ ہے ، جسے اسلام کہتے ہیں ۔ اسی لیے قرآنِ حکیم نے یہ عظیم الشان دعویٰ کیا :
( ھوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَھ بِالْھدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھرَھ عَلَی الدِّیْنِ

کُلِّھ وَکَفَی بِاللَّھ شَھیْداً ) (الفتح:٢٨)
'' وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام دوسرے ادیان پر غالب کر دے اور اللہ کی گواہی اس امر کے لیے ( کہ یہ دین تمام دوسرے مذاہب اور مسالک پر غالب ہوکر رہے گا ) کافی ہے ۔ ''
اس آیت میں زبردست تحدی یعنی چیلنج ہے جو ''حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ''کی تفسیر ہے اور اس تحدی کے سچے ہونے کی منطقی دلیل بھی ہے ۔

تحدی یہ ہے کہ دنیا میں جتنے مذاہب یا مسالک شیوع پائیں گے وہ اسلام کے مقابلے میں خاسر و ناکام رہیں گے ۔ اسلام غالب آئے گا اور تمام بنی نوع انسان چارو ناچار اسی کو اپنی زندگی کا دستور العمل بنائیں گے اور دوسرے انسانی مذاہب و مسالک مغلوب و مقہور ہوجائیں گے ۔ اس کی صحت کی منطقی دلیل '' وَ کَفٰی بِاللّٰہ شَھِیْدًا ''میں پیش کی گئی ہے ۔ یعنی جب اللہ ہمارا اور کل عالم کا خالق اور رب ہے ، تو جس طرح وہ ہماری جسمانی نشو و نما کا ضامن اور کفیل ہے اسی طرح وہ ہماری روحانی ربوبیت کا بھی کفیل ہے ۔ اسی لیے انسان کی نجات اس راستے پر چلنے سے ہوسکتی ہے جو خود خالق اکبر ، ربّ العالمین نے تجویز کیا ہے ۔ یعنی اس کا خالق اور  رب ہونا ہی اس امر کی کافی شہادت ہے کہ اس کا تجویز کردہ راستہ اور دین ، بہترین راستہ اور دین ہو ۔

قصہ مختصر دنیا کی نجات صرف اسی راستے پر گامزن ہونے میں مضمر ہے جسے '' اسلام '' سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وہ خدا پرستی ، راست بازی اور عملِ صالح کی راہ ہے ۔ چنانچہ خود کمیونسٹ مفکرین کو بھی اس امر کا یقین ہو رہا ہے کہ انسانیت کو موجودہ دلدل سے نکالنے کے لیے ان کی خشک مادہ پرستی سے زیادہ ایمانِ راسخ اور صلاحیتِ عمل کی ضرورت ہے ۔ ہیرلڈ لاسکی ( Herold Loski ) جو انگلستان کا بہت مشہور مفکر اور کمیونزم کا سب سے بڑا وکیل ہے اپنی تازہ ترین تصنیف Faith, Reason and Civilization 1944 میں رقمطراز ہے :
'' میرے خیال میں کوئی صاحبِ بصیرت انسان جو ہماری موجودہ تشویشناک حالت کا غائز نظر سے مطالعہ کرے گا اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکے گا کہ ہمیں پھر سے ایسے ایمان کی ضرورت ہے جو انسانی قلب ( Mind ) میں نئی روح پھونک دے ۔ ''
ظاہر ہے کہ انسانی قلب کو گرما نے والا ، انسانی روح کو نئی زندگی بخشنے والا ایمان اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں نہیں مل سکتا ۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے :
پھر یہ غوغا ہے کہ لا ساقی شراب خانہ سازدل کے ہنگامے مئے مغرب نے کر ڈالے خموش
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>جاری ہے<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

مولانا محمد علی قصوری ماضی قریب کے نامور مفکر عالم و رہنما تھے ۔زیر نظر تحریر انہوں نے پرنس سعید حلیم پاشا کی کتاب پر بطور مقدمہ لکھی ہے ۔ مذکورہ کتاب '' اللّٰہ کی بادشاہت '' کے عنوان سے اردو میں ایک سے زائد مرتبہ طبع ہوچکی ہے ۔ مولانا قصوری کا یہ مقدمہ ١٩٤٩ء کا تحریر کردہ ہے لیکن اس کی افادیت آج بھی برقرار ہے ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر '' الواقعة '' میں اس کی اشاعت نو کی جارہی ہے ۔ تاہم مولانا کے قلم سے وہ حصہ جو خاص اس دور کے تناظر میں امریکا اور روس کے حوالے سے تھا اور جس کا تعلق پرنس سعید حلیم پاشا سے تھا ، اسے حذف کردیا گیا تاکہ اس دور میں پڑھتے ہوئے کلام کی بے ربطی کا احساس نہ ہو ۔ بقیہ تحریر من و عن مولانا قصوری کے قلم سے قارئینِ '' الواقعة '' کے لیے پیشِ خدمت ہے ۔ (ادارہ)

پیر، 24 دسمبر، 2012

دعائے قنوت اور ہم

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ابو عمار سلیم

دعائے قنوت اور ہم

دعائے قنوت ایک ایسی دعا ہے جو ہمارے آقا و مولا نبی اکرم صادق الوعد اور امین ﷺ نے ہمیں سکھائی ہے۔ یہ دعا ہر مسلمان عشا کی نماز کے آخرمیں صلوٰة وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے قبل یا رکوع کے بعد پڑھتا ہے اور چونکہ صلوٰة وتر واجب ہے اس لیے اس دعا کا پڑھنا بھی واجب ہی قرار پائے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ تمام واجب نمازوں میں صلوٰة وتر ہی وہ نماز ہے جس کی قضا پڑھی جاتی ہے اوراس قضا میں بھی تیسری رکعت میں یہ دعا پڑھی جاتی ہے۔اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ اگر کسی وجہ سے تیسری رکعت میں یہ دعا پڑھنی بھول جائے تو سجدہ سہو بھی واجب ہے۔ یہ تو رہی اس دعا کی اہمیت اور اس کے پڑھنے کی تلقین۔ ہم سب لوگ ہی اس دعا کو ہر روز ضرور پڑھتے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ اپنی دیگر نمازوں میں پڑھی جانے والی تمام سورتوں اور تسبیحات کی طرح بہت سے لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ ہم ہاتھ باندھے با ادب قبلہ رو کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ  کے ساتھ چپکے چپکے دعا مانگ رہے ہیں تو وہ دعا ہے کیا۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ بس طوطے کی طرح رٹے رٹائے جملے دہرا دیئے نہ دل اس کی طرف مائل ہے اور نہ زبان میں ان دعائیہ کلمات کی ادائیگی کے لیے کوئی جذبہ ہے۔ پھر نہ اس دعا کی ادئیگی کے بعد اس دعا کے الفاظ کا کوئی اثر ہماری زندگیوں پر مرتب ہو رہا ہے۔ گویا یہ سب ایک رسم ہے جو ادا کرنی ضروری ہے اور بغیر کسی منفعت کے ادا کی جارہی ہے۔ آئیے اس مضمون کو مزید آگے بڑھانے سے قبل دعائے قنوت اور اس کے معنی پر نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ اس مضمون پر قلم اٹھانے کی کوئی توجیہ پیش کی جاسکے۔

پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک. تدارک کی تمنا2

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

محمد احمد

پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک.  تدارک کی تمنا

قسط نمبر 2۔۔۔ قسط نمبر 1 پڑھئے
اس پر فتن دور میں ہماری ریاست کے ستونوں( مثلا ً  مقننہ ، عدلیہ ، اور منتظمہ ) کا استحکام شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ایک اظہر من الشمس عدالت عظمیٰ کے احکامات نہ ماننا اور اس کی توہین اور بے توقیری پر ملک کے مقتدر طبقہ Elitesکا ڈٹ جاناہے۔ مندرجہ بالا قرانی آیات کا بالواسطہ اشارہ عدلیہ کے ضعف ایمان کی جانب ہے۔ پس مضبوطی ایمان کی دلیل ہے۔ ایک اور قرآنی تقاضہ ملاحظہ کیجئے:
"اے محمد ﷺ ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو اپنا فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ فیصلہ تم کرو اس میں اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔"                                                ( سورة النساء : ٦٥ )

بدھ، 12 دسمبر، 2012

خطبۂ حج۔ شیخ عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ کا مسجد نمرہ سے اہم اور تاریخی خطاب

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

رپورٹ: محمد آفتاب احمد

خطبۂ حج
شیخ عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ
کا مسجد نمرہ سے اہم اور تاریخی خطاب

امام کعبہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے مسجد نمر ہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ جمہوریت سے اسلامی نظام لاکھ درجے بہتر ہے۔تمام امور میں شریعت کی پیروی لازم ہے، کسی کو اختیار نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺکے فیصلوں کے خلاف کام کرے۔آزادی اظہاررائے اورجمہوریت کے نام پر اسلام کو بدنام کیا جارہا ہے، اسلام میں جبر اور سختی نہیں پیار و محبت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں،مسلمانوں کے بہت سے دشمن ہیں، ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ دنیا میں شر کی قوتیں بالادست ہیں، ہر طرح کے تشدد کو روکنا ہوگا۔ امت مسلمہ میں اخلاقی برائیاں پیدا ہوگئی ہیں۔اللہ سے ڈریں، تقویٰ اختیار کریں، عقیدہ توحید پر چلتے ہوئے اولاد کی پرورش کریں۔مسلمان متحد ہوں، ایک دوسرے کی مدد اور معاونت کریں۔اسلامی تعلیمات کو رواج دینا ہوگا، امت مسلمہ کو اقتصادی قوت میں ڈھالنا ہوگا۔

تہذیبوں کا تصادم

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ایم ابراہیم خاں

تہذیبوں کا تصادم

''تہذیبوں کا تصادم'' بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے میں ایک متنازع نظریہ ہے۔ سیمیوئل پی ہنٹنگٹن نے اس نظریے کو عالمگیر شہرت بخشنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1993 میں معروف جریدے "فارن افیئرز" میں ایک مضمون لکھا جس میں یہ تصور صراحت سے بیان کیا گیا تھا کہ جدید دنیا میں بین الاقوامی جنگوں کی بنیاد تہذیبی اختلاف پر ہوگی۔ تہذیبوں کے تصادم کی اصطلاح برنارڈ لیوئس نے 1990 میں معروف جریدے "دی اٹلانٹک" منتھلی کے ستمبر کے شمارے میں شائع ہونے والے مضمون "دی روٹس آف دی مسلم ریج" میں دی تھی۔ ہنٹنگٹن نے جب تہذیبوں کے تصادم سے متعلق مضمون لکھا تو دنیا بھر کے سیاسی اور علمی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا۔ اپنے مضمون پر غیر معمولی ردعمل دیکھ کر ہنٹنگٹن نے 1996 میں ایک ضخیم کتاب "تہذیبوں کا تصادم اینڈ دی ری میکنگ آف ورلڈ آرڈر" کے عنوان سے شائع کی۔ اس کتاب کو بھی عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ بہت سے سیاسی مبصرین کے نزدیک جو کچھ ہنٹنگٹن نے بیان کیا اس میں زیادہ دم خم نہیں، اور کسی بھی جنگ کی اصل بنیاد مفادات کا تصادم ہے، تہذیبوں کا تصادم نہیں۔

فنا فی الآزاد. مولانا ابو الکلام آزاد کے ایک عقیدتمند کو خراج عقیدت

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

فنا فی الآزاد
مولانا ابو الکلام آزاد کے ایک عقیدتمند کو خراج عقیدت

جو تمام عقیدت مندوں سے بازی لے گیا

یہ ٹھیک ہے کہ حیاتِ ابو الکلام کا ایسا کوئی گوشہ نہیں جس میں ابو سلمان کا گزر ہوا ہو اور ابو سلمان کی زندگی کا ایسا کوئی پَل نہیں جس میں ابو الکلام کی شراکت ہو ۔ لیکن اس کے باوجود نہ ہم ابو الکلام کی زندگی سے ابو سلمان کو خارج کر سکتے ہیں اور نہ ہی ابو سلمان کی زندگی سے ابو الکلام کو نکال سکتے ہیں ۔ ابو الکلام، ابو سلمان کے لیے اور ابو سلمان، ابو الکلام کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔

اتوار، 2 دسمبر، 2012

مریم جمیلہ مغرب کے لیے اسلام کی سفیر

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ابو محمد معتصم بااللہ

مریم جمیلہ
مغرب کے لیے اسلام کی سفیر


مریم جمیلہ ( پیدائشی نام: مارگریٹ مارکس ) مغرب کے لیے اسلام کی سفیر تھیں ۔ ان کی زندگی اور ان کے رویے نے اہلِ مغرب کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اسلام ایک واقعی غیر معمولی روحانی تاثیر کا حامل دین ہے ۔ وہ اپنی ذات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی نشانی تھیں ۔ ٢٣مئی ١٩٣٤ء کو نیو یارک کے ایک یہودی خانوادے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا خاندان جرمنی سے تعلق رکھتا تھا ۔

ان کی ابتدائی زندگی نیویارک میں گزری ۔ وہ زمانۂ طالب علمی میں اسلام اور عرب تہذیب سے متعارف ہوئیں جو بعد ازاں تعارف سے بڑھ کر تاثر میں تبدیل ہوگیا ۔

اتوار، 25 نومبر، 2012

سیّد علی مطہر نقوی سے فکر انگیز گفتگو

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ابو موحد عبید الرحمن

سیّد علی مطہر نقوی سے  فکر  انگیز  گفتگو


سیّد علی مطہر نقوی موجودہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سیّد منور حسن کے خسر ہیں ۔ وہ خود بڑے متحرک و فعال شخصیت کے حامل رہے ہیں ۔ انہوں نے کئی اہم کتابیں شائع کی ہیں ۔ پاکستان میں پہلے پہل مولانا عبد الشکور فاروقی لکھنؤی اور مولانا عامر عثمانی کے افکار و نظریات کی اشاعت بھی انہیں کا حصہ ہے ۔ انہیں اپنے عہد کے کبار علماء کی ہم نشینی و ہم جلیسی کا شرف حاصل رہا ہے ۔ اس اعتبار سے ان کا سینہ قیمتی معلومات کا مخزن ہے ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ادارہ '' الواقعة '' نے ان کے ساتھ ایک فکری نشست کا اہتمام کیا ۔ اس دوران ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو رہی ۔

علامہ راغب احسن

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

سید محمد رضی ابدالی

علامہ راغب احسن

علامہ راغب احسن ایک عالم ، فاضل ، صحافی اور اپنے عہد کی کئی تحاریک میں حصہ لینے کے حوالے سے بے حد مشہور شخصیت ہیں ۔ علّامہ تحریکِ پاکستان میں شروع سے پیش پیش رہے اور اپنی پوری زندگی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں اقوام عالم میں صحیح مقام دلانے میں صرف کی ۔

کیا امّت مسلمہ کی بے حسی برقرار رہے گی؟؟؟


جریدہ ""الواقۃ" کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

 محمد اسماعیل شیرازی

کیا امّت مسلمہ کی بے حسی برقرار رہے گی؟؟؟

یہ کچھ زیادہ دنوں کا قصہ نہیں برما ( میانمار)میں مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی ۔عراق پر امریکی اور اس کے اتحادی افواج کا سلسلۂ ظلم و ستم جاری ہے ۔ افغانستان پر استعمار قابض ہے ۔ افریقہ کے مسلم ممالک عالمی طاقتوں کے ہاتھوں بے بس ہیں ۔ لیبیا کی حکومت کا تختہ الٹا جا چکا ہے ۔ نائجیریا ، مالی ، تیونس ، سوڈان ، مصر ، مراکش وغیرہا سازشوں کے نرغے میں ہیں ۔ یمن میں بد امنی ہے اور خود ہمارا اپنا ملک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردی کا شکار ہو رہا ہے ۔ بے شمار ڈرون حملے ، آئے دن کے بم دھماکے اور مسلسل جاری ٹارگٹ کلنگ ہمارا نصابِ زندگی بن گئے ہیں ۔ ان تمام تر سانحات سے بھی بڑا سانحہ یہ ہے کہ مسلم امہ پھر بھی بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں ۔

اسماء الحسنیٰ اور قرآنی سورات و آیات کے فضائل

تبصرہ کتب 7

اسماء الحسنیٰ اور قرآنی سورات و آیات کے فضائل


مؤلف :محمد صدیق صدیقی

قیمت : مؤلف اور اس کے متعلقین و مرحومین کے لیے دعائے مغفرت
تاریخ طباعت:رمضان المبارک ١٤٣٣ھ
مطبع: قریشی آرٹ پریس، ناطم آباد نمبر 2

مبصر: ابو عمار سلیم


اسماء الحسنیٰ اور قرانی سورات اور آیات کے فضائل یا عرف عام میں '' اسمائے حسنیٰ ''  جو کہ کتاب کے سرورق پر درج ہے ، جناب محمد صدیق صدیقی صاحب کی تیسری کاوش ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ اس سے قبل آپ کی پہلی کتاب  '' آئیے نمازادا کریں '' اور پھردوسری کوشش '' آئیے قیامت کے احوال سے عبرت حاصل کریں '' منظر عام پر آچکی ہیں۔ جناب صدیقی صاحب کی پیش نظر کتاب پر کچھ کہنے سے پہلے یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ آپ کسی مذہبی درسگاہ کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئر ہیں اور پاکستان اور غیر ممالک میں کئی بیش قیمت اور قابل قدر پراجیکٹ پر کام کر چکے ہیں۔

ہفتہ، 24 نومبر، 2012

مشعر باصطلاح صوفیہ و معارج و مدارج اہل سلوک

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہترجمہ : مولانا عبد العزیز صمدن فرخ آبادی

مشعر باصطلاح صوفیہو معارج و مدارج اہل سلوک

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہکا ایک ایمان افروز مکتوب

نحمدہ و نستعینھ و نصلی و نسلم عاجز سیّد نذیر حسین بخدمت شریف میرے مفتخر و محبوب مولوی سیّد عبد العزیز صمدنی سلمہ ربّہ۔

بعد السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ۔ واضح ہو کہ آپ کا خط پہنچ کر خوشی و خرمی حاصل ہوئی ۔ انبساط (کشادگی ) و انشراحِ قلب کی حالت تحریر کرکے میرے ناسور کہنہ کو تازہ کردیا ۔

اے عزیز ! تراخی و توقف شانِ باری تعالیٰ ہے ، جو چیز دیر سے حاصل ہوتی ہے ، وہ دیرپا ہوتی ہے ۔ سلطان الاذکار قرآن مجید ہے ۔ جو مجھ سے سیکھا ہے اس سے کام لیں ۔ '' فنا فی الشیخ '' میرے حضرات کا طریقہ نہیں ہے بلکہ شیخ اس لیے ہے کہ قرآن و حدیث سے ان کو جو کچھ معلوم ہوا ہے یا بزرگانِ طریقتِ صادقہ نے ان کو عطا فرمایا ہے ، وہ طالب کو پہنچادیں ۔ شیخ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ اپنا قدم حلقۂ شریعت سے باہر رکھے جو کوئی میرا حال دریافت کرے اس کو میری طرف سے کہہ دو۔

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے

جریدہ "الواقۃ" کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے 3

حقیقی و اصلی اتباع

حقیقی و اصلی اتباع تو قرآن مجید ہی کا ہے وحی متلو کو بھی قرآنی آیات ہی کے مطابق دیکھ کرواجب الاتباع سمجھتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے :
( وَ اتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَاْ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ )
'' تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں سے بہترین چیز کا اتباع کرو ۔''
( احسن ما انزل ) سے یہ مراد لینا بھی صحیح ہے کہ جتنی کتابیں جتنے صحیفے اگلے انبیاء علیہم السلام پر اُترے تھے سب سے احسن جو کتاب اب اتری ہے اس کی اتباع کرو گویا اس کی مخاطبت اہل کتاب کی طرف ہے یہ مفہوم بھی ضرور صحیح ہے مگر اہل کتاب کی طرف مخاطبت نہ اس آیت سے پہلے ہے نہ اس آیت کے بعد البتہ عام مخاطبت ہے ۔ لیکن یہ مفہوم زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ جس مسئلے میں وحی قرآنی اور وحی غیر قرآنی دونوں متفقہ فتویٰ دیں وہی ( احسن ما انزل ) ہے ۔ بخلاف اس کے کہ اس متفقہ فتویٰ کو چھوڑ کر اسی مسئلے میں صرف آیت سے ایک نیا مفہوم نکالا جائے جو وحی غیر قرآنی سے مختلف یا اس کے خلاف ہو جہاں تک ہوسکے ہر مسئلے میں وحی قرآنی کے ساتھ وحی غیر قرآنی کا اتباع بھی پیشِ نظر رہے مگر یہ روش بڑی غلط ہوگی وحی غیر قرآنی کے اتباع کے لیے قرآنی آیات کو کھینچ تان کرکے اس وحی غیر قرآنی کے تابع رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ وحی قرآنی محفوظ بحفاظت خیر الحافظین تبارک و تعالیٰ ہے اور وحی غیر قرآنی کی حفاظت امت نے کی ہے ظاہر ہے کہ امت کی حفاظت اللہ کی حفاظت کی برابری نہیں کرسکتی ۔